خبریں/تبصرے

روس: کمیونسٹ پارٹی پارلیمانی انتخابات میں دوسرے نمبر پر

لاہور (جدوجہد رپورٹ) روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی پارٹی نے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی ہے جبکہ روسی کمیونسٹ پارٹی دوسری بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے۔ تاہم ولادی میر پیوٹن کی پارٹی پر دھاندلی کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں، جنہیں الیکشن کمیشن مسترد کر رہا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ پیوٹن کے سب سے بڑے ناقدین کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا اور جعلی ووٹ کاسٹ کئے جانے اور جبری ووٹنگ کے الزامات بھی عائد کئے گئے۔

انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان جمعہ کے روز کیا جائے گا، ابھی تک الیکشن کمیشن کی جانب سے 99 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی کے مطابق ولادی میر پیوٹن کی روس یونائیٹڈ پارٹی 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، جبکہ روسی کمیونسٹ پارٹی پارٹی کو تقریباً 19 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

انتخابات میں ٹرن آؤٹ 52 فیصد رہا ہے جو روسی عوام کی انتخابات میں کم دلچسپی کو ظاہر کر رہا ہے۔

حاصل ہونے والے ووٹ بینک کے مطابق پیوٹن کی پارٹی کو ملکی پارلیمنٹ کی 450 نشستوں میں سے 2 تہائی سے زیادہ نشستیں حاصل ہو جائیں گی۔ تاہم پارلیمنٹ میں آسانی سے اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے باوجود پیوٹن کی پارٹی کی مقبولیت میں ماضی کے انتخابات کے مقابلے میں 4 فیصد حمایت کھوئی ہے۔ دوسری طرف روسی کمیونسٹ پارٹی کی حمایت میں 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیوز میں مختلف افراد کو بیلٹ باکس میں کاغذات بھرتے دیکھا گیا ہے۔