نقطہ نظر

زہرہ فونا سے ملا علی کردستانی تک

ان دنوں ملا علی کردستانی پاکستان کے دورے پر ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے انہیں دعوت پر بلایا تو بعض سیاسی شخصیات نے ان کے ساتھ فوٹو سیشن کئے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن سے ثابت کیا جا رہا ہے کہ ملا علی کردستانی دم درود سے گونگے بہرے لوگوں کا علاج کر دیتے ہیں۔ زہرہ فونا بھی ایسا ہی ایک کردار تھیں جو انڈونیشیا سے پاکستان آئیں۔ زہرہ فونہ بارے ایک مضمون تقریباً دس سال پہلے ہفت روزہ وئیو پوائنٹ میں شائع ہوئے۔ اس کا اردو ترجمہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مضمون نگار بصیر نوید معروف سیاسی کارکن ہیں۔ ان کا تعلق کراچی سے ہے۔

بصیر نوید

زید حامد جیسے لوگوں کو ہمارے مذہب کے بہترین لوگ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، انہیں حقیقی عاشق کہا جاتا ہے، لیکن ہمارا ماضی بتاتا ہے کہ ایسے کردار زیادہ عرصہ اپنا سحر قائم نہیں رکھ پاتے۔

میں 1970ء کے عام انتخابات سے پہلے سامنے آنے والے ایک کردار کی مثال پیش کر رہا ہوں۔ یہ وہ وقت تھا جب یحییٰ خان اور اس کی کابینہ مذہبی گروہوں کی جیت کو یقینی بنانا چاہتے تھے۔ میڈیا، خاص طور پر جنگ گروپ اور اس کے میگزین’اخبار جہاں‘نے جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ کونسل کی جیت کی پیش گوئی کر دی، اور یہ پیشگوئی کی کہ شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ تیسرے اور ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) چوتھے یا پانچویں نمبر پر آئے گی۔ مجیب الرحمان شامی اس کی تصدیق کر سکتے ہیں کیونکہ ان دنوں انہوں نے اسلامی قوتوں کی جیت کی پیش گوئی کی تھی۔

اسلامی تحریک کی حمایت کے لیے جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد اور اس وقت کی فوجی کابینہ میں وزیر اطلاعات نوابزادہ شیر علی خان نے انکشاف کیا کہ پاکستان اسلامی نظریے کی بنیاد پر بنا تھا۔ اس طریقے سے’نظریہ پاکستان‘ پیدا ہوا۔ اس نظریے کا ترجمہ مشہور نعرے ’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘ کی صورت کیا گیا۔

یحییٰ جاگتے ہوئے زیادہ تر وقت نشے میں ہی رہتے تھے۔ اس کے باوجود انہیں مذہبی رہنماؤں نے ایک حقیقی اور بہادر مسلم رہنما کے طور پر پیش کیا۔ اس بیان کی تصدیق اس وقت کے اخبارات بالخصوص جنگ کو دیکھ کر کی جا سکتی ہے۔

جب پاکستانی فوج اور بیوروکریٹک اسٹیبلشمنٹ کو معلوم ہوا کہ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اور ذوالفقار علی بھٹو کی پی پی پی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں اور کوئی دوسری جماعت اپنے جلسوں میں 5 ہزار تک مجمع بھی نہیں کھینچ سکی، تو انہوں نے انڈونیشیا سے ایک خاتون ’زہرہ فونا‘کو درآمد کیا۔ مذکورہ خاتون نے کئی اسلامی ممالک کا دورہ کیااور اسکے دوروں کو بھرپور کوریج دی گئی، ان دوروں کے دوران حکمرانوں نے اس خاتون کی امامت میں نمازیں ادا کیں۔ (اس خاتون نے نمازوں کی امامت کی، حالانکہ اکثر علما کے نزدیک خاتون کے امامت کرنے کی ممانعت ہے)۔

بہت سے مسلمان دانشوروں اور علما نے اپنی تحریروں اور لیکچروں کے ذریعے دعویٰ کیا کہ ’امام مہدی‘کے ظہور کا وقت آ ن پہنچا ہے۔ ایک نئی اسلامی دنیا ابھرنے والی ہے۔ اس دوران جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور انہوں نے لبرل اور ترقی پسند پروفیسروں، ڈاکٹروں، ادیبوں، صحافیوں کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں پر بھی حملہ کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے بہت سی لائبریریوں اور کتابوں کے ذخیرے کو بھی جلا دیا۔

زہرہ فونا نے دعویٰ کیا کہ اس کے پیٹ میں موجود بچہ اذان دیتا ہے اور نماز کی امامت کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کھلی جگہوں کے ساتھ ساتھ بڑی مساجد میں نمازوں کا اہتمام کیا گیا اور علمائے کرام اس کی امامت میں نماز یں پڑھتے رہے۔ وہ کعبہ (مکہ) کی طرف اپنی ٹانگیں پھیلاتی اور اپنے رحم کو منبر کی طرف لے جاتی۔ اچانک اذان اس کے رحم سے یا کسی اور ’پرائیویٹ پارٹ‘سے آنا شروع ہو جاتی۔ علمائے کرام اتنے بے شرم تھے کہ اس کے ’پرائیویٹ پارٹس‘ پر نظریں جمائے نماز ادا کر رہے تھے۔

اس وقت بایاں بازو بہت منظم تھا، تاہم اس کیلئے اس ناٹک کی وضاحت کرنا مشکل تھا۔ آخرکار پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور جناح اسپتال کراچی کے ڈاکٹروں نے ڈرامہ بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا۔ کئی لیڈی گائناکالوجسٹوں کو مدد کے لیے کہا گیا، وہ جانتے تھے کہ ایسا نہیں ہو سکتا لیکن زہرہ فونا بہت چالاک تھی۔ جب بھی ڈاکٹر اس کا طبی معائنہ کرنے کے لیے اس کا تعاقب کرتے تو وہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی مدد سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتی۔ تاہم ایک دن جب وہ فرار نہ ہوسکی تو جناح اسپتال کراچی کے ڈاکٹروں نے معائنہ کیا۔ ڈاکٹروں نے اس کے کپڑوں میں چھپا ایک چھوٹا ٹیپ ریکارڈر برآمد کیا۔

ڈرامہ ختم ہو گیا لیکن ڈاکٹروں کو کمیونسٹ قرار دیا گیا۔ تاہم وہ فوراً اسی رات ہندوستان کے لیے روانہ ہوئی اور براہ راست انڈونیشیا کا سفر کیا۔