پاکستان

جامعات کی ہوشربا فیسیں: طالبات دوہری مشکلات کا شکار

حارث قدیر

ملک بھر کی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی جامعات میں بھی حالیہ کچھ عرصہ سے فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔

فیسوں میں ہونے والے اس اضافے کی وجہ سے جہاں طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے کیلئے پارٹ ٹائم نوکریاں کرنا پڑ رہی ہیں، وہیں طالبات کو ہاسٹل میں اوقات کار کی پابندیوں نے اس حق سے بھی محروم کر رکھا ہے۔

گزشتہ 2 سے 3 سال کے دوران ملک بھر کی جامعات میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے بجٹ میں کٹوتی بھی ہے۔ تاہم جامعات میں ٹیوشن فیس کے علاوہ دیگر مدوں میں فیسیں وصول کرنے والاسلسلہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔

سکیورٹی فیس، لائبریری فیس، لیبارٹری فیس، ایڈمیشن فیس، رجسٹریشن فیس، ایگزامینیشنل ایویلیوایشن فیس، لیبارٹری چارجز، آئی ڈی کارڈ فیس، کمپیوٹر فنڈ، سپورٹس فنڈ، فٹنس فنڈ، ٹرانسپورٹ فنڈ، ڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ فنڈ، جنرل فنڈ، لائبریری سکیورٹی فیس اور دیگر کی مد میں فیسیں چارج کی جا رہی ہیں۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران تقریباً 2 سال تک کلاسیں آن لائن لی گئیں، آن لائن کلاسیں لینے کیلئے ’فری ایپس‘ کا استعمال کیا گیا، جامعات کی عمارتیں استعمال نہیں ہوئیں، نہ ہی ہاسٹل و ٹرانسپورٹ کی سہولت استعمال ہوئی، لیکن اس سب کے باوجود فیسوں میں چھوٹ دینے کی بجائے فیسوں میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔

فیسوں میں اضافے کے بعد سرکاری جامعات میں بھی غریب طلبہ کے دروازے بند ہو تے جا رہے ہیں، نجی جامعات میں داخلہ لینے کے بارے میں سوچنا بھی دشوار لگتا ہے۔

لاہور کی چند نجی جامعات میں انڈر گریجویٹ پروگراموں کی فی سمسٹر فیسوں کا جدول:

نجی جامعات کی فیسیں تین سال قبل تک 30 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان تھیں، تاہم اب فیسوں میں بھاری اضافہ ہو گیا ہے۔ جامعات میں ایچ ای سی کی طرف سے تعینات کردہ اساتذہ کی تنخواہوں میں بھی کٹوتی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شعبہ جات کیلئے ایچ ای سی کی جانب سے دیئے جانے والے فنڈز اور سکالرشپس کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے، یا یہ سکالرشپس بہت محدود کر دی گئی ہیں۔

لاہور کی سرکاری جامعات میں انڈر گریجویٹ پروگراموں کی فی سمسٹر فیسوں کا جدول:


فیسوں میں اضافے کا رجحان سرکاری جامعات میں بھی بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے، رفتہ رفتہ ملک کی سرکاری جامعات میں بھی غریب طلبہ کی رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔

میرٹ پر آنے والے طلبہ کیلئے ٹیوشن فیسوں میں اضافے کے علاوہ دیگر چارجز میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے میرٹ اور کوٹے پر آنے والے طلبہ کیلئے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔

ہاسٹل کی فیسوں میں ہونے والے اضافے نے شہر کے باہر، دیگر صوبوں اور پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام علاقوں سے آنے والے طلبہ بالخصوص طالبات کی تعداد میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

آر ایس ایف کی آرگنائزراور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی سابق طالبہ ساشا جاوید ملک کا ’جدوجہد‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سکالرشپس ختم ہوجانے کا سب سے زیادہ اثر طالبات پر پڑا ہے، کیونکہ طالبات کے پاس ایک یہی طریقہ ہوتا تھا کہ وہ سکالر شپ حاصل کر کے اس کی بنیاد پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان جیسے معاشرے میں عموماً خواتین کی تعلیم پر خرچہ کرنے کو والدین پیسہ ضائع کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ اگر سکالر شپ نہیں ملتی تو پھر مجبوراً غریب طالبات کو تعلیم چھوڑ کر شادی کرنا پڑتی ہے۔

ساشا جاوید ملک کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے جب میں نے ڈگری مکمل کی تھی اس وقت مجھے 70 فیصد تک تعلیمی اخراجات کی سکالرشپ ملی ہوئی تھی، تاہم اب وہاں یہ سکالرشپ نہیں دی جا رہی ہے۔ 30 ہزار فی سمسٹر جو فیس ہوا کرتی تھی وہ اب 80 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ سرکاری ادارے بھی اب پرائیویٹ اداروں کی طرح ہی ہو چکے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں مختلف علاقوں سے آنے والے طلبہ کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں وہ ثقافتی تنوع نظر نہیں آتا جو ماضی میں انکا خاصہ ہوا کرتا تھا۔

پی ایس سی کی انچارج سٹڈی سرکل اور پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ بشریٰ ماہ نور بھی جہاں فیسوں میں اضافے کو مجموعی طور پر طلبہ پر بہت بھاری بوجھ سمجھتی ہیں، وہیں ان کے خیال میں بھی طالبات اس سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔

بشریٰ کا کہنا تھا کہ خواتین پر عموماً والدین کم انوسٹ کرتے ہیں، شادی کر کے جان چھڑوائی جاتی ہے۔ اگر کچھ خواتین اعلیٰ تعلیم کیلئے جامعات میں پہنچ جائیں تو انہیں بہت سارے چیلنجوں سے گزر کر تعلیم مکمل کرنا پڑتی ہے۔ جگہ جگہ پر ہراساں کئے جانے کے اقدامات ہوں، امتیازی قوانین، طور طریقوں اور رویوں کا سامنا کرنا ہو، جامعات کی سہولیات سے مستفید ہونے میں امتیازی سلوک کا سامنا ہو یا اس طرح کے دیگر امتیازی قوانین ہوں۔

ابھی فیسوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے، طلبا اخراجات پورے کرنے کیلئے پارٹ ٹائم جاب کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، تاہم طالبات کیلئے یہ حق بھی موجود نہیں ہے۔ جامعات میں طالبات کے ہاسٹلوں کے اوقات کار ہیں، انہیں ایک مخصوص وقت میں ہاسٹل کی حدود میں ہر صورت داخل ہونا ہوتا ہے، ایسے میں وہ پارٹ ٹائم نوکری کا حق استعمال نہیں کر سکتی۔

اسی طرح یونیورسٹی کی حدود کے اندر بھی لائبریری، لیبارٹری وغیرہ جانے کیلئے بھی شام سے پہلے پہلے ہی طالبات کو اجازت ہوتی ہے۔ طالبات کو اپنی ہر سرگرمی اور حرکت سے متعلق ایک رجسٹر میں لکھنا ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں طالبات دہرے جبر کا شکار ہو جاتی ہیں۔

بشریٰ کا کہنا تھا کہ طالبات کو احتجاج کا حق بھی اس طرح سے نہیں ملتا۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصہ میں طالبات نے اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں میں طالبات کی شرکت ایک مثبت عمل ہے، لیکن اس میں ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ساشا اور بشریٰ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ طلبہ یونین کو بحال کیا جانا چاہیے، طلبہ کو اپنے متعلق ہونے والے فیصلوں میں فیصلہ کن رائے رکھنے کا اختیار ملنا چاہیے۔ طلبہ سے متعلق ہونے والے فیصلہ جات میں جب ان سے کچھ پوچھا نہیں جائے گا، ان کے مسائل سنے نہیں جائیں گے تو کبھی بھی پالیسی ان کے حق میں نہیں بن سکتی ہے۔

ساشا جاوید کہتی ہیں کہ اس نظام میں تعلیم سمیت ہر بنیادی ضرورت کو کاروبار بنا دیا گیا ہے۔ جوں جوں معاشی اور سماجی بحران بڑھتا جا رہا ہے، اس کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایک طرف فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا ہے، دوسری طرف ایک مخصوص حد سے زیادہ فیسوں کی ادائیگی پر جی ایس ٹی کے علاوہ ود ہولڈنگ ٹیکس الگ سے لگانے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

انکا کہنا ہے کہ تعلیم ہر انسان کا بنیادی انسانی حق ہے، تمام تر نجی جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیتے ہوئے جدید معیار کے مطابق ہر سطح پر مفت تعلیم ہر طالبعلم کو فراہم کی جانی چاہیے۔ صنفی تفریق کا خاتمہ کرتے ہوئے طلبا و طالبات کو برابری کی بنیاد پر ہر طرح کی سہولیات سے استفادہ کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔

تاہم انکا یہ کہنا تھا کہ جب تک طلبہ، مزدور اور کسان اتحاد کی بنیاد پر اس نظام کے جبر کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کا آغاز نہیں کیا جاتا۔ ان تمام تر مسائل کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ طلبہ کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ وہ جدید سائنسی نظریات کو سیکھیں اور اس نظام کی وحشتوں کے خلاف، اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے جدوجہد کو استوار کریں۔

ایک ایسے سماج کے قیام کیلئے آگے بڑھا جائے کہ جس میں ہر انسان اپنی صلاحیتوں کے مطابق سماجی کردار ادا کر سکے اور اپنی ضرورتوں کے مطابق حاصل کر سکے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔