خبریں/تبصرے

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی راولپنڈی یاترا: عمران خان تناؤ میں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) معروف صحافی اسد علی طور نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ جمعہ سے قبل وزیر اعظم عمران خان کو ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کرنا ہے۔ انکی خواہشات پر مبنی ڈی جی کی تعیناتی نہ ہونے اور اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی راولپنڈی میں اہم ملاقاتوں کے بعد وزیر اعظم شدید تناؤ کا شکار ہیں۔

اپنے تازہ ’وی لاگ‘میں انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شدید تناؤ کی کیفیت میں ہیں اور سٹاف کے ساتھ بھی بات بات پر غصہ کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ابتدا میں ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کیلئے خود ہی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے نام پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ تاہم جب آرمی چیف نے تبادلے کے وقت ان سے ملاقات کی تو وزیر اعظم انکار ہو گئے، جس کے بعد وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان معمولی تلخی بھی ہوئی۔ تلخی کا ماحول بننے کے بعد ہی آرمی چیف نے بذریعہ آئی ایس پی آر تبادلوں سے متعلق اعلان کروایا۔

انکا کہنا تھا کہ اب وزیر اعظم کی انٹرویو اور محض ملاقات کی خواہش بھی رد کر دی گئی ہے۔ جمعہ کو سمری ارسال کر دی گئی تھی، جس میں 3 نام موجود ہیں۔ تاہم نوٹیفکیشن لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کا ہی جاری کیا جانا ہے۔

اسد طور کا کہنا تھا کہ این سی او سی کے اجلاس میں وزیراعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی تینوں موجود تھے تاہم کورونا وبا کے علاوہ کوئی گفتگو نہیں ہوئی، کوئی گرمجوشی اس اجلاس میں نہیں دیکھی گئی، تینوں رہنماؤں کے درمیان ماحول انتہائی سرد نظر آیا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے پیر کے روز راولپنڈی کا دورہ کیا اور اہم ملاقاتیں بھی کیں۔