نقطہ نظر

مارکس کی چوتھی بیٹی کی کہانی

بیری ہیلی

ترجمہ: فاروق سلہریا

مارکس کی چوتھی بیٹی ایلینور مارکس عمر بھر سوشلسٹ نظریات پر قائم رہی۔ وہ ایک مترجم بھی تھی اور مزدوروں کی تنظیم سازی میں بھی اپنا کردار ادا کرتی رہی۔

ایلینور کی انتہائی مستند سوانح حیات بعنوان ”ایلینور مارکس: اے لائف“ کی مصنفہ ریچل ہولمز کا دعویٰ ہے کہ ایلینور ایک زبردست دانشور ہی نہیں بلکہ برطانوی اور عالمی مزدور تحریک کی ایک بہادر رہنما بھی تھی۔ اپنے سیاسی کام کا آغاز اس نے کارل مارکس کے سیکرٹری کے طور پر سولہ سال کی عمر میں کیا۔

ایلینور نے عورت کی جنسی آزادی کے حوالے سے جو سیاست کی اس کی بنیاد بھی عورت کی آزادی تھی۔ یہ سیاست جنسی آزادی بارے وکٹوریہ عہد کے سخت اور جابرانہ رویوں سے بالکل متصادم تھی۔ ایلینور ایک آزاد منش عورت تھی جو ایک ایسے معاشرے میں اپنا راستہ تلاش کر رہی تھی جہاں ثقافتی اور معاشی طاقت کا مرکز مرد تھے حتیٰ کہ بہت سے سوشلسٹ کہلانے والے مرد بھی کوئی استثنا نہیں تھے۔

افسردہ کر دینے والی فلم ”مس مارکس“ اسی موضوع پر مبنی ہے۔ اس میں ایلینور اور اس کے شوہر ایڈورڈ ایولنگ (Edward Aveling) کے تعلقات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ایڈورڈ ایک لیفٹ ونگ ادیب تھا۔ اگر موجودہ دور کی اصطلاح استعمال کی جائے تو ایڈورڈ کو ہم سوشیو پیتھ (Sociopath) کہہ سکتے ہیں۔

وہ ایک انتہائی چالاک انسان تھا۔ ہر خاص و عام سے پیسے بٹورنے کا ہنر جانتا تھا مگر پیسے واپس کبھی نہ کرتا۔ اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اس نے سوشلسٹ تحریک میں جگہ بنائی۔ جب بھی کسی عورت کے ساتھ تعلقات بنانے کا موقع ملتا تو وہ یہ موقع کبھی ضائع نہ کرتا۔ اس کی بے وفائی اور دھوکوں سے تنگ آ کر ایلینور نے خود کشی کر لی۔

”مس مارکس“ کئی حوالوں سے اچھی فلم ہے۔ رومولا گرائی نے ایلینور کا جس طرح سے کردار نبھایا ہے بلا شبہ اس فلم کی خوبیوں میں سے ایک ہے۔ ہر منظر میں اس نے شاندار اداکاری کی ہے۔ اگر وہ اتنی جاندار اداکاری نہ کرتی تو یہ فلم بری طرح ناکام ثابت ہوتی۔

ایڈورڈ کے روپ میں پیٹرک کینیڈی کی اداکاری البتہ اتنی متاثر کن نہیں۔ ایڈورڈ نے اگر عمر بھر لوگوں کے منہ پر سفید جھوٹ بول کر بھی انہیں قائل کر لیا تو اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس کی شخصیت انتہائی سحر انگیز ہو گی۔ اس کے برعکس ایڈورڈ کے روپ میں پیٹرک کینیڈی ہرگز بھی کوئی چارمنگ شخصیت بن کر اسکرین پر نمودار نہیں ہوتا۔ جس طرح کا چڑچڑا سا کردار بنا کر ایڈورڈ کو اس فلم میں پیش کیا گیا ہے اگر وہ حقیقی زندگی میں بھی ایسا ہی ہوتا تو اسے کوئی لمحہ بھر بھی برداشت نہ کرتا۔

فریڈرک اینگلز اور کارل مارکس کے کردار بھی اس فلم میں ہرگز متاثر کن نہیں۔ یہ اس عہد کے دو ایسے فرد تھے جو کمیونسٹ مینی فیسٹو کی شکل میں یورپ کے سر پر بھوت بن کر منڈلا رہے تھے مگر فلم میں وہ انتہائی بے ضرر سے انسان بنا کر پیش کئے گئے ہیں۔

افسوس کہ اس فلم میں یہی چند کمزوریاں نہیں۔

زیادہ تر مکالموں کے ماخذ ایلینور کے خطوط اور دیگر تحریریں ہیں۔ تاریخی لحاظ سے یہ درست اور تخلیقی صلاحیت کا اظہار ہے مگر اچھی فلم بنانے کے لئے یہی کچھ کافی نہیں ہوتا۔ اس فلم کو بہت جاندار ہونا چاہئے تھا اور پتہ چلنا چاہئے تھا کہ اس فلم کے کردار پر جوش لوگ تھے۔ رومولا گورائی کا کیمرے کے سامنے ایلینور کی چند تحریریں پڑھ دینا سیکھنے کی حد تک تو اچھا تجربہ ہو سکتا ہے مگر اسے ایک اچھی فلم تکنیک نہیں کہہ سکتے۔

بعض دیگر مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایلینور غیر جذباتی انداز میں مزدوروں کے جلسوں سے خطاب کر رہی ہے۔ یہ تقریریں ایلینور کی تحریروں سے اخذ کی گئی ہیں۔ ایلینور جس خشک مزاجی سے تقریریں کرتی دکھائی دیتی ہے اس سے ہرگز اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک پرجوش منتظم اور رہنما تھی جیسا کہ وہ تھی۔

تھریش پَنک کا گانا فلم میں شامل کیا گیا ہے جو کسی طور فلم سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس فلم کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ناظرین مارکس کے خاندان سے بھی بخوبی واقف ہوں اور اس عہد کی تاریخ بھی سمجھتے ہوں۔ ایلینور کی بہنوں اور ان کے بچوں کا جس طرح ذکر کیا گیا ہے، عام انسان کی سمجھ میں بالکل بھی نہ آئے اگر اسے مارکس کے خاندان کی تفصیلات معلوم نہ ہوں۔

”مس مارکس“ میں برطانوی اداکار بھی ہیں مگر یہ فلم اٹلی اور بلجیم کی مشترکہ پیشکش ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بریگزٹ کے بعد ہونے والے برٹش فلم فیسٹیول میں اسے بھی شامل کیا گیا ہے۔

بشکریہ: گرین لیفٹ (آسٹریلیا سے شائع ہونے والا بائیں بازو کا جریدہ)