خبریں/تبصرے

طالبان کے پاس سینگ ہیں سر نہیں

فاروق سلہریا

پاکستان ہی نہیں، مغرب کی حکومتیں اور سامراجی میڈیا بھی مسلسل اس کوشش میں لگا ہے کہ طالبان کو ’سادہ لباس مگر ذہین‘بنا کر پیش کیا جائے۔

اس شرمناک کھیل میں پاکستانی حکمران طبقہ اور میڈیا تو پہلے سے شامل تھے۔ مقصد تھا کہ طالبان کی ری برانڈنگ کر کے چین اور روس سے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔ امریکہ تو ایبٹ آباد آپریشن کے بعد ان پر یقین کرتا نہیں۔ اب تو یہ لوگ خود کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ دنیا ان کے بیانئے پر اعتبار نہیں کر تی۔ ستر سال سے جو لوگ جھوٹ بول رہے ہوں، ان کے توبچے ان پر یقین نہیں کرتے…دنیا کیسے کرے گی۔خیر۔

دریں اثنا جس طرح سے حالات نے افغانستان میں کروٹ لی اور افغانستان میں جو انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، اس پر پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ گو پاکستان میں تو فتح مکہ کا جشن منایا جا رہا ہے (ویسے اس حساب سے 2001ء کو ہجرت مدینہ قرار دینا چاہئے تھا) مگر سویڈن جہاں سے راقم یہ مضمون ارسال کر رہا ہے، میں باقی مغربی ممالک کی طرح عام لوگوں میں زبردست تشویش ہے۔

اسی طرح امریکہ کے اپنے اندر بائیڈن کے پاوں تلے سے زمین سرک رہی ہے۔ اور تو اور ٹرمپ نے بھی تنقید شروع کر دی ہے جو اس جاری المئے کا اہم لکھاری ہے۔ سویڈن میں میڈیا اور سوشل میڈیا میں تو کچھ لوگ یہ تک کہہ رہے ہیں کہ عراق کی طرح امریکہ کو فوجیں واپس بھیجنی پڑیں گی۔ اس زبردست عوامی رد عمل کی وجہ سے یہاں کی حکومتیں اور مین سٹریم میڈیا اب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ وہ طالبان نہیں۔

سویڈن کی مثال ہی لیجئے۔

15 اگست کو سویڈش ٹی وی پر (رات نو بجے) خبروں میں وزیر خارجہ اور سویڈش افغان کمیٹی (جو بہت بڑی این جی او ہے اور افغانستان میں کام کے حوالے سے مشہور ہے) کے سابق صدر کا انٹرویو کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے تو توقع ظاہر کی کہ طالبان بہتر چہرا سامنے لائیں گے مگر ثانی الذکر کا کہنا تھا کہ طالبان میں دو دھڑے ہیں ’انتہا پسند‘ دھڑا اقتدار میں آیا تو کچھ نہیں بدلے گا مگر معتدل مزاج دھڑا سامنے آیا تو وہ کچھ حقوق کا احترام کریں گے۔

یہی حال امریکہ اور برطانیہ کے میڈیا کا ہے۔

روس اور چین تو بے شرمی سے طالبان آمریت کو پہلے دن تسلیم کرنے پر تیار بیٹھے ہیں۔ انہیں تو اپنے عوام کو یہ جواب بھی دینے کی ضرورت نہیں کہ افغان عوام کا کیا بنے گا (آمریت کے اپنے مزے ہیں)۔

یہ سب بیانئے جھوٹ پر مبنی ہیں۔ پہلی بات: طالبان ابھی تک کابل میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں مگر گذشتہ دو ماہ سے وہ جہاں قبضہ کرتے، وہاں روایتی بربریت کا اظہار کرتے۔ خود اقوام متحدہ اور ہیومن رائٹس واچ طالبان کی جانب سے ہونے والے جنگی جرائم پر پچھلے دو ہفتے میں بیان دے چکے ہیں۔ گذشتہ روز جلال آباد میں افغان جھنڈا لگانے پر تین نوجوان طالبان کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ قندہار میں چار سابق فوجی کمانڈر قتل کئے گئے۔ (تفصیلات آج کے ’روزنامہ جدوجہد‘ کے شمارے میں دیکھئے: مدیر)۔

دوم (اور یہ بات زیادہ اہم ہے)، طالبان کا تو مطلب ہی یہ ہے ”بربریت ہماری سیاست ہے“۔ ایک افغان دانشور کے مطابق طالبان کے سینگ ہیں، سر نہیں۔ مراد یہ کہ ان کے پاس سوچ یا نظریہ اور فلسفہ نہیں، صرف بربریت ہے۔ اس سینگ (بربریت) کے استعمال سے وہ لوگوں کو خوف میں مبتلا رکھتے ہیں۔ لوگوں کو خوف میں مبتلا رکھ کر انہیں ڈسپلن کرنا ان کی اصل حکمت عملی ہے۔ اس لئے وحشیانہ سزائیں (ناک اور ہاتھ کاٹنا، سنگسار کرنا، سر عام پھانسیاں، ہیلی کاپٹر سے گرانا) دی جاتی ہیں تا کہ خوف زیادہ سے زیادہ پھیلے۔ وہ مخالف کو عبرت کا نشان بنا دینا چاہتے ہیں تا کہ باقی لوگ بھی عبرت پکڑیں اور مزاحمت نہ کریں۔

اگر طالبان سادہ لباس بن کر سیلفیاں لینے لگے تو جتنی آسانی سے وہ کابل میں گھسے ہیں، اسی آسانی سے لوگ انہیں نکال باہر کریں گے۔ یہ بات طالبان کو خود بھی پتہ ہے۔ ان کے پاس سر بھلے نہ ہو لیکن لوگوں کو مطیع بنا کر رکھنے کا تیس سالہ تجربہ ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔