دنیا

طالبان کی دھمکیوں کے باوجود آج افغان صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالے جائیں گے

فاروق سلہریا

آج افغانستان میں اگلے افغان صدر کے چناؤ کے لئے ملک بھر میں پولنگ ہو گی۔ امریکی قبضے کے بعد یہ چوتھا صدارتی انتخاب ہو گا۔ موجودہ صدر اشرف غنی کی جیت کے قوی امکانات موجود ہیں مگر اہم بات یہ ہو گی کہ کیا ہارنے والے امیدواروں کی جانب سے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کیا جائے گا یا ملک میں ایک نیا بحران جنم لے گا۔

صدر غنی کے علاوہ اہم امیدواروں میں عبداللہ عبداللہ ہیں جو اس وقت چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز ہیں۔ گذشتہ صدارتی انتخابات میں وہ مسلسل ہارتے رہے ہیں۔ پچھلی بار ان کے مسلح حامیوں نے انتخابی شکست کے بعد ایک بحران کی صورتحال پیدا کر دی تھی۔ لگ رہا تھا کہ ملک ایک نئی نوع کی خانہ جنگی میں دھنس جائے گا لیکن پھر ان کے لئے (بطور رشوت) چیف ایگزیکٹو کا عہدہ بنایا گیا تا کہ بحران کو ٹالا جا سکے۔ ماضی میں ان کوزیادہ تر تاجک اور ازبک ووٹروں کی حمایت حاصل رہی ہے۔

نوے کی دہائی میں ”کابل کا قصاب“ کہلانے والے بدنامِ زمانہ جنگی سالار گلبدین حکمت یار جو کہ ایک پشتون ہیں بھی اہم تصور کئے جا رہے ہیں۔ ایک زمانے میں انہیں سی آئی اے، آئی ایس آئی اور سعودی عرب کی حمایت حاصل تھی۔ موصوف جماعت اسلامی پاکستان کے بھی ہیرو تھے۔ طالبان کی کابل کی جانب پیش قدمی روکنے کے لئے جماعت نے حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کی صلح کروانے کی بھی کوشش کی (حکمت یار کی محبت میں کچھ دیر جماعت اسلامی طالبان کو ایک سازش سمجھتی رہی۔ طالبان کے لئے جماعت کی محبت تھوڑی دیر سے جاگی تھی)۔ طالبان دور میں حکمت یار پس منظر میں چلے گئے۔ اشرف غنی کے صدر بننے کے بعد وہ امریکہ سے شیر و شکر ہو کر 2017 ء میں کابل وارد ہوئے۔

چوتھے اہم امیدوار احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ولی مسعود ہیں۔ عبداللہ عبداللہ اور احمد ولی مسعود کا علیحدہ علیحدہ انتخاب لڑنا اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ نام نہاد شمالی اتحاد میں کئی دراڑیں آ چکی ہیں اور وہ قصہ پارینہ ہو چکاہے۔ ان کی وجہ سے تاجک ووٹ تقسیم ہو گا۔

عبدالطیف پدرام بھی ایک اہم امیدوار ہیں۔ ممبر پارلیمنٹ ہونے کے علاوہ وہ وفاقی ریاست کی بات کرتے ہیں۔ ماضی میں وہ پی ڈی پی اے کے پرچم دھڑے کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔ ان کے جیتنے کا تو کوئی امکان نہیں مگر شہری مڈل کلاس کا ایک حصہ ان کو ووٹ ضرور دے سکتا ہے کیونکہ وفاقی ریاست کا نعرہ پشتونوں کو اتنا متاثر تو شاید نہ کرے مگر غیر پشتون اس سے ضرور متاثر ہو سکتے ہیں۔

رحمت اللہ نبیل جو نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکورٹی (این ڈی ایس)، افغانستان میں جاسوسی کا ادارہ، کے سربراہ رہ چکے ہیں، وہ بھی اہم امیدوار تصور کئے جا رہے ہیں۔

انتخابی مہم طالبان کی دھمکیوں اور حملوں کی وجہ سے بہت محدود رہی۔ عوامی اجتماعات سے گریز کیا گیا۔ طالبان نے رائے دہندگان کو دھمکی دی ہے کہ وہ ووٹ دینے گھر سے مت نکلیں کیونکہ پولنگ سٹیشنز پر حملے کئے جائیں گے۔ ان حملوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا مگر یہ دھمکیاں تو طالبان ہر انتخاب کے موقع پر دیتے ہیں۔ لوگ اس کے باوجود ووٹ دینے نکلتے رہے ہیں۔ لوگوں کے ووٹ دینے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں (قومیت، قبیلہ، جنگی سالاروں کی خوشنودی، کچھ ملنے کی امید) مگر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ انتخابات میں لوگوں کے ووٹ ڈالنے کی شرح مسلسل کم ہوئی ہے۔

آج کا انتخاب اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ اس الیکشن سے پہلے طالبان کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے جو کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ انتخابات میں لوگوں کی کم یا زیادہ شمولیت کا اثر طالبان کے ساتھ مستقبل کے ممکنہ مذاکرات کو بھی متاثر کرے گا۔ بہر حال پولنگ کے عمل میں ووٹروں کی قابلِ ذکر شمولیت یقیناطالبان کے لئے ایک دھچکا ہو گی۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔