پاکستان

طاہر خان ہزارہ: محکوموں و مظلوموں کی مؤثر آواز خاموش ہو گئی

ڈاکٹر عالیہ حیدر

جینے کا حق وہی لوگ ادا کرتے ہیں جو مردانہ وار حق و صداقت کے راستے پر چلتے ہیں۔ ایسے لوگ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں اور تاریخ میں مثال بن جاتے ہیں۔ جو لوگ سچائی اوربہادری سے جیتے ہیں، ظالم کو للکارنے اور مظلوموں کا ساتھ دینے کا عظم و ہمت رکھتے ہیں وہی انسان زندہ ہونے کا حق ادا کرتے ہیں۔ بزدلوں جھوٹوں اور مکاروں کی زندگی شرمندگی اور خواری کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جو لوگ اپنی ذات، قوم، قبیلہ اور نسل پرستی سے نکل کر پوری انسانیت اور بالخصوص محکوم و مظلوم اقوام کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے ہیں وہ لوگ پھر صرف اپنی قوم اور قبیلے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ہر مظلوم و محکوم انسان کے رہنما بن جاتے ہیں اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرتے ہیں۔

طاہر ہزارہ انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ گذشتہ اتوار کو وہ کوئٹہ میں وفات پا گئے۔

طاہر ہزارہ نے اپنے نڈر سیاسی انداز سے اور اس ملک کے مقتدر طبقات کے ظلم اور جبر کے خلاف اپنی مسلسل سیاسی جدوجہد سے ملک کے ہر باشعور سیاسی کارکن (چاہے وہ کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو) کے دل میں اپنی جگہ بنائی تھی۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز عوامی نیشنل پارٹی سے کیا۔ بعد ازاں، ہزارہ پروگریسو فورم کی بنیاد رکھی۔

ایک ایسی صورتحال میں کہ جب پشتون بلوچ مشترکہ صوبہ سخت مشکلات سے دو چار ہے، یہاں کے رہنے والے اقوام کے وسائل پر دوسرے قابض ہیں اور یہ صوبہ بد ترین بدامنی کا شکار ہے، اظہار رائے پر پابندیاں ہیں، صحافت کی آزادی نہیں، بلکہ سیاست پر بھی پا بندی ہے، ایسے حالات میں طاہر ہزارہ کی موت کی خبر یقینا اس پشتون بلوچ مشترکہ صوبے کا بہت بڑا نقصان ہے۔

طاہر ہزارہ محکوم پشتون بلوچ صوبے کی ایک مؤثر آواز تھے۔ وہ اس ملک کے مقتدر طبقات کے ظلم اور جبر کے خلاف ہر وقت آواز بلند کرتے۔ مسئلہ چاہے بلوچ مسنگ پرسنز کے حوالے سے ہوتا، مظلوم پشتون کے حق کا ہوتا یا پھر ہزارہ برادری کی نسل کشی کا، وہ ہر مظلوم کے ساتھی تھے۔

طاہر ہزارہ سیاست اور سیاسی عمل پر یقین رکھنے والے انسان تھے۔ اس ملک کے جابر حکمرانوں کے خلاف تمام محکوم اقوام پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور ہزارہ برادری کے مشترکہ سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے۔

سیاست پر قدغن، بد ترین غربت، بے علمی، قبائلیت اور سرمایہ دارانہ طرز پر سیاست کرنے والے اس پشتون بلوچ صوبے میں طاہر ہزارہ جیسا علمی انسان اور سیاسی کارکن ایک غیر معمولی مثال تھی۔ طاہر ہزارہ کی موت سے جو سیاسی خلا پیدا ہوا ہے، اس کو پورا ہونے میں بہت مدت لگے گی۔

طاہر خان ہزارہ کے جنازے میں شریک نوجوانوں کا جم غفیر بلوچستان کے ہر طبقہ فکرسے تعلق رکھتا تھا۔ اس موقع پرسیاسی و سماجی تنظیموں اور انکے رہنماؤں کی تقریروں نے ثابت کر دیا کہ طاہر خان ہزارہ ایک زندہ انسان تھے وہ ایک توانا آواز تھے، ان کا نظریہ اور بیانیہ درست تھا اور ان کی جدوجہد اور سیاسی موقف سچائی اور حقیقت پر مبنی تھا۔

آج بیشک طاہر خان ہزارہ ہم میں نہیں رہے مگر اس کا فکر و فلسفہ اور سیاسی راستہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا اور ان کے تاریخی کردار کو نسلوں تک یاد رکھا جائے گا۔

ڈاکٹر عالیہ حیدر حقوق خلق موومنٹ سے ہیں۔ وہ صحت عامہ اور ماحولیات جیسے مسائل کے حل کے لئے متحرک ہیں۔