پاکستان

روز 14 ارب قرضہ لے کر نیا پاکستان نہیں بنتا: بحران کا حل صرف سوشلزم ہے

عمران کامیانہ

افواہوں، خدشات اور قیاس آرائیوں کا ایک انبار ہے۔ لیکن کہیں کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ جہاں کرکٹ میچوں میں جیت سب سے بڑی خوشخبری بن جائے وہاں انسانی روح کس قدر ویرانی اور افلاس کا شکار ہو گی۔ زندگیاں مسلسل تنگی، عدم استحکام اور غیر یقینی کیفیات سے دوچار ہیں۔ جو اس نظام کے اپنے بحران کا ناگزیر اظہار ہے جس کے تحت اس معاشرے کو چلایا جا رہا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں کے دوران نہ صرف معاشی بلکہ سماجی، اخلاقی اور ثقافتی زوال پذیری کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ پہلے صرف چوری ڈاکے کی خبریں عام ہوتی تھیں‘ اب بچوں اور عورتوں کے ریپ اور قتل جیسے بہیمانہ جرائم ایک معمول بن چکے ہیں۔ ایک خراب نظام کو ٹھیک طریقے سے چلانے کی کوشش کرنے والوں کا وہی حال ہوتا ہے جو عمران خان اور اس کی حکومت کا ہوا ہے۔ لیکن اس نظام کی ناکامی و نامرادی کی سزا پورا سماج بھگت رہا ہے۔ زہریلی رجعت کے تسلط کو ایک باقاعدہ سرکاری پالیسی بنا کے تواتر دیا جا رہا ہے۔ یہ محض حکمرانوں کے مذہبی عقائد کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس نظام کے دوام کی بنیادی شرط بن چکی ہے۔ اس سیٹ اپ سے لوگوں کی نفرت، حقارت اور بیزاری اتنی بڑھ گئی ہے کہ ان کی سوچوں اور نفسیات کو مسلسل منتشر اور مجہول رکھے بغیر بغاوت کو زائل نہیں کیا جا سکتا۔ ضیاالحق نے تو اس عمل کا محض آغاز کیا تھا جسے عمران خان ایک زیادہ مکروہ شکل میں انتہاﺅں تک پہنچا رہا ہے۔

شاید ہی کوئی حکمران اتنے مختصر عرصے میں عدم مقبولیت کی ایسی گہرائیوں میں گرا ہو گا۔ مہنگائی کی حالیہ لہر نے اس حکومت سے وابستہ رہی سہی مجبوری کی امیدوں کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ سوشل اور مارکیٹنگ ریسرچ سے وابستہ ایک ادارے کے تازہ سروے کے مطابق جولائی 2021ءمیں ہر دس میں سے چھ لوگوں کا خیال تھا کہ ملک کے معاشی بحران سے نکل جانے کا عمران خان کا دعویٰ درست ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں یہ صورتحال اپنے الٹ میں بدل چکی تھی۔ یعنی اب ہر دس میں سے چھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ جولائی میں صرف 56 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔ اس وقت یہ شرح 77 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی ہر چار میں سے تین لوگ سمجھتے ہیں کہ حالات و واقعات کا رُخ درست نہیں ہے۔ صرف 7 فیصد لوگوں کو عمران خان کی پالیسیوں پر اعتماد ہے۔ 68 فیصد کے پاس کوئی جمع پونجی نہیں ہے اور حالیہ عرصے میں گزارہ کرنے کے لئے انہیں اپنے اخراجات کم کرنے پڑے ہیں۔ 98 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ پچھلے تین مہینوں میں مہنگائی بڑھی ہے جبکہ 87 فیصد کا کہنا ہے کہ ان کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے ہیں۔ اسی طرح سروے کے مطابق مہنگائی، بیروزگاری اور کرپشن لوگوں کے سب سے بڑے مسائل ہیں۔ یہ اس ملک کے عوام کی حالت زار ہے جس کے حکمران کے خیال میں بے حیائی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ حکمرانوں کا رجعت کی غلاظتوں میں ڈوب کر حقائق سے اس قدر کٹ جانا بے سبب نہیں ہوتا۔ یہ ایک وقت پہ آ کے ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔ تاریخی طور پر دیوالیہ نظاموں کے حکمران روحانی طور پر بھی دیوالیہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اقتدار کی بلندیوں پر پہنچ کے بھی ایسی بے بسی کا شکار ہوتے ہیں کہ حقیقت پسند نہیں ہو سکتے۔ جو شخص جادو ٹونے پر سنجیدگی سے یقین رکھتا ہو اس سے زیادہ روحانی طور پر ضعیف کون ہو سکتا ہے۔ ایسے میں حرص، ڈھٹائی، منافقت، بے حسی اور باطن کی سیاہی طاقت میں رہنے کی لازمی شرائط بن جاتی ہے۔ ایسا تاریخ میں ایک سے زیادہ بار ہوا ہے کہ ایک نامیاتی طور پر بحران زدہ نظام پر ایسے نااہل حکمران مسلط ہو گئے جنہوں نے اس کے بحران کو تیز تر کر دیا۔ لیکن یہ صرف حکمرانوں کی ذات اور شخصیات کا سوال نہیں ہے۔ یہ حکمران کتنے ہی پتھر دل کیوں نہ ہو جائیں ‘ یہ تاریخ کا قانون ہے کہ وسیع پیمانے پر پھیلی معاشرتی حقارت اور بے چینی کی اقتدار کے ڈھانچوں میں سرایت ناگزیر ہوتی ہے۔ جس سے پھر ان ڈھانچوں میں موجود فالٹ لائنز متحرک ہو جاتی ہیں اور حاکمیت میں دراڑیں ڈالتی جاتی ہیں۔ حکمران طبقے اور اس کے اداروں میں پہلے سے موجود تضادات شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ بحران کا دوشی ایک دوسرے کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اصلاح پسند دھڑا اپنے نظام کو بچانے کے لئے زیادہ جاہل اور نااہل لوگوں کو اقتدار سے فارغ کر کے معاملات کو چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ قدامت پرست حصے رجعت کو زیادہ وحشت سے سماج پر مسلط کر کے اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہر دو صورتوں میں مروجہ نظام کی مسلسل زوال پذیری نوشتہ دیوار ہوتی ہے۔ اس کی رفتار کم یا زیادہ ہو سکتی ہے جس کا انحصار بے شمار عوامل پر ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے انقلاب اور بربریت کے درمیان مسلسل جھول رہے ہوتے ہیں۔ ان کے مقدر کا تعین پھر ایک پیچیدہ تاریخی مساوات ہے۔ لیکن اس میں محنت کش طبقے کی اپنی کیفیت اور اس کی قیادت کی تیاری کا عنصر فیصلہ کن ہوتا ہے۔

دنیا کے بیشتر خطوں کی طرح پاکستانی معاشرہ بھی اس وقت ایک ایسے ہی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ معاشی بنیاد ایک مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کی وجہ سے اوپر کھڑا سیاسی ڈھانچہ بھی لڑکھڑا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے تجویز کردہ نسخوں سے میکرو اکنامک اعشارئیے وقتی اور جزوی بہتری کے بعد دوبارہ ابتری کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس عارضی بہتری کی بھی بہت بھاری قیمت محنت کش عوام نے پچھلے تین سالوں میں چکائی ہے۔ لیکن اب بیل آﺅٹ پیکیج کی بحالی کے مذاکرات میں آئی ایم ایف مزید کڑی شرائط عائد کر رہا ہے۔ جو نہ صرف آبادی کے وسیع حصے کے لئے زیر قاتل کے مترادف ہیں بلکہ یہاں کے حقیقی پالیسی سازوں کو بھی کسی قدر کھٹک رہی ہیں۔ خسارے ایک بار پھر بڑھ رہے ہیں۔ جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 3.4 ارب ڈالر رہا ہے۔ پچھلے مالی سال کی اِسی سہ ماہی میں کرنٹ اکاﺅنٹ 865 ملین ڈالر کے سرپلس میں تھا۔ جس کی بنیادی وجہ روپے کی قدر میں شدید کمی کی وجہ سے درآمدات میں کمی تھی۔ اسی طرح کورونا وبا کے کچھ تھمنے کے بعد ترسیلات ِزر میں کسی قدر اضافہ ہوا تھا۔ لیکن ان نسخوں کی معیاد اتنی ہی تھی۔ اب ایک بار پھر یہ بیرونی خسارہ بے قابو ہو رہا ہے جس کی وجہ سے روپے کی قدر شدید دباﺅ کا شکار ہے۔ گزشتہ تقریباً تین سال کے عرصے میں ڈالر 123 سے بڑھ کے 175 روپے تک پہنچ چکا ہے (سعودی عرب سے قرضہ ملنے کے بعد اس میں معمولی بہتری آئی ہے)۔ روپے کی قدر کو منڈی کی قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے پیچھے منطق یہ پیش کی گئی تھی کہ اس سے بیرونی خسارے میں کمی آئے گی۔ لیکن اس سے بیرونی خسارے کا مسئلہ طویل مدت میں حل نہیں ہو پایا ہے۔ اوپر مذکورہ عرصے میں اگر برآمدات 35 فیصد بڑھی ہیں تو درآمدات میں 64 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کی وجہ سے بیرونی قرضہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بیرونی قرضہ و واجبات جو 2008ءمیں 46 ارب ڈالر، 2013ءمیں 60 ارب ڈالر اور 2018ءمیں 95 ارب ڈالر تھے‘ اس وقت 125 ارب ڈالر ہو چکے ہیں۔ پاکستان اس وقت دنیا کے دس سب سے زیادہ بیرونی طور پر مقروض ممالک میں شامل ہے۔ یاد رہے کہ بیرونی قرضہ‘ قرضوں کی سب سے خطرناک شکل ہے۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس فہرست میں ایتھوپیا، کینیا، منگولیا، نائجیریا اور زیمبیا جیسے انتہائی پسماندہ ممالک ہی شامل ہیں۔ پاکستان جیسی پسماندہ معیشتوں کو اس نظام میں ناگزیر طور پر مشینری و اجناس کی درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور کرنسی کی قدر گرا کر درآمدات کو کم کرنے جیسے نسخوں سے معیشت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ روپے کی اس بے قدری سے جہاں بیرونی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوا ہے (پچھلے پانچ ماہ کے دوران روپے کی قدر گرنے سے بیرونی قرضوں میں 1800 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے) وہاں مہنگائی بھی تیزی سے بڑھی ہے۔ گزشتہ تین سال میں افراطِ زر نے 70 سال کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ بیشتر غذائی اجناس کی قیمتیں دوگنا ہو چکی ہیں۔ ادارہ شماریات کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں 57 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ فی لیٹر پٹرول تقریباً 50 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری قیمت بھی بڑھتی ہے جس سے نہ صرف داخلی سطح پر اشیا کی مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ برآمدات بھی بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ ’دی اکانومسٹ‘ کے مطابق مہنگائی کے اعتبار سے ارجنٹائن، ترکی اور برازیل کے بعد پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اتنی مہنگائی سے عام لوگوں کی قوت خرید میں کمی اور آبادی کے ایک بڑے حصے کا مزید غربت میں چلے جانا ناگزیر ہے۔ جہاں بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے وہاں اندرونی قرضوں کا ہجم بھی ناقابل برداشت (Unsustainable) ہوتا جا رہا ہے۔ قرضے اتارنے کے لئے قرضے لیے جا رہے ہیں۔ مثلاً پچھلے مہینے کی ایک خبر کے مطابق حکومت نے 5.15 ٹریلین روپوں کا قرضہ اتارنے کے لئے 5.87 ٹریلین کا نیا اور زیادہ مہنگا قرضہ لیا ہے۔ جس سے داخلی قرضوں میں 720 ارب روپے کا نیٹ اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافی قرضہ بھی حکومت کے جاری اخراجات کی نذر ہو جائے گا۔ اسی طرح مہنگائی کو قابو کرنے کے لئے آئی ایم ایف کا ایک اور عوام دشمن نسخہ شرح سود میں اضافے کا بھی ہے۔ جو بنیادی طور پر کسی شدید علیل مریض کو درد سے نجات دلانے کے لئے گولی مار دینے کے مترادف ہے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاری سکڑ جاتی ہے جس سے بیروزگاری بڑھتی ہے بلکہ داخلی قرضوں کا بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اشفاق حسن کے مطابق قرضوں کی موجودہ سطح پر شرح سود میں ہر ایک فیصد کے اضافے سے سود کی مد میں 180 ارب روپے زائد ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے باوجود قوی امکانات ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ ڈیل کے نتیجے میں شرح سود میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ جس سے معیشت کی پہلے سے گری ہوئی شرح نمو بری طرح متاثر ہو گی۔ حکومتی عہدیداران جاری مالی سال کے دوران چار سے پانچ فیصد شرح نمو کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن ورلڈ بینک کے تخمینوں کے مطابق شرح نمو صرف 3.4 فیصد رہے گی۔ تاہم 5 فیصد کی بہترین صورت میں بھی یہ صورتحال سٹیگفلیشن (زیادہ افراطِ زر، کم شرح نمو) کے مترادف ہی قرار دی جا سکتی ہے۔ خود بورژوا ماہرین میں اس بات پر اتفاق رائے موجود ہے کہ بیروزگاری اور غربت میں کمی کے لئے کم از کم 8 فیصد کی شرح نمو کئی سالوں کے لئے درکار ہے۔ جس کا دور دور تک کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ اتنا گروتھ ریٹ اسی صورت میں ممکن ہے جب حکومت بڑے پیمانے پر ترقیاتی اخراجات کرے اور درآمدات کو کھلی چھوٹ دے۔ جیسا کہ نواز شریف وغیرہ کا طریقہ کار رہا ہے۔ لیکن اس سے قرضے ناگزیر طور پر بڑھیں گے جنہیں قابو کرنے کے لئے پھر وہی کرنا پڑے گا جو موجودہ حکومت کر رہی ہے۔ لیکن تمام تر کٹوتیوں کے باوجود قرضوں میں ایک بتدریج انداز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جو حکمرانوں کے لئے مسلسل دردِ سر بنا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے تین سالوں میں قرضوں میں 15 ہزار ارب روپے کا اضافہ کیا ہے جو پچھلے دورِ حکومت میں لیے گئے قرضوں کا 140 فیصد اور پچھلے دو ادوارِ حکومت میں لیے گئے قرضوں کا 82 فیصد ہے۔ جی ڈی پی کے تناسب کے حساب سے پچھلے تین سالوں میں مجموعی حکومتی قرضے 72 فیصد سے بڑھ کے 83 فیصد ہو گئے ہیں۔ موجودہ حکومت ہر روز تقریباً 14 ارب روپے کا قرضہ لے رہی ہے۔ اس وقت قرضے تقریباً 40 ہزار ارب روپے کی سطح پر کھڑے ہیں لیکن اگر حکومتی واجبات شامل کیے جائیں تو یہ تقریباً 48 ہزار ارب روپے بنتے ہیں جو جی ڈی پی کے 100 فیصد سے زیادہ ہیں (تین سال پہلے کل قرضے اور واجبات جی ڈی پی کا 86 فیصد تھے)۔ ان قرضوں میں وقتی کمی ضرور واقع ہوتی ہے لیکن لمبے عرصے میں رجحان اضافے کا ہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اتنے اضافے کے باوجود توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے بھی موجودہ دورِ حکومت میں دو گنا ہو چکے ہیں۔ اس وقت مجموعی گردشی قرضہ تقریباً 2400 ارب روپے ہو چکا ہے۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ اس نظام میں عوام کو مسلسل مہنگی ہوتی ہوئی بجلی اور لوڈ شیڈنگ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔

اگر یہ قرضوں کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو مہنگائی، بیروزگاری اور کٹوتیاں کرنی پڑیں گی۔ لیکن اگر یہ قرضے بڑھتے جاتے ہیں تو معیشت پر ناقابل برداشت وزن کے حامل ہو جائیں گے۔ بلکہ ایسی صورتحال کم و بیش پیدا ہو بھی چکی ہے۔ حکومتی آمدن کا 60 سے 70 فیصد ان قرضوں کی نذر ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات زندگی پر خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں بچتا ہے۔ یہی اس نظام کی ہر حکومت کا طریقہ کار ہے۔ لیکن نودولتیوں اور لمپن سرمایہ داروں کی موجودہ حکومت اس میں بہت شدت لے آئی ہے۔ نواز شریف اینڈ کمپنی پرانے وارداتیے تھے۔ وہ جگاڑ کر لیتے تھے۔ حتیٰ کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بھی ہاتھ کر جاتے تھے۔ لیکن اِن جیسے مطیع اور خصی لوگ آئی ایم ایف کو شاید ہی ملے ہوں گے جنہوں نے نہ صرف وزاتِ خزانہ بلکہ سٹیٹ بینک تک بھی ان کے حوالے کر دیا ہے۔ ملک کا کرنسی نوٹ جس شخص کے دستخطوں سے قانونی سند حاصل کرتا ہے وہ آئی ایم ایف کا حاضر سروس ملازم ہے۔ اِن حالات میں عمران خان فحاشی کے سدباب اور روحانیت پہ لیکچر نہ دے تو اور کیا کرے؟ وہ اگر تھوڑا سا بھی معقول انسان ہوتا تو اس معروض میں اس پوزیشن تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اب اس نے اپنے بچے کھچے پیروکاروں کیساتھ مل کے اپنی ہی ایک دنیا بسا لی ہے۔ اِس بحران زدہ سرمایہ داری میں جو بیہودہ ثقافت یہاں پروان چڑھی ہے اس میں اتنی غیرت تو تاریخ کے کسی حکمران میں نہیں رہی کہ خاموشی سے استعفیٰ دے کے گھر چلا جائے۔ یہ حکومت تو ویسے بھی کسی تھرڈ کلاس تھیٹر کے اداکاروں‘ بلکہ مسخروں کا ہجوم معلوم ہوتی ہے۔ لیکن مسئلہ صرف ان کا نہیں انہیں لانے والوں کا بھی ہے۔ ان کی ساکھ کبھی براہِ راست اقتدار میں آ کے اتنی نہیں گری جتنی اس حکومت کو لا کے گر گئی ہے۔ جو باتیں کبھی مخصوص لبرل اور بائیں بازو کے حلقوں میں ہوا کرتی تھیں آج گلیوں، بازاروں اور اداروں میں ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے مقتدر حلقوں میں گہری تشویش موجود ہے۔ وہ کسی قدر چڑچڑے پن کا بھی شکار ہیں۔ ایک دھڑا ان سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ وہ اسی میں عافیت جان رہا ہے۔ اس سلسلے میں شہباز شریف، جو بہت بے صبرا واقع ہوا ہے، سے سیٹنگ بنانے کی بھی خبریں ہیں۔ علاوہ ازیں مریم نواز کی دھواں دار پریس کانفرنسوں میں اس حکومتی سیٹ اپ کو بنانے والوں میں سے کچھ پر تابڑ توڑ حملے اور کچھ کے بارے میں مجرمانہ خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ لیکن دوسرے دھڑے کی ”ترقی“ اور مراعات اس حکومت کے دوام کے ساتھ مشروط ہیں۔ اس ٹکراﺅ نے سارے نظام کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔ جن اداروں اور عہدوں کا تقدس اتنی محنت سے بنایا جاتا ہے ان کی تعیناتیاں اس لڑائی میں ایک مذاق بن کے رہ گئی ہیں۔ یہ تو آنے والے دن ہی بتائیں گے کہ عمران خان نے تعیناتی کا جو حالیہ نوٹیفیکیشن بڑے پس و پیش کے بعد جاری کیا ہے اس میں صرف چاند گرہن کی تاریخوں کا حساب کتاب ہی لگایا گیا ہے یا کوئی اور ”حساب“ بھی شامل ہے۔ لیکن یہ ٹکراﺅ جہاں وقتی طور پر تھم سکتا ہے وہاں شدت پکڑ کے ہیجانی واقعات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ ایسے تصادموں میں پھر بنیاد پرست گروہوں سے دھرنے کروائے بھی جاتے ہیں اور اٹھوائے بھی جاتے ہیں۔ لیکن ایسے عفریت گلے بھی پڑ جاتے ہیں۔

یہ ٹوٹ پھوٹ بہت بڑھ بھی سکتی ہے اور خونریز شکلوں میں اپنا اظہار کر سکتی ہے۔ اس میں افغانستان کا معاملہ بھی ایک اہم عنصر کے طور پہ شامل ہے۔ یہ لوگ طالبان کی حمایت اور وکالت میں جس حد تک جا رہے ہیں وہ نہ صرف زخمی امریکی سامراج کو مزید طیش دلانے کے مترادف ہے بلکہ خود ڈیپ سٹیٹ کا ایک حصہ بھی اس سے نالاں نظر آتا ہے۔ لیکن امریکیوں نے بھی آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے شکنجوں میں ان کی گردنیں جکڑی ہوئی ہیں۔ چین ان کا جتنا بھی یار ہو جائے‘ سرمایہ داری کے دریا میں رہ کے امریکی مگرمچھ سے بیر مول نہیں لیا جا سکتا۔ آئی ایم ایف سے ڈیل، جو آنے والے کچھ دنوں میں متوقع ہے، بنیادی طور پر افغانستان کے معاملے میں امریکہ کو سپیس دئیے بغیر ممکن نہیں ہو گی۔ اس صورت میں ممکن ہے روپے کی قدر میں کچھ مزید بہتری آ جائے لیکن آئی ایم ایف کی شرائط مہنگائی اور بیروزگاری میں نئی شدت ہی لائیں گی۔ لیکن ان نسخوں سے مسئلہ اگر پہلے حل نہیں ہوا تو آئندہ بھی نہیں ہو گا۔

یہاں کے پالیسی سازوں اور ان کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے والوں میں یقینا ایسے احمق موجود ہیں جو سنجیدگی سے سمجھ رہے تھے کہ عمران خان اِس نظام میں ایک بہتر متبادل کے طور پر سامنے آ سکے گا۔ لیکن یہ پراجیکٹ جتنی بری طرح ناکام ہوا ہے انہیں اس کی توقع نہیں تھی۔ یہ پیش بینی بڑے واضح الفاظ میں ہم نے انہی صفحات پہ بہت پہلے اور بار بار کی تھی۔ تحریک انصاف، جو بنیادی طور پر شہری وائٹ کالر مڈل کلاس کی ایک نیم تحریک کی پیداوار تھی، ناکامی و نامرادی کا ایک غلیظ نشان بن چکی ہے۔ جمود کے وقتوں میں سماجی تعفن سے ابھرنے والے اس طرح کے سیاسی مظاہر کی پہنچ اتنی ہی ہوتی ہے۔ اس سارے عمل سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ دن رات محنت کشوں کی تذلیل کرنے اور پھر ان پر ترس کھانے والا یہ ”پڑھا لکھا“ طبقہ کس قدر جاہل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے محنت کش طبقے نے تحریک انصاف کا حصہ نہ بن کر اپنے بلند تر سیاسی شعور کا ثبوت پیش کیا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے اس پورے سماج کے لئے نجات کی راہ ہموار کرنی ہے۔ یہ ابھی مجہول ہے، غیر متحرک ہے اور بکھرا ہوا ہے۔ اسی لئے حکمرانوں کے پاس ظلم اور بیہودگی کا ہر موقع موجود ہے۔ لیکن بدلاﺅ اس مادی دنیا کی بنیادی خصلت ہے۔ محنت کش سیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں، سوچتے ہیں، بدلتے ہیں اور پھر پوری دنیا کو بدل دینے کی سعی کرتے ہیں۔ یاس اور بیزاری‘ بغاوت میں ڈھل جاتی ہے۔ یہ بغاوت پہلے شریانوں میں دوڑتی ہے پھر امڈ کر گلیوں اور بازوں میں آ جاتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی تحریکوں کی چنگاریاں انقلاب کے شعلے بھڑکا دیتی ہیں۔ آج ان مراحل سے گزرنے والا محنت کش طبقہ ہی اس جرات، عزم اور نظریات کا حامل ہو سکتا ہے جو سرمائے کے اِس نظام کو مٹانے اور ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنے کے لئے درکار ہیں جہاں انسان انسانیت کی معراج تک پہنچنے کے سفر کا آغاز کر سکے۔

عمران کامیانہ گزشتہ کئی سالوں سے انقلابی سیاست اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ سیاسی معاشیات اور تاریخ ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔