پاکستان

جبری گمشدگیوں کاعالمی دن: 2019ء تک پاکستان میں 6474 کیسز دائر

ربیعہ باجوہ

30 اگست جبری گمشدہ متاثرین سے اظہار یکجہتی کا عالمی دن ہے۔ اگر عا لمی سطح پر جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پوری دنیا اور خاص طور پر پسماندہ معاشروں میں ریاست طاقتور ہوتی جا رہی ہے اور شہری بنیادی حقوق سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بھی ریاستی سطح پر شہریوں کے آئینی حقوق محفوظ نہیں اور صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ آزدای اظہار رائے جو کہ جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہے اسے ریاستی سطح پر بری طرح کچلا جارہا ہے۔

عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان میں جبری گمشدیوں کا مسئلہ 9/11 کے بعد شروع ہوا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی کا یہ مسئلہ اس سے قبل بھی موجود تھا اور ایک رپورٹ کے مطابق 1985ء سے 2006ء تک تقریباً 118 گمشدہ افراد کے کیسز ریکارڈ پر موجود تھے اور 2019ء تک لا پتہ افراد کے حوالے سے قائم انکوائری کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق ایسے کیسز کی تعداد 6474 تھی۔ جن میں سے 3434 کیسوں کو حل کیا جا سکا۔

پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد میں نہ صرف وہ لوگ شامل ہیں جن پر دہشت گردی، کالعدم تنظیموں اور مذہبی انتہا پسند گروں سے روابط کے سنگین الزامات ہیں بلکہ سیاسی مخالفین، اقلیتی اور قوم پرست جماعتوں سے وابسطہ سیاسی کارکن، انسانی حقوق کی پر امن جدوجہد کرنے والے شہری، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، دانشور، پروفیسرز، صحافی اور خاص طور پر ترقی پسند تحریکوں سے منسلک افراد بھی شامل ہیں۔ جن میں سے کچھ واپس آگئے، کچھ کی مسخ شدہ لاشیں ملیں اور کچھ تا حال لا پتہ ہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ جو شہری اس مسئلے پر آواز اٹھاتے تھے بعض اوقات ان کو بھی غائب کر دیا گیا۔ درحقیقت جبری گمشدیوں کا مقصد آوازوں کو خاموش کروانا ہے اور معاشرے میں خوف کی فضا پیدا کرنا ہے تاکہ کوئی شہری طاقت کے ایوانوں سے سوال نہ کر سکے اور جس نظام جبر کے تحت کچھ طاقتور اداروں سے منسلک اشرافیہ کے مفادات ہیں ان پر کوئی زد نہ آئے۔ جتنی خاموشی اور زبان بندی ہو گی وسائل کی لوٹ مار اور سرمایہ دارانہ نظام کی لوٹ کھسوٹ اتنی کامیابی سے جاری رہے گی۔

پاکستان میں آئین کے آرٹیل4، 8 اور 25 کے تحت تمام انسانوں کو برابری کی سطح پر قانون کا تحفظ حاصل ہے جبکہ آرٹیکل 9 کے تحت زندہ رہنے کا حق اور آرٹیکل 19 کے تحت آزادی اظہارِ رائے کو بنیادی انسانی حق تسلیم کیا گیا ہے۔

ماضی میں سپریم کورٹ میں مسنگ پرسنز کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار چوہدری نے کھلی عدالت میں برملا کہاکہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ پاکستان کی ایجنسیاں َشہریوں کو لا پتہ کرنے میں ملوث ہیں۔ بعد ازاں 60 اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو فارغ کر دیا گیا اور سر عام چیف جسٹس کے بال کھینچ کر ان کی تضحیک کی گئی۔ اسی طرح مسنگ پرسنز کے کیسز کرنے والے وکلا کو بھی جبری لا پتہ کیا گیا جیسے کرنل انعام ایڈووکیٹ جنھیں ایجنسیوں نے اغوا کیا تھا جو پنڈی ہائی کورٹ کے حکم پر ایک ماہ کی حراست کے بعد برآمد ہوئے اور حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انھیں آرمی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک افسوسناک بات یہ ہے کہ ان پر دوران حراست نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی تشدد کیا جاتا ہے اور آزاد ہونے کے بعد یہ لوگ اپنے ساتھ ہونے والے جرم پر بات نہیں کرتے حتیٰ کہ بہت سے متاثرہ افراد مسنگ پرسنز کمیشن کے سامنے بھی خاموش رہے بلکہ مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ سینٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق جو لاپتہ افراد کے معاملے کو دیکھ رہی تھی کے سامنے خود لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم سرکاری کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال جبری گمشدگیوں میں ملوث افراد کے نام نہ لے سکے اور کہا کہ اگر ان کیمرہ کاروائی ہوتی تو وہ سینٹ کو ان ناموں سے آگاہ کرتے۔

ان افراد کے اہل خانہ جس تکلیف اور اذیت سے گزرتے ہیں اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور بہت سے خاندان ایسے ہیں کہ جن کے پاس کسی قسم کی دادرسی کے لیے وسائل موجود نہیں۔ جبری گمشدگی کو انسانیت کے خلاف جرم ڈیکلیر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے بین الاقوامی قوانین موجود ہیں جن میں انسانی حقوق کا عالمی چارٹر سے لیکر UN Convention, Declaration on the Protection of all Persons from Enforced Disappearance  تک موجود ہیں۔ انسانی حقوق کے چارٹر اور دیگر متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں جن کی پاکستان توثیق کر چکا ہے ان کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ جب کشمیر میں انڈین آرمی کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی اور جبری گمشدیوں کی پاکستان مزمت کرتا ہے تو اپنے شہریوں کے ساتھ ایسے مظالم کا کیا جواز ہے؟ لاپتہ افراد کے حوالے سے ریاستی بیانیہ یہ ہے کہ یہ لوگ ریاست کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہیں لیکن اگر ایسا ہے تو ان افراد کو قانون کے تحت ضرور سزا ملنی چاہیے جبکہ آئین کا آرٹیکل ’10A‘ تمام شہریوں کو فیئرٹرائیل کا حق دیتا ہے جسے کسی قیمت پر چھینا نہیں جا سکتا۔

کوئی ریاست مہذب اور جمہوری نہیں کہلا سکتی جب تک وہ خود آئین اور قانون کی پاسداری نہیں کرتی۔ جب تک پاکستان کی ریاست انسانی حقوق کا تحفظ نہیں کرے گی ملکی سالمیت خطرے میں اور ترقی خواب رہے گی۔ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ جبری گمشدہ تمام افراد کو فوری بازیاب کروائے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

متاثرہ افراد اور خاندانوں کی مکمل قانونی اور مالی مدد کی جائے اور لاپتہ افراد کے حوالے سے موثر قانون سازی کی جائے اور فوری طور پر جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کنونشن کی توثیق کی جائے
اسکے ساتھ دوران حراست تشدد (Custodial Torture) کے خلاف UN Convention against Torture and other Cruel, Inhuman Treatment and Punishment (UNCAT) جسکی پاکستان 2010ء میں توثیق کر چکا ہے کے تحت قا نون بنایا جائے۔ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے قانون کے تحت نیا کمیشن بنایا جائے جو با اختیار ہو جبکہ اچھی شہرت اور انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والے افراد کو اس میں شامل کیا جائے۔

ربیعہ باجوہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ہیں۔ وہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی فنانس سیکرٹری رہی ہیں اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں سرگرم ہیں۔