نقطہ نظر

مدرسے کا یونیورسٹی سے موازنہ مفتی عزیز کے جرم میں معاونت کے مترادف ہے

مظہر آزاد

جمعیت علمائے اسلام لاہور کے رہنما مفتی عزیز الرحمن کی ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد حسب توقع بہت سے رجعتی حلقے ان کے دفاع میں سامنے آ گئے۔ ایک بھونڈی منطق یہ پیش کی جا رہی ہے کہ جنسی تشدد صرف مندسوں میں تو نہیں ہوتا، سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی اس طرح کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ اس مضمون میں اس بے سرو پا ’منطق‘ کا جواب دینے کی کوشش کی جائے گی تا کہ بحث کو کج بحثی سے بچایا جا سکے اور اصل جرم پر پردہ ڈالنے کی کوششیں ناکام بنائی جا سکیں۔

سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگر مدرسے میں ایک مفتی صاحب کی جانب سے کی جانی والی جنسی زیادتی کی ویڈیو کے بعد مدرسوں اور مولیوں پر تنقید کے جواب میں اگر آپ سکولوں، کالجوں اوریونیورسٹیوں میں ہونے والے جنسی ہراسانی اور ریپ وغیرہ کے واقعات سامنے لا رہے ہیں تو ایک طرح سے آپ مدرسوں میں مولوی حضرات کی جانب سے ہونے والے جنسی درندگی کیلئے جواز پیش کر رہے ہیں۔ کہا بنیادی طور پر یہ جا رہا ہے کہ اگر مدارس میں ایسا ہو رہا ہے تو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی تو ہو رہا ہے۔ گویاآپ کھلے عام درندگی کی مذمت کرنے کی بجائے کہیں اور الزام تراشی شروع کر رہے ہیں۔ کیا یہ وقت الزام تراشی کا ہے یا اِس درندگی کی مذمت کا؟

اگر آپ نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ ہر حال میں مدرسے اور مولوی حضرات کی حمایت کرنی ہے تو پھر الگ بات ہے۔ اگر آپ مسائل کے حل کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو پھر معاملات پردوسرے زاوئیے سے نظر ڈالنی ہو گی۔

اس ضمن میں پہلی بات تو یہ ہے کہ مدارس اور یونیورسٹیوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ اگر ہم مدرسے پر تنقید کر رہے ہیں تو اْس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہم کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہونے والی درندگی کیلئے جواز ڈھونڈھ رہے ہیں یا مجرم اساتذہ کو فرشتے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ آپ بھی ذہنی طور غیر محفوظ ہو کر یونیورسٹیوں پرتنقید کرنے کے بجائے مدرسے میں ہونی والے درندگی کو درندگی مان کر اْس کی مذمت کریں۔ یاد رہے ہم پہلے سے یونیورسٹیوں میں ہونے والے ایسے واقعات کے مخالف ہیں اور وہاں ہونے والے واقعات کو جسٹیفائی کرنے کیلئے مدارس کا ذکر نہیں کرتے۔

دوم: کیا مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں ہونے والے واقعات کی نوعیت ایک جیسی ہے؟ کیا اِن دونوں اداروں میں طلبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا خطرہ ایک جیسا ہے؟ کیا اِن دونوں کے اساتذہ کا بچوں اور خاص کر لڑکیوں کے بارے میں عمومی رویہ ایک جیسا ہے جو جنسی زیادتی کا سبب بنتا ہے؟ کیا اِن دونوں اداروں میں جنسی زیادتی کے واقعات چھپانے کا خطرہ ایک جیسا ہے؟ کیا اِن دونوں جگہوں میں جنسی کے زیادتی کے واقعات کو چھپانے کا تناسب ایک جیسا ہے؟ کیا اِن دونوں اداروں میں جسمانی تشدد کی شرح جو کہ جنسی تشدد کیلئے راہ ہموار کرتی ہے، ایک جیسی ہے؟ کیا مدارس کی طرح سکولوں کے واقعات کے بعد سکول اور اْستاد کو بچانے کیلئے ”سازش“ کا سہارا لیا جاتا ہے؟ یہودیوں اور لبرلز پر دشنام طرازی ہوتی ہے؟ کیاسکولوں میں بھی مدارس کی طرح زیادہ تر طلبہ کا تعلق غریب اور ان پڑھ گھرانوں سے ہوتا ہے جو ایسے معاملات کی حساسیت سے ناواقف ہیں؟ کیا سکول بھی ان مدارس کی طرح خیرات پر چلتے ہیں اور وہاں طلبہ مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں اسلئے وہاں اپنی تعلیم اور رزق کی خاطر چْپ کا روزہ رکھنا پڑتا ہے؟

اِن تمام سوالات کا جواب ڈھونڈا جائے تو مفتی عزیز الرحمن کے طرفداروں کو تشفی بخش جواب مل جائے گا۔

معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر جیسے نابغہ روزگار ہستیوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ لبرلز اور سیکولر لوگ مولوی کی آڑ میں در اصل مذہب کو نشانہ بناتے ہیں۔ اگر آپ کوبھی لگتا ہے کہ ہمارا مسئلہ مدرسے یا مذہب سے ہے تو آپ اپنی سوچ پر ایک تنقیدی نظر دوڑائے۔ آپ کے اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ہمارا مسئلہ مدرسے سے نہیں بلکہ ایسے گھناؤنے جرائم سے ہے جن کا دوسرا سرا مدرسے سے جا کر ملتا ہے۔’افغان مجاہدین‘، پھرطالبان، تحریک لبیک، سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، شیعہ سْنی فساد، توہین رسالت کے نام پر قتلِ عام، کرونا وائرس اور پولیو جیسے خطرناک امراض کے بارے میں پروپیگنڈہ…ان سب معاملات کی کڑیاں مدارس سے ملتی ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ سیاسی معاملات میں اگر اِن مدارس کی وجہ سے لوگوں کو نقصان پہنچا ہے تو یہ ریاست کی جانب سے استعمال ہوئے ہیں لیکن یہ اْس سے بھی بڑا سچ ہے کہ بنیاد پرست جماعتوں نے ریاست کو مدرسے کی خدمات فراہم کر کے اربوں کا فائدہ بھی اٹھایا۔

عرض یہ ہے کہ جنسی گھٹن، طاقت کا مظاہرہ اور اِن کے نتیجے میں ہونے والی جنسی زیادتی انتہائی خطرناک عمل ہے۔ یہ جرم جو بھی کرے، قابل مذمت ہے۔ چاہے وہ مدرسے کا مہتمم ہو یا یونیورسٹی کے کسی شعبے کا سربراہ۔ یہاں چونکہ معاملہ مدرسے کا ہے اسلئے ہماری تنقید کے تیر مدرسے اورمولوی پر برس رہے ہیں ورنہ ہم نے سب جگہوں پر ایسے واقعات کی مذمت اور مزاحمت کی ہے۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے ایک شعبے کے سربراہ کے خلاف خواتین سمیت مظاہرے، مزاحمت اور ہماری حمایت اِس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس مزاحمت کی بنا پر متعلقہ ملزم کے خلاف مقدمہ بنا۔

اسلئے گزارش ہے کہ آپ کی مذہب اور مولوی حضرات کے ساتھ ذاتی طور پر کتنی بھی ہمدردی ہو، اِیسے واقعات میں مذہب کا سہارا لے کر مولوی کے ساتھ کھڑے ہونے کا خطرناک مظاہرہ نہ کریں۔ ایسا کرنے سے یہ عمل رْکنے کے بجائے اور بھی زیادہ ہو گا۔ آج اگر کسی اور کے بچے کے ساتھ یہ کام ہو رہا ہے تو کل آپ کے بچے کے ساتھ بھی یہی ہو سکتا ہے۔

مصنف نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے نفسیات میں ایم فل کیا ہے۔ ان دنوں وہ سوات کے ایک نجی کالج میں نفسیات کے لیکچرر ہیں۔