خبریں/تبصرے

طالبان کی محبت میں مولانا نے چاند بی بی کے واقعہ کو جھوٹ قرار دیدیا

حارث قدیر

بی بی سی اردو کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں تبلیغی جماعت کے اہم رہنما مولانا طارق جمیل نے ایک مرتبہ پھر طالبان کی جانب سے خواتین پر تشدد اور سرعام کوڑوں کی سزاؤں کو جعلی قرار دیتے ہوئے یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے کہ سوات میں چاند بی بی نامی نو عمر لڑکی کو کوڑوں کی سزا دینے والا واقعہ ڈرامہ تھا اور وہ مجموعی مسائل پر بات کرتے ہیں، انفرادی مسائل پر وہ بات نہیں کرتے ہیں۔

جھوٹ بولنے کا ایک نیا طریقہ یہ ہے کہ سازشی تھیوری کا سہارا لے لو۔ اس طرح مولانا نے کمال سرعت سے ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر اپنا آپ طالبانی وحشت کے خلاف بات کرنے سے بچا لیا۔

یہاں ہم ماضی میں طالبان اور ان کے ہم نواؤں کی جانب سے خواتین کو دی گئی سزاؤں کے چند واقعات کو زیر بحث لاتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ طالبان نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے کس طرح کا رویہ اختیار کیا ہے اور مولانا جیسے تبلیغی مبلغین ہمیشہ ان واقعات کو جعلی قرار دیتے رہے یا ان پر خاموشی اختیار کرتے رہے ہیں۔ پہلے چاند بی بی کے واقعہ کی ہی بات کر لیتے ہیں۔

2 اپریل 2009ء کو موبائل فون سے بنی ہوئی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک 17 سالہ برقع پوش لڑکی پر ایک شخص کوڑے برساتے ہوئے نظر آتا ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں لڑکی پر 34 سے زائد کوڑے برسائے جاتے ہیں جس کے بعد اسے ایک عمارت کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ ’ڈان‘ کے مطابق طالبان کے اس وقت کے ترجمان ’مسلم خان‘ نے کوڑے مارنے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ لڑکی کو زنا کی سزا دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان غلط لباس پہننے والی لڑکیوں کو بھی سزائیں دینگے۔

اس ویڈیو کو پاکستانی چینلوں نے بھی بار بار دکھایا۔ پہلی مرتبہ پاکستان میں طالبان کو بیک فٹ پر جانا پڑا۔ اس وجہ سے طالبان کے سرپرست اور حامی پریشان ہو گئے لہٰذا حسب معمول سازشی تھیوریوں کا سہرا لیا گیا۔ انصار عباسی اور اوریا مقبول جان کو میدان میں اتارا گیا جو یہ جھوٹ پھیلانے لگ کہ یہ ویڈیو جعلی ہے۔ اس شور میں مسلم خان کا بیان دب کر رہ گیا۔

رواں سال 13 اپریل کو افغانستان کے صوبہ ہیرات کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی جس میں دو طالبان نے صرف 80 سکینڈوں میں ایک خاتون کی کمر پر 80 کوڑے برسائے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ویڈیو فوٹیج 2020ء کے اواخر کی تھی۔ ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ لوگوں کے ایک جھرمٹ میں ایک طالبان قاضی کی قیادت میں خاتون کو ایک کھلے میدان میں لے جایا گیا اور اس پر دو افراد نے کوڑے برسائے۔ خبررساں ادارے کے مطابق اس خاتون پر غیر قانونی تعلقات قائم کرنے کا الزام تھا، کیونکہ اس خاتون نے ایک لڑکے سے فون پر بات کی تھی۔ لڑکے کو بھی گرفتار کر کے طالبان کے قید خانے میں بند کیا گیا تھا۔

اگست2015ء میں بھی ایسی ہی ایک ویڈیو افغانستان کی منظر عام پر آئی تھی جس میں ایک خاتون پر ایک کھلے میدان میں سیکڑوں لوگوں کے سامنے 100 کوڑے برسائے گئے۔ ’ٹربیون‘ کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان نے میڈیا کہ بتایا کہ اس خاتون کے بھی کسی کے ساتھ تعلقات تھے اور شریعت کے قانون کے تحت انہیں سزا دی گئی ہے جو دیگر کیلئے بھی عبرت کا باعث ہو گی۔

یہ طالبان کی جانب سے خواتین پر سرعام تشدد کے محض چند واقعات ہیں، ان کے علاوہ کثیر تعداد میں ایسے واقعات ہیں جن کی ویڈیوز منظر عام پر آچکی ہیں، ملکی اور عالمی میڈیا پر ان واقعات کو رپورٹ کیا جا چکا ہے۔ ہزاروں واقعات ایسے بھی ہیں جن کو کہیں رپورٹ نہیں کیا گیا۔

واضح رہے تبلیغی جماعت طالبانائزیشن اور عسکریت پسندی کی ریکروٹمنٹ کا سب سے اہم ذریعہ رہی ہے۔ ابتدا میں کم پڑھے لکھے، معاشرے میں ناکامیوں اور محرومیوں کا شکار ہونے والے یا دھوکہ دہی سے دولت حاصل کرنے والے احساس گناہ کے شکار افراد کیلئے تبلیغی جماعت ایک سب سے بہترین پناہ گاہ کے طورپرسامنے آتی ہے۔ بعد ازاں آہستہ آہستہ نوجوانوں کو جہاد کے راستے پر راغب کیا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت اسکے زیر انتظام علاقوں میں دیوبندی مسلک سے عسکریت پسندی کی طرف راغب ہونے والے نوجوانوں کی کثیر تعداد نے تبلیغی جماعت سے ہی عسکریت پسندی کی جانب رغبت اختیار کی۔

دوسری طرف مولانا نے ایک مرتبہ پھر جس ایک واقعے کو دبانے کیلئے جعلی قرار دیکر طالبان کی وحشت سے اپنا آپ بچانے کی کوشش کی ہے نہ تو وہ ایک واقعہ جعلی تھا اور نہ ہی وہ واحد واقعہ تھا کہ جس کی بنیاد پر طالبان کی جانب سے دی گئی سزاؤں سے متعلق کوئی رائے قائم کی جا سکے۔

مولانا طارق جمیل انفرادی واقعات پربات کرنا پسند نہیں کرنا چاہتے اور بقول انکے وہ سب سے زیادہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہیں لیکن خواتین کے قتل عام، گھریلو تشدد، طالبان کی جانب سے خواتین پرپابندیوں، انہیں چار دیواری میں قید کئے جانے، کاروکاری، ونی سمیت دیگر وحشیانہ روایات کے نتیجہ میں رونما ہونے والے واقعات کے خلاف بات نہیں کرتے، طالبان کی جانب سے جہاد النکاح کیلئے خواتین کی فہرستیں مرتب کرنے جیسے واقعات پر بھی نہیں بات کرتے، البتہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ خواتین کے تنگ لباس اور کو ایجوکیشن کی وجہ سے قدرتی آفات آتی ہیں، زلزلے آتے ہیں، خدائی قہر نازل ہوتے ہیں۔

درحقیقت یہ وہ طریقہ ہائے کار ہیں جن کے ذریعے سے اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جاتی ہے اور لوگوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ نظام میں خرابی لوگوں کی ’دین سے دوری‘کی وجہ سے ہے، حکمرانوں کی لوٹ مار کی بجائے عوام اپنے مسائل کے خود ذمہ دار ہیں، لہٰذا انہیں تبلیغ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور مسائل و مظالم کے خلاف سوچنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

دوسرے لفظوں میں مولانا طارق جمیل سمیت ان کے دیگر ہم نوا حکمران طبقات کے ہم نوا بن کر اس نظام کی لوٹ مار اور حکمرانوں کی حکمرانی اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کیلئے ممد و معاون کا کردار ادا کرتے ہیں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔