دنیا

بھارتی کسانوں کی جیت: مودی سرکار نے گھٹنے ٹیک دئے!

قیصر عباس

پورے جنوبی ایشیا میں سماجی تبدیلی اور جمہوریت کے مکمل نفاذ کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں جن کے آگے آمریت کے چہرے، جو مختلف شکلوں میں سیاسی اور اقتصادی ذرائع پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں، اب پیچھے ہٹنے پر مجبور ہیں۔ خطے کے پڑوسی ملک برما میں فوجی آمریت کے خلاف ایک عوامی تحریک زور پکڑ رہی ہے جسے فوجی تشدد کے باوجود ابھی تک روکا نہیں جا سکا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ خطے کے کئی ملکوں میں نوجوانوں اور خواتین کی تحریکیں فرسودہ نظام، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور غربت کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں نوجوان ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں جو بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور غربت کا شکار ہیں۔

احتجاجی تحریکوں کی کامیابی کی ایک مثال انڈیا میں ایک سال سے جاری کسانوں کی عوامی تحریک ہے جس نے بی جے پی کی حکومت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور اس کے نتیجے میں مودی نے اب کسانوں کی تحریک کے مطالبات مان لئے ہیں۔ حکومت نے تین نئے قوانین منظور کئے تھے جن کے ذریعے کسانوں کو اپنی پیداوار کی قیمتوں پر کنٹرول ختم کر دیا گیا تھا۔ حکومت نے اب ان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

موجودہ صورت حال کے تحت کسانوں کو اپنی پیداور کی قیمتوں پر حکومت کا تحفظ حاصل ہے جب کہ نئے قوانین کے ذریعے کمپنیوں کو قیمتیں طے کرنے کا اختیار ہو گا اور کسان کمپنیوں کی منہ مانگی قیمتوں پر پیداور بیچنے پر مجبور ہوں گے۔ کسانوں کی تحریک نے اعلان کیا ہے کہ وہ مودی حکومت کی زبانی یقین دہانیوں پر یقین نہیں رکھتے اور ان قوانین کی عملی منسوخی کے بعد ہی اپنا احتجاج ختم کریں گے۔

بھارت کے اقتصادی امور کے معروف سکالر اور تجزیہ نگار پربھات بھٹنائیک کا کہنا ہے کہ انڈیا اور دوسرے ملکوں میں، نیو فسطائی حکومتوں اور بین الاقوامی سرمایہ دار قوتوں کے تعاون سے ترقی پذیر ملکوں میں اقتصادی ترقی کے نام پر غربت اور بھوک بڑھ رہی ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور کسانوں کے اقتصادی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گرشتہ دس برسوں میں انڈیا میں لاکھوں کسان ان حالات سے دل برداشتہ ہو کر خودکشی پر مجبور ہو گئے تھے۔

انہوں نے انڈین ڈیاسپورا، واشنگٹن ڈی سی کے زیر اہتمام ایک ورچوئیل مزاکرے میں میرے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مودی کی حکومت نے عالمی سرمایہ داری کے مفادات کے زیر اثرہی تین نئے قوانین نافذ کئے تھے۔ ان قوانین کی منسوخی کے بعد کسانوں کو اپنی ہی ریاست کا تحفظ حاصل ہو سکے گا اور زرعی پیداوار کی قیمتوں میں ان کا کنٹرول بڑھے گا۔ ان نئے قوانین کے خاتمے کے بعد ان کو اقتصادی ترقی کے مواقع بھی حاصل ہوں گے۔

اس تحریک کی کامیابی کا سہرا کسانوں کے اتحاد اور ان کی قربانیوں کے سر جاتا ہے جس میں ایک اطلاع کے مطابق 248 کسانوں نے اپنی جان کی قربانی دی۔ ان میں پنجاب، ہریانہ، یوپی، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، تامل ناڈو اور اترکھنڈ کے کسان شامل ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ مودی حکومت کے اس حیران کن اور اچانک کئے گئے اقدام کے پیچھے یو پی اور پنجاب میں آنے والے انتخابات کی حکمت عملی بھی ہے۔ یو پی میں جہاں کسانوں کی بڑی تعداد قرضوں اور مالی مشکلات میں گرفتار ہے، سرکار کے خلاف عوامی ردعمل بڑھ رہا ہے جس کے تنائج آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔ دوسری طرف پنجاب میں جہاں بر سر اقتدار کانگرس پارٹی اندرونی سیاست اور رہنماؤں کے درمیان ذاتی مفادات کی چپقلشوں کا شکار ہے، بی جے پی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے پرتول رہی ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق بی جے پی کی پارٹی اس نئی حکمت عملی کے ذریعے انتخابی سیاست کا رخ اپنی جانب موڑنے میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے گی۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔