خبریں/تبصرے

علی وزیر کی استقامت نے سب کو مات دے دی!

اداریہ جدوجہد

جنوبی وزیرستان سے منتخب رکن ِ قومی اسمبلی علی وزیر کی درخواست ضمانت بالآخر 11 ماہ 14 دن بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے منظور کر لی ہے۔ قانونی تقاضے پورے کئے جانے کے بعد اگر مزید کسی مقدمے میں گرفتاری نہ کی گئی تو جلد علی وزیر سرکاری قید سے آزاد ہونگے۔

علی وزیر کو گزشتہ سال 16 دسمبر کو پشاور سے گرفتار کر کے کراچی جیل منتقل کیاگیا تھا۔ طویل قانونی اور اعصابی جنگ کے بعد علی وزیرکی درخواست ضمانت 30 نومبر کو منظور کی گئی۔ اس دوران متعدد قانونی موشگافیوں کا سہارا بھی لیا گیا اور علی وزیر کی قید کو طویل کرنے کیلئے مختلف حیلے بہانے بنائے گئے۔ تاہم اعصاب کی اس طویل جنگ میں علی وزیر ہی فاتح قرار پائے ہیں۔

علی وزیر کی درخواست ضمانت کی منظوری سے ایک روز قبل سپریم کورٹ میں ہونے والے اقدامات سے ایک مرتبہ پھر علی وزیر کی رہائی کے راستے میں مزید کچھ ماہ کی رکاوٹ کھڑی ہوجانے کے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ جمعہ کے روز ہونے والی سماعت پیر تک ملتوی ہونا اور جمعہ کے روز ہی مقدمے کو دوسرے بنچ کے سامنے منتقل کئے جانے پر پیدا ہونے والی تشویش پیر کی صبح مقدمہ ڈی لسٹ کئے جانے میں اس یقین میں تبدیل ہو گئی تھی کہ اب علی وزیر مزید کچھ ماہ تک جیل کی دیواروں میں ہی قید رہیں گے۔ تاہم اچانک سابقہ بنچ کی جانب سے ہی مقدمہ کی سماعت کا آغاز کئے جانا اور منگل کے روز تک مقدمہ کی سماعت ملتوی ہونے نے پھر اس فیصلے کے امکانات روشن کر دیئے تھے جو علی وزیر کی درخواست ضمانت کی منظوری کی صورت میں ظاہر ہوا۔

رکن قومی اسمبلی کی ضمانت کی منظوری سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی تو ثابت نہیں ہوپائے گی، البتہ یہ ضرور واضح ہوا ہے کہ حکمران طبقات کی لڑائی کے دوران ریاستی اداروں کے اندر دھڑے بندی اور تصادم آرائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کمزوریاں کہیں زیادہ گہری ہو چکی ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے پے درپے واقعات نے ریاست کے سامنے اس طرح کے چیلجز پیدا کر دیئے تھے کہ علی وزیر کو مزید بلاجواز قید و بند میں رکھنا اب ممکن نہیں رہا تھا۔

ریاست کی طرف سے دہشت گرد تحریک طالبان کے ساتھ معاہدے کی بازگشت، شدت پسند تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے، 100 سے زائد تحریک طالبان کے قیدیوں کی رہائی اور سعد رضوی کی رہائی جیسے واقعات نے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے تھے کہ جب دہشت گردوں کے ساتھ معاہدے ہو سکتے ہیں، دہشت گردی اور قتل عام کے الزام میں گرفتار لوگوں کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے، تو پھر علی وزیر نے ایسا کون سا جرم کیا ہے جس کی پاداش میں 7 لاکھ آبادی پر مبنی حلقہ کے ووٹروں کے منتخب کردہ عوامی نمائندے کو مسلسل ایک سال سے جیل میں قید کئے رکھا گیا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں اٹھنے والی آوازوں نے بھی عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی جیسے سوالات کو ایک مرتبہ پھر سے معاشرے کی متحرک پرتوں میں عیاں کر دیا تھا۔ عدلیہ کیلئے بھی یہ ضروری ہو چکا تھا کہ سرمایہ دارانہ ریاست کے اس اہم ترین ستون کی ساکھ کو برقرار رکھنے اور عوام میں اعتماد کو بحال کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی تاثر ایسا دیا جائے کہ جس سے یہ ظاہر ہو کہ عدالتیں آزادانہ اور بغیر کسی دباؤ کے فیصلے کر رہی ہیں۔

ایک اعلیٰ سطحی ان کیمرہ اجلاس میں پارلیمانی جماعتوں اورعسکری اداروں کے ذمہ داران کے مابین ہونے والے مکالمے اور علی وزیر کی رہائی کو انکے معافی مانگنے سے مشروط کئے جانے کی خبریں اور روداد بھی دانشورانہ حلقوں میں زیر بحث آتے آتے اب سوشل میڈیا کی زینت بنتی جا رہی تھی۔ سندھ حکومت کی جانب سے ایک جانب علی وزیر کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور پراسیکیوٹرز کے ذریعے سے مقدمہ کو التوا میں رکھنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں اور دوسری جانب سندھ حکومت مقدمہ سے لاتعلقی بھی اختیار کر رہی تھی۔ اگر کچھ نہیں ہو رہا تھا تو سندھ حکومت کی جانب سے مقدمہ واپس لئے جانے کا اعلان تک نہیں کیا جا رہا تھا۔

سب سے بڑھ کر علی وزیر کی جرأت، استقامت اور حوصلہ تھا جو ہر ظلم اور جبر کے سامنے ٹوٹنے سے انکار کر رہا تھا۔ ایک ایسا انقلابی رہنما جس نے دہشت گردی کے خلاف پرامن سیاسی جدوجہد کی پاداش میں خاندان کے 17 افراد کو دہشت گردوں کے ہاتھوں کھو دیا۔ اس کے خاندان سمیت اس کے علاقے اور ملک بھر میں ہزاروں بے گناہوں کو دہشت گردی کے واقعات میں نشانہ بنانے کے ذمہ داران کو دوبارہ مین سٹریم میں لائے جانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف پرامن سیاسی جدوجہد کرنے والے انقلابی رہنما علی وزیر کو قید و بند کی سزائیں دیکر ظلم کے آگے مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ علی وزیر کو توڑنے کیلئے ہر طرح کے انتقامی ہتھکنڈے استعمال کئے گئے، اسپیکر اسمبلی علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کر سکے۔ علی وزیر کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، ہتھکڑیوں میں جکڑ کر عدالت لایا جاتا رہا، گرفتاری کے ابتدائی ایام میں جیل میں ننگے فرش پر بٹھانے جیسے اقدامات بھی کئے گئے۔

علی وزیر کی اس استقامت نے عالمی سطح پر محنت کشوں کی تنظیموں، نوجوانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو اس کی حمایت پر مجبور کیا۔ دنیا بھر میں علی وزیر کی رہائی کیلئے احتجاج منظم ہوئے، پشتون تحفظ موومنٹ نے بھی وقفے وقفے سے علی وزیر کی رہائی کے لئے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ ملک بھر میں ترقی پسند تحریک کی جانب سے علی وزیر کی رہائی کیلئے مسلسل احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ سب سے بڑھ کر علی وزیر نے ہر ظلم اور جبر کے سامنے اپنی ناساز طبیعت کے باوجود جھکنے سے انکار کیا۔ ہر عدالتی پیشی اور ہر ملاقات پر علی وزیر کے چہرے پھر پھیلی مسکراہٹوں اور جواں مرد حوصلے نے بھی بتدریج طاقت کے مراکز کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ یہاں تک کہ بلاول بھٹو زرداری، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ سعد رفیق جیسے حکمران طبقات کے نمائندوں نے بھی علی وزیر کی رہائی کے مطالبات کئے۔

یہی وہ وجوہات تھیں کہ علی وزیر کو اب مزید جیل میں رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ اس طویل ترین اعصابی جنگ میں علی وزیر حقیقی فاتح بن کر ابھرے ہیں۔ تاہم اس ایک اقدام کی وجہ سے نظام انصاف پر عوام کا اعتماد بحال کرنا اب ممکن ہیں رہا ہے۔ یہ نظام جتنا بوسیدہ ہو چکا ہے، اس کی ریاست کا ہر ڈھانچہ اتنا ہی گل، سڑکر متروک ہو چکا ہے۔ انصاف کی فراہمی سمیت معاشرے کے ہر مسئلے کے حل کیلئے اس سماج کی انقلابی جراحی کی ضرورت ہے، تاکہ ایک ایسے معاشرے کو تعمیر کیا جا سکے جہاں ہر طرح کے استحصال اور تفریق کا خاتمہ کیا جا سکے۔