خبریں/تبصرے

3 ہزار گھر زبردستی خالی کرانے پر ہزاروں افراد کا طالبان کے خلاف مظاہرہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار میں ہزاروں مردو خواتین سڑکوں پر نکل آئے اور طالبان کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔ یہ مظاہرین ریٹائر افغان فوجیوں کے خاندانوں سے رہائشی مکانات خالی کرنے کے طالبان کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

طالبان کی جانب سے احتجاج کی کوریج کرنے والے ایک صحافی کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ منگل کے روز مظاہرین صوبائی گورنر کے دفتر کے گیٹ پر جمع تھے ا ور شہر کی مین شاہراہ بلاک کر دی گئی تھی۔

افغان میڈیا ادارے ’خامہ‘ کے مطابق طالبان کے صوبائی عہدیداروں نے حال ہی میں افغانستان کی قومی فوج کے ایک ڈویژن کے تمام خاندانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 3 ایام کے اندر اندر اپنی رہائش گاہیں خالی کر دیں۔

طالبان کی جانب سے اس فیصلے کے پس پردہ وجہ کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ رہائش گاہیں افغانستان میں عام ہیں جو پولیس ہیڈکوارٹر اور فوج کے اڈوں کے ساتھ واقع ہیں اور ریٹائر فوجی جوانوں کے خاندانوں کو الاٹ کی جاتی ہیں۔

صوبہ قندھار میں بہت زیادہ ایسی رہائش گاہیں ہیں اور کچھ خاندان گزشتہ 30 سالوں سے آباد ہیں جنہیں اب صرف 3 ایام میں گھر خالی کرنا ہونگے۔ مجموعی طور پر 3 ہزار خاندانوں کو رہائش گاہیں خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔

اس دوران ایک مقامی صحافی نے مظاہرے کی کوریج کرتے ہوئے طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں مارپیٹ کا دعویٰ کیا ہے لیکن تاحال طالبان نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔