ماحولیات

ماحولیاتی بحران: 2050ء تک پاکستان میں پانی ختم ہو سکتا ہے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) اقوام متحدہ کے انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق جس تیزی کے ساتھ گلیشیرز پگھل رہے ہیں، 2050ء تک پاکستان میں پانی مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے۔

الجزیرہ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی پی سی سی کی رپورٹ کے مطابق 2021ء میں ریکارڈ گرم ترین اور تباہ کن موسم گرما رہا ہے۔ شمالی یورپ اور چین سیلابوں کی زد میں رہے جبکہ امریکہ جنگلات کی آگ کی لپیٹ میں رہا اور مختلف خطے ہیٹ ویو کی زد میں رہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ گلوبل وارمنگ بحران کے نتائج بڑی حد تک ناقابل واپسی ہیں۔ ہم جو کچھ بھی کر سکیں ہمیں ماحولیاتی تباہی کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ کیونکہ قطبی اور پہاڑی گلیشیر آنیوالی دہائی اور صدیوں تک ناقابل تلافی حد تک پگھلتے رہیں گے۔

پاکستان میں قطبی آئس کیپس کے باہر کرہ ارض پر سب سے زیادہ گلیشیر ہیں جو سب سے قدیم اور زرخیز وادیوں کو سیراب کرتے ہیں۔ پاکستان کی 2016 ملین آبادی کا 75 فیصد دریائے سندھ کے کنارے آباد ہے اور اس کے 5 بڑے شہر ی مراکز صنعتی اور گھریلو پانی کیلئے مکمل طو رپر دریا سندھ پر منحصر ہیں۔ تاہم آئی پی سی سی کی رپورٹ کے مطابق 2050ء تک پاکستان کو اس پانی کے اہم ذخیرے کے خاتمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان واحد کم آمدنی والا ملک نہیں ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم بہت سے ممالک کے برعکس پاکستان اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے کم سے کم کوشش بھی نہیں کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے علاوہ کوئی دوسرا ملک میٹھے پانی کیلئے غیر قطبی برف پر انحصار نہیں کرتا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کو اس قدر نقصان اٹھانے کا اندیشہ ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود حکومت پاکستان اس بحران سے یکسر لاعلم دکھائی دیتی ہے۔