خبریں/تبصرے

محسن داوڑ نے ’نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ‘ کے نام سے نئی پارٹی قائم کر لی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سابق فاٹا سے آزادحیثیت سے منتخب ہونے والے ممبر قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن جاوید داوڑ کی سربراہی میں نئی سیاسی جماعت قائم کر لی گئی ہے۔

نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) کے نام سے اس نئی جماعت کے قیام کا گزشتہ روز پشاور میں اعلان کیا گیا۔ ’فرائیڈے ٹائمز‘کے مطابق نئی پارٹی کے قیام کے سلسلہ میں پہلے باضابطہ اجلاس میں پارٹی کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔ آرگنائزنگ کمیٹی میں محسن داوڑ بطور مرکزی آرگنائزر، جمیلہ گیلانی بطور سیکرٹری اطلاعات، مزمل شاہ بطور جنرل سیکرٹری جبکہ عبداللہ ننگیال، ابراہیم خان، ہارون بازئی، انور سلیمان خیل، اعزاز اسلم اور طارق وزیر خان بطور ممبران شامل ہیں۔

پارٹی کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی گزشتہ چند ماہ کے دوران رہنماؤں، دوستوں اور ہمدردوں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد تشکیل دی گئی۔

پارٹی کے اعلان کے موقع پر سرخ اور سیاہ رنگ کے پرچم کے علاوہ پارٹی منشور کا بھی اعلان کیا گیا۔ منشور کے مطابق این ڈی ایم ایک انصاف پسند، پرامن، روادار اور انسان دوست معاشرہ قائم کرنے کیلئے جدوجہد کرے گی، جس میں شہری بنیادی آزادیوں بشمول آزادی اظہار، انجمن سازی کی آزادی اور قانون کے تحفظ سے لطف اندوز ہو سکیں۔

پارٹی منشور میں میں کہا گیا ہے کہ این ڈی ایم کے بنیادی اصولوں میں سے ایک سیکولر، وفاقی جمہوری پارلیمانی نظام کا فروغ ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ریاست کو تمام مذاہب اور عقائد کو تعصب، امتیازی سلوک یا مداخلت کے بغیر تحفظ اور سہولیات فراہم کرنی چاہئیں، ریاست اور حکومت کے اختیارات مطلق نہیں ہو سکتے اور وہ آئین پاکستان کے تحت بیان کردہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرنے کے پابند ہوں گے۔

منشور میں کہا گیا ہے کہ ہم وسائل کی تقسیم میں چھوٹے صوبوں کی تاریخی پسماندگی کو بھی تسلیم کرتے ہیں، پاکستان ایک کثیر القومی، کثیر الثقافتی اور کثیر المذہبی ملک ہے جس میں تاریخی شناخت اور شعور کی مختلف اکائیاں ہیں جنہیں تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ”ہماری جماعت تمام صوبوں کے مابین ایک نیا ترقیاتی معاہدہ قائم کرنے کی کوشش کرے گی جس کا مقصد مساوات پر مبنی ایک منصفانہ نظام قائم کرنا ہو گا“۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ این ڈی ایم ایک حقیقی وفاقی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے جس میں مرکز خارجہ امور، کرنسی، دفاع اور بین الصوبائی رابطے کے چار محکموں کو کنٹرول کرتا ہے۔ کسی بھی دوسرے اختیارات کو مشترکہ مفادات کونسل سے منظور کیا جانا چاہیے، باقی تمام اختیارات صوبوں کو سونپے جائیں۔

منشور میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آئین، اس کے جمہوری نظام اور سیاسی عمل کو غیر منتخب اداروں کی طرف سے خطرہ لاحق ہے۔

این ڈی ایم سویلین آئینی بالادستی کو برقرار رکھنے پر یقین رکھتی ہے اور پارلیمنٹ اور منتخب حکومت کو فیصلہ سازی اور اختیارات سونپنے کے لیے پرعزم ہے۔

منشور میں ذکر کیا گیا ہے کہ این ڈی ایم خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خلاف ہے اور اپنے خواندگی پروگرام میں لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کا وعدہ کرتی ہے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ سالانہ قومی بجٹ کا کم از کم چار فیصد تعلیم پر خرچ ہونا چاہیے۔

پارٹی امید کرتی ہے کہ اخراجات کی ترجیحات کا جائزہ لے کر غیر پیداواری اخراجات کو ختم کرے گی اور تعلیم، صحت اور انسانی ترقی پر زیادہ سے زیادہ وسائل خرچ کرے گی۔

منشور کے مطابق پارٹی معاشی خود کفالت اور ترقی کو ملک کی آزادی کے لیے ضروری سمجھتی ہے۔ ریاست کی معاشی پالیسیوں کا بنیادی مقصد معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ عوام کی اکثریت کو غربت سے نکالنا ہے۔ براہ راست ترقی پسند ٹیکس کی پالیسی کو فروغ دینے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔

پارٹی نے ملک بھر کے نوجوانوں سے بھی وابستگی کی ہے۔ منشور کے مطابق ”ہماری پارٹی سیاسی، سماجی، معاشی، آئینی اور قانونی حکمت عملی بنائے گی تاکہ ملک کی اکثریت کو یعنی نوجوانوں کو سیاست، ریاست اور معاشرے میں ان کا جائز کردار دیا جا سکے“۔

منشور میں کہا گیا ہے کہ ملک کے لیے ایک آزاد خارجہ پالیسی بنائی جائے گی، جو دوسرے ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے لیے کوشش کرے گی۔