شاعری

قحط

عامر کریم

خبر یہ تھی کہ
زندانوں میں قحط پڑا ہے
سچائی کے سازوں کا
جیون کی آوازوں کا
خبر  یہ تھی کہ
ہتھ کڑیاں سونی پڑی ہیں
دست قاتل کو جھٹکنے والے
ہاتھوں کے لئے
بیڑیاں راہ دیکھتی ہیں
ان قدموں کی
جو مستقبل کی اوور چلیں
خبر یہ تھی کہ
دار کی رسیاں
اکتا گئی ہیں
مردہ گردنوں کو جھلاتے ہوئے
سو میں، جیتے جاگتے
ایک مجسم عہد کی صورت
مستقبل کی آواز لگانے
آ پہنچا ہوں
سچائی کے گیت سنانے
آ پہنچا ہوں
زندانوں کا قحط مٹانے
آ پہنچا ہوں

عامر کریم کا تعلق پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین سے ہے۔