خبریں/تبصرے

تین ملاقاتوں اور انٹرویو کی بجائے وزیر اعظم ایک ہی امیدوار سے مل سکے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) معروف صحافی اسد علی طور کا دعویٰ ہے کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن آج جمعہ کے روز جاری کر دیا جائیگا، تاریخ دس دن بعد کی ڈالی جائیگی اور آرمی چیف کو ہٹانے کے منصوبے سے انہیں خود ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے آگاہ کیا۔

اپنے وی لاگ میں انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے اعلان کردہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے گزشتہ روز پہلے راولپنڈی میں آرمی چیف سے ملاقات کی اور بعد ازاں شام کو وزیر اعظم عمران خان سے بھی غیر رسمی ملاقات کی۔

انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم ملاقات کے بعد کافی خوش ہیں اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اور وزیر اعظم میں بہت سی مشترکات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ وزیر اعظم نے انہیں یہاں تک کہا کہ وہ انہیں ہی ڈی جی آئی ایس آئی چاہتے تھے صرف اعتراض اتنا تھا کہ سمری تھرو پراپر چینل آئے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ ایک آدھ دن میں سمری پر دستخط بھی کر دینگے۔

اسد علی طور کا ذرائع کے حوالے سے کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید 22 اکتوبر کو بطور کور کمانڈر پشاور چارج سنبھال لیں گے، اسی روز لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی کی سمری پر بھی دستخط ہو جائیں گے، تاہم ان کی عہدہ سنبھالنے کی تاریخ 8 یا 10 دن بعد کی ڈالی جائیگی۔ ان 8 یا 10 ایام تک آئی ایس آئی کے 6 میجر جنرلوں میں سے کوئی ایک بطور قائمقام ڈی جی آئی ایس آئی ذمہ داریاں نبھائے گا۔

انہوں نے اپنے وی لاگ کے آخر میں یہ بھی بتایا کہ آرمی چیف کو عہدے سے ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنانے کا منصوبہ آرمی چیف تک پہنچنے کا ذریعہ خود فیض حمید ہی بنے ہیں۔ انہوں نے آرمی چیف سے مل کر بتایا کہ عمران خان نے انہیں بتایا ہے کہ انہیں اگلا آرمی چیف تعینات کیا جائیگا اس لئے تیاری شروع کریں۔