دنیا

افغانستان کو ’امپائرز کا قبرستان‘ کہنا امریکی شکست کا بوجھ افغان عوام پر لادنا ہے

الیگزینڈر ہینی خلیلی

ترجمہ: سلیم شیخ

طالبان نے جس برق رفتاری سے افغان حکومت کو اقتدار سے باہر کر کے ملک پر قبضہ اور امریکہ کے 20 سالہ مشن کی ناکامی کا جلوس نکالا اسنے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔

سولہ اگست کو اپنی تقریر میں امریکی صدر جو بائیڈن نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے یوں کہا جیسے کہ یہ تو ہونا ہی تھا ان کے بقول اس وقت (افغانستان میں) جو ہو رہا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ”چاہے جتنی بھی فوجی طاقت استعمال کی جائے ایک مستحکم،متحد اور محفوظ افغانستان کا حصول ناممکن ہے اور اسی لیے تاریخ میں افغانستان کو سلطنتوں کے قبرستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے “۔

صدر بائیڈن کے یہ الفاظ افغانستان کی تاریخ کے بارے میں انکی جہالت اور امریکہ کی خود غرضی اور مطلب پرستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

افغانستان کو سلطنتوں کا قبرستان کہنا، افغانستان کی ہزاروں سالوں پر محیط تہذیب وتمدن کو محض جھٹلانا ہی نہیں بلکہ یہ رویہ امریکہ کے اس سامراجی غرور کا کھلا اظہار ہے جس کا واحد مقصد اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ افغانستان کے لوگوں پر ڈال کر خود کو ہر ذمہ داری سے بری الذمہ کرنا ہے۔

لیکن آخر اس بد نام زمانہ اصطلاح جو کہ نہ صرف بنیادی طور پر غلط بلکہ شدید نسل پرستانہ بھی ہے کا ماخذ اور مطلب کیا ہے؟

بظاہر یہ اصطلاح سن کر ایسا لگتا ہے کہ یہ ماضی میں ہوئیں لاتعداد ناکام مہم جویوں سے حاصل تجربوں کا نچوڑ ہو، مگر حقیقت یہ ہے کہ رواں صدی سے قبل اور یوں کہئے کہ 2001ء میں افغانستان پر امریکی لشکر کشی سے قبل تک اس اصطلاح کا دور دور تک کوئی وجود نہیں تھا۔

درا صل یہ اصطلاح پہلی دفعہ سال 2001ء میں فارن افیئرز نامی جریدے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سامنے آئی جسکا عنوان تھا ’افغانستان: سلطنتوں کا قبرستان‘ (Afghanistan: Graveyard of Empires)۔ اس مضمون کے لکھاری تھے پاکستان میں امریکی سی آئی اے کے سابقہ اسٹیشن چیف ملٹن بیرڈن جن کا اس مضمون میں کہنا تھا کہ امریکہ کو افغانستان پر قبضہ کے معاملہ میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ نہ صرف سویت یونین اور برطانیہ بلکہ سکندر اعظم، چنگیز خان اور دنیا کی دیگر عظیم افواج کی افغانستان کو فتح کرنے اور اڑیل افغان قبائل پر حکومت کر نے کی کوششیں ہمیشہ ناکام ہوئیں ہیں۔

بیرڈن کا یہ استدلال جہاں ایک طرف اسی گھسے پٹے مستشرقین والے(Orientalist) روایتی استدلال کی بازگشت ہے جو افغانستان کی پوری تاریخ کو محض حملہ آوروں کی تاریخ میں تبدیل اور وہاں کے لوگوں کو پسماندہ اور وحشی ثابت کر کے وار آن ٹیرر کے نعرے پر یقین رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ وہیں اس استدلال کا افغانستان کی حقیقی تاریخ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ مثال کے طور پر سکندر اعظم اور چنگیز خان نے نہ صرف افغانستان کو فتح کیا بلکہ ان کے جانشینوں نے صدیوں تک وہاں حکمرانی کی اور وہاں کے رسم و رواج اور مذاہب کو بھی اپنایا۔ یہ تاریخی حقیقت، افغانستان سلطنتوں کا قبرستان، کے مضحکہ خیز دعوے سے کوسوں دور ہے۔

افغانستان در حقیقت وہ جگہ ہے جہاں ماضی میں سلطنتیں پھلی پھولیں جس کی اہم وجہ تھی افغانستان کا جغرافیائی طور پر ایک ایسی جگہ پر ہونا ہے جہاں ایشیا کے کئی ممالک کی سرحدوں کا ایک دوسرے کے ساتھ سنگم ہوتا ہے۔ جغرافیائی طور پر افغانستان کی یہ ہی وہ دفاعی اور جنگی اہمیت ہے جس نے افغانستان میں ایسی عظیم سلطنتوں کو جنم دیا جنہوں نے دنیا کی تاریخ میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ مثلاً 30 سے 350 عیسوی میں قائم کشان کی سلطنت کا دارالحکومت بگرام شہر تھا جس کی سرحدیں وسطی ایشیا اور شمالی انڈیا تک پھیلی ہوئیں تھیں اور اسکے روم، انڈیا اور چین سے تجارتی روابط تھے۔

کشان سلطنت کے دور حکمرانی کے دوران یونانی و ہندوستانی تہذیبوں اور بدھ مت کے زیر اثر، افغانستان ایک ایسی شاندار تہذیب اور فنون لطیفہ کا مرکز تھا جس کے بارے میں آج یہ یقین کیا جاتا ہے کہ بدھا کے قدآدم مجسمے سب سے پہلے کشان دور میں ہی سامنے آئے۔

اسی طرح غزنوی سلطنت جو کہ ایک ترک مسلم سلطنت تھی 977ء سے 1186ء میں قائم رہی اور اس کے دور میں تعمیرات اور فنون لطیفہ کی خوب سرپرستی ہوئی۔ اس دور میں اور اسلامی تحریریں، ادب اور شاعری فارسی زبان میں لکھی جانے لگیں جسکی ایک مثال شاہنامہ فردوسی ہے جسے فارسی کے شاعر فردوسی نے لکھ کر اسے سلطان محمود غزنوی کے نام منسوب کیا۔

یہ ہی صورتحال 1370ء سے 1526ء کے دوران قائم تیموری سلطنت دوران رہی۔ اس دور میں بھی تعمیرات اور فنون لطیفہ کے شعبوں میں بے حد ترقی ہوئی اور سلطنت کادارالحکومت ہرات شہر کاریگروں، صناعوں اور علما سے بھرا رہتا تھا۔ ہرات کی اس گہما گہمی کے بارے میں مغل شہنشاہ بابر نے کہا تھا کہ ہرات میں ذرا ٹانگیں بھی سیدھی کروتو کسی نہ کسی شاعر کو جا لگتی ہیں۔

انیسویں صدی میں یورپی استعماری طاقتوں کی نظر افغانستان پر پڑی۔ برطانیہ اپنی نوآبادی انڈیا کو روس کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے سے بچانا چاہتا تھا اور اس مقصد کے لیے برطانیہ نے افغانستان کو ایک ایسی جگہ کے طور پر دیکھنا شروع کیا جو روس کی انڈیا کی جانب پیش قدمی کی صورت میں ایک رکاوٹ یا بفر اسٹیٹ کا کام دے۔

گو کہ عمومی طور پر تاریخ داں افغانستان میں برطانیہ کی مداخلت کو ایک ناکام تجربے سے تعبیر کرتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ پہلی اینگلو افغان جنگ (1839-42ء) میں برطانیہ کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر دوسری اینگلو افغان جنگ (1878-80ء) میں برطانیہ کا پلڑا بھاری رہا تاہم فتح کے باوجود برطانیہ نے افغانستان پر براہ راست حکمرانی کرنے کے بجائے وہاں اپنی پسند کا حکمران یا امیر مقرر کرکے اس کا الحاق یعنی اس کی سرحدوں میں رد و بدل کر کے افغانستان کو تقریباً ایسی دست نگر ریاست یا کلائنٹ اسٹیٹ میں تبدیل کردیا جو برطانیہ کے مفادات کا تحفظ کرسکے۔ افغانستان کی اس حالت کا خاتمہ 1919ء میں اسکی آزادی کے ساتھ ہوا۔

سلطنتوں کا قبرستان کا بیانیہ اس بات کی وضاحت کرنے میں بھی ناکام رہتا ہے کہ بادشاہت کی پانچ دھائیوں یعنی 1929ء سے 1978ء کے دوران باوجود عالمی طاقتوں کے درمیان جاری مقابلہ بازی کے افغانستان میں امن کیوں قائم رہا؟

1920ء میں امان اللہ خان کی بادشاہت سے شروع ہونے والی شاہی حکومتیں نہ صرف افغانستان کو آزاد رکھنے میں کامیاب رہیں بلکہ ساتھ ہی اسے ایک ماڈل نیشن سٹیٹ بنانے میں بھی کوشاں رہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں جب ہمسایہ ملک ایران میں برطانوی اور روسی فوجیں قابض تھیں، افغانستان مکمل طور پر آزاد اور غیر جانبدار رہنے میں کامیاب رہا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد،جب مشرقی وسطی کے ممالک مثلا مصر،شام اور عراق میں اقتدار کی کشمکش اور اندرونی سازشوں اور بغاوتوں کا سلسلہ جاری تھا اور پڑوس میں انڈیا اور پاکستان کئی جنگیں لڑ چکے تھے، افغانستان میں استحکام رہا۔

انیس سو تہتر میں ہونے والی بغاوت، جس کے نتیجے میں بادشاہت کا خاتمہ اور جمہوریہ افغانستان کی بنیاد رکھی گئی، کے دوران بھی کوئی خون خرابہ نہیں ہوا۔ ہاں مگر 1978ء کے مارکسی ثور انقلاب اور بعد ازاں سویت یونین کی مداخلت کے بعد سے افغانستان پچھلی چار دہائیوں سے جاری جنگوں اور تنازعات کے باعث تباہی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔

چنانچہ اگر ماضی بعید کو بھلا کر بھی صرف ماضی قریب میں افغانستان کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ نظر یہ کہ افغانستان ہمیشہ اندرونی تنازعات اور افراتفری کا شکار رہا ہے، مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔

اصل میں افغانستان کی آج جو تصویر کشی کی جاتی ہے اسکا جنم 1979-89ء کے دوران سوویت یونین کی فوج کشی اور پھر شکست سے ہوا جس نے لوگوں کے ذہن میں یہ بٹھادیا ہے کہ افغانستان کو فتح نہیں کیا جا سکتا ہے جس کی ایک مثال سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے الفاظ ہیں ”(مجاہدین نے) سادہ سے ہتھیاروں سے جدید ہتھیاروں کا مقابلہ کیا“۔

درحقیقت جیسا بتایا جاتا ہے یہ اتنا سادہ اور یکطرفہ مقابلہ بھی نہیں تھا جیسا کہ ہالی وڈ کی 1988ء میں ریلیز ہونے والی مشہور فلم ”ریمبو تھری“ میں دکھایا گیا ہے۔

مجاہدین کو سوویت فوجوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان کی طرف سے اربوں ڈالرز کی خفیہ مدد ملی چنانچہ جہاں یہ بات صحیح ہے کہ افغانستان میں صرف سوویت یونین ہی واحد سپرپاور تھا جس کی فوجیں موجود تھیں وہیں یہ بات بھی جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ وہاں دوسری سپر پاورز بھی موجود تھیں۔

گویا سوویت یونین کی ہزیمت اس بات کا نتیجہ نہیں تھی کہ افغان سر کش لوگ ہیں اور جس کی وجہ سے جنگ کا نتیجہ اس کی ہار کی صورت میں ہی نکلنا تھا بلکہ اصل میں یہ سرد جنگ کے زمانے میں ہونے والی جوڑ توڑ کا پھل تھا۔ درحقیقت افغان سوویت تنازعہ کوئی انوکھی لڑائی نہیں تھی بلکہ (سرد جنگ کے زمانے میں) امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جاری دیگر دوسری پروکسی جنگوں کا ہی ایک تسلسل تھی جو جنوب مشرقی ایشیا سے لے کر وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئیں تھیں اور یہ تنازعہ بھی دیگر جنگوں کی طرح ہی طویل اور خون و خشت سے بھرپور تھا جس میں ان خطوں کے مقامی لوگ سویت یونین اور امریکہ کے ایما پر ایک دوسرے سے برسر پیکار تھے جس میں لاکھوں مرنے اور دربدر ہونے والے آج کے افغانوں کی طرح ہی مقامی لوگ ہی تھے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ افغانستان کی اس پیچیدہ تاریخ کے باوجود پچھلی دو دہائیوں میں سلطنتوں کے قبرستان کے بیانیہ کو نہ صرف مقبولیت ملی بلکہ اس کا استعمال ایک قدیم ضرب المثل کے طور پر ہونے لگا۔ مثال کے طور پر گو کہ بیرڈن کے 2001ء مضمون سے قبل سلطنتوں کے قبرستان کی اصطلاح کے استعمال کا کہیں کوئی سراغ نہیں ملتا، اس کے باوجود صحافی لارنس رائیٹ نے اپنی 2006ء میں چھپنے والی کتاب ’The Looming Tower: AlQaeda and the Road to 9/11‘ میں یہ دعوی کیا کہ اصل میں اسامہ بن لادن نے دارالاسلام اور نیروبی میں 1998ء میں امریکی سفارتخانوں کو بم سے اڑانے کے احکامات اس لئے دیے کہ وہ امریکہ کو ورغلا کر افغانستان میں گھسیٹنا چاہتا تھا کیونکہ افغانستان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ سلطنتوں کا قبرستان ہے۔

اسی طرح 2010ء میں دو کتابیں سامنے آئیں جن میں سے مصنف سٹھ جونز کی کتاب کا عنوان تھا’ In the Graveyard of Empires: America’s War in Afghanistan‘۔

جبکہ ڈیوڈ ایسبی کی کتاب کا عنوان تھا Afghanistan: Graveyard of Empires: A New History of Borderland. دونوں کتابوں میں گو کہ سلطنتوں کے قبرستان کے بیانیہ پر کوئی براہ راست بحث نہیں کی گئی مگر اس بیانیہ کے پیچھے چھپے اصل خیال کو ابھارا گیا کہ درا صل امریکی فوجی قبضہ تو کوئی مسلہ نہیں بلکہ افغانستان کی تعمیر نو میں اصل مشکل ہے افغانستان کا خطہ اور اس کے اڑیل اور سرکش لوگ۔

اس پس منظر میں کسی کو کوئی تعجب نہیں ہو نا چاہیے کہ صدر بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کو جائز قرار دینے کے لیے اسی بیانیہ کا سہارالیا۔ اس تقریر میں، انہوں نے وہاں موجود امریکی مشن کو ”دھائیوں میں صدیوں کی تاریخ کو تبدیل کر ایک پائیدار اور نئے افغانستان کی تعمیر کی کوشش“ قرار دیا اور اس مشن کی ناکامی کی ذمہ داری افغان عوام پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے (انھیں)…اپنے مستقبل کا تعین کرنے کا ہر موقع فراہم کیا لیکن ہم انھیں اس مستقبل کے لیے لڑ نے کے لئے جزبہ اور لگن نہیں دے سکتے تھے“۔

یہ چونکا دینے والا تبصرہ شدید تکلیف دہ ہے۔ گزشتہ بیس سالوں میں طالبان سے لڑتے ہوئے تقریباً 66 ہزار افغان فوجیوں نے اپنی جانون کی قربانی دی ہے۔ بائیڈن کی منطق کے مطابق، افغانستان میں امریکی مشن اس کی فوج کی طرف سے وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا کرپٹ جنگجوؤں کی حمایت کرنے کی وجہ سے ناکام نہیں ہوا، بلکہ اس کی وجہ افغان خود ہیں جو خود کو اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانے کا اہل ثابت کرنے میں ناکام رہے۔

اس بیانیہ کی خوبصورتی یہ ہے کہ ایک طرف تو آپ اپنا سینہ ٹھوک کر اپنی بڑائی کی بھڑک مار سکتے ہیں اور دوسری جانب ہر ناکامی کی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر تمام الزامات سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں چنانچہ آپ بڑی معصومیت سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی دوسری عظیم سلطنتوں کی طرح افغانستان میں ناکام ہوگئے اور جو وہاں کی حالت ہے وہ وہیں کے اڑیل اور سرکش لوگوں کی وجہ سے ہے۔

آخرکار ہمارے ساتھ بھی وہی ہوا جو سکندر اعظم کے ساتھ ہوا تھالہٰذا ہمارا کوئی اخلاقی فرض نہیں ہے ان تمام افغانوں کے لیے جنہوں نے طالبان کے انتقام کے خطرہ کے باوجود بحیثیت ترجمان، صحافی، سرکاری اہل کار کے طور پر آنے والے بہتر کل کے وعدے پر اپنی اور اپنے پیاروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔

اور پھر اس بیانیہ کی کرامت کو دنیا نے چشمِ عبرت سے دیکھا کہ کس طرح مغربی ممالک کے باشندوں کا پوری حفاظت کے ساتھ انخلا ہو رہا تھا اور افغان باشندے ایئرپورٹ کے رن وے پر بے یارو مددگار کھڑے تھے۔ انہی میں سے کچھ مایوسی کے عالم میں ان جہازوں سے لٹک کر فرار ہونے کی کوشش میں اپنی جان گنوا رہے تھے۔

یقینی طور پر آج موقع ہے جب ہمیں پلٹ کر وار آن ٹیرر پر ایک نظر ڈالنی چاہیے کہ آخر کیوں اور کیسے یہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی۔

ہم ماضی میں دیکھتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کرسکتے ہیں آخر 2001ء میں افغانستان پر لشکر کشی اور قبضہ کا خیال کیوں غلط تھا ہمیں اس بات پر بھی بحث کرنی چاہیے کہ افغانستان کے لوگوں کی محض ایک غلط، نسل پرستانہ اور مبالغہ پر مبنی شبیہ سے ہٹ کر دیکھنے کی صورت میں افغانستان پر تسلط اور حکومت کی صورت میں کیا مشکلات ہو سکتی تھیں۔

افغانستان میں سامراجی ناکامیوں، جو آج کی ہوں یا تاریخی، کو نیوی منچنڈا نے اپنی کتاب، ’Imagining Afghanistan‘ میں ایسے بیان کیا ہے گویا یہ ابدی ہیں اور اس کی وجہ جغرافیائی افغان المیہ ہے۔

اس طرح کی بات معاملہ کی وضاحت کے بجائے اسے مزید مبہم اور گدلا دیتی ہے اور مزید کسی سنجیدہ تجزیہ کی گنجائش نہیں چھوڑتی کہ آیا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا 20 سالہ مشن یوں پوری طرح سے کیوں ناکام ہوا اور اس ناکامی سے کیا سبق سیکھا جا سکتا ہے…اور سب سے بڑھ کے: اسکے بعد کسی اخلاقی ذمہ داری کا جواز بھی نہیں رہ جاتا۔ مثلا ً یہ کہ ہمارے افغانستان پر تسلط اور بعدازاں انخلا سے افغانستان میں کیا نقصان ہو گا؟ کیونکہ اس دلیل کے مطابق جب ہم وہاں گئے تو افغانستان پہلے ہی سے تباہ تھا۔

”سلطنتوں کا قبر ستان“ جیسے گھسے پٹے فقرے کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ یہ جملہ ایک پیچیدہ معاملہ کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ لگتا ہے جیسے وہ صدیوں کے تجربہ کا نچوڑ ہو۔

یہ ضروری ہے کہ ایک آسان جواب تلاش کرنے کی کوشش سے بچا جائے اور یہ جا نا جائے کہ آخر ہم اس انجام تک کیسے پہنچے اور ساتھ ہی اسکے ذمہ داروں کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ افغانستان میں امریکی ناکامی کی یقینا وجوہات ہیں اوراس بات پر بھی کوئی شبہ نہیں کہ آنے والے برسوں تک ان وجوہات پر بحث کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تاہم، جیسا کہ تاریخ واضح کرتی ہے، افغانستان ”سلطنتوں کا قبرستان“ کسی بھی طور پر ان وجوہات میں شامل نہیں ہے۔