نقطہ نظر

گوادر دھرنے کے 18 دن: ’مولانا ہدایت اللہ کی قیادت کئی خدشات کو جنم دے رہی ہے‘

حارث قدیر

محمد اکبر نوتزئی کا کہنا ہے کہ گوادر میں جاری تحریک جماعت اسلامی کے مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں ہے،اس تحریک میں تمام ہی مکاتب فکر کے لوگ بشمول خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اب یہ تحریک ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے، تاہم کچھ لوگوں کا خدشہ ہے کہ مولانا کا اپنا ایجنڈہ ہے، جس کے ذریعے سے وہ جماعت اسلامی کی سوچ کو اس خطے میں پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔ حالیہ تحریک میں ہزاروں مرد و خواتین کی شرکت نے مخالف قوتوں کو بھی خاموشی اختیار کرنے یا انکی حمایت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ محمد اکبر نوتزئی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں۔ وہ ملک کے معروف میڈیا گروپ’ڈان‘ سے منسلک ہیں اور بلوچستان کے مسائل کو مختلف پہلوؤں سے اجاگر کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز ’جدوجہد‘ نے انکا ایک خصوصی انٹرویو کیا، جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

گوادر میں کیا بنیادی مسائل ہیں، جنہوں نے ہزاروں لوگوں کو احتجاج پر مجبور کیا ہے؟

اکبر نوتزئی:بالخصوص گوادر اور بالعموم پورے ڈویژن مکران میں ہی بے شمار بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ پانی ناپید ہے، بجلی میسر نہیں ہے، روزگار کی سہولیات نہیں ہیں اور سب سے بڑھ کر سکیورٹی کے نام پر جگہ جگہ قائم چوکیاں شہریوں کی نقل و حمل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایران کے ساتھ تجارت کا سلسلہ بند ہونے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں تقریباً ماند پڑچکی ہیں۔ ماہی گیروں کو بھی شکار کے اوقات کار کم ہونے سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ گوادر پورٹ کی تعمیر کیلئے جاری منصوبوں میں جہاں زمینیں لیز پر سرمایہ کاروں کو فراہم کی جا رہی ہیں، وہاں مقامی شہریوں کو خدشہ ہے کہ وہ تمام تر زمینوں سے بھی محروم ہو جائیں گے اور ان منصوبوں میں انہیں روزگار بھی فراہم نہیں کیا جائیگا۔ماہی گیروں کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ مچھلیوں کے غیر قانونی شکار کا راستہ بھی روکا جائے، مقامی ماہی گیروں کے علاقوں میں باہر سے آنے والے بڑے شکاری آکر یہاں سے شکار کر رہے ہیں۔

احتجاجی تحریک کے مطالبات کیا ہیں اور یہ تحریک کتنے عرصہ سے جاری ہے؟

اکبر نوتزئی: یہ تحریک کافی عرصہ سے چل رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق امیدوار اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان اس تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس تحریک کے مطالبات بھی بنیادی نوعیت کے ہیں۔ پانی، بجلی اور روزگار کی فراہمی کے علاوہ سکیورٹی کے نام پر قائم کی گئی چوکیوں کا خاتمہ اس تحریک کے مطالبات میں شامل ہے۔ مولانا ہدایت الرحمان سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے ماضی میں مذہبی مطالبات کے گرد تحریک چلانے اور اپنی جگہ بنانے کی کافی کوششیں کی ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہو پائیں۔ اس مرتبہ مولانا ہدایت الرحمان،جو اس تحریک کی قیادت کر رہے ہیں، انتہائی بنیادی مسائل کو اجاگر کر کے عوامی اعتماد جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس تحریک میں تمام ہی پرتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں، جن میں قوم پرستوں کے علاوہ مین سٹریم پارٹیوں سے وابستہ لوگ بھی شامل ہیں اور اب اس تحریک میں مردوں کے ساتھ خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی شریک ہو رہی ہے۔

مذہبی جماعتوں کی بنیادیں نہ ہونے کے باوجود مولانا ہدایت الرحمان کیسے قیادت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے؟

اکبر نوتزئی: میرے خیال میں اس علاقہ میں بلوچ قوم پرستوں کی مضبوط بنیادیں رہی ہیں۔ قوم پرستوں کے سخت موقف، ان پر ریاستی دباؤ سمیت مختلف وجوہات ایسی ہیں کہ لوگ قوم پرستوں کی کال پر شاید اتنی بڑی تعداد میں باہر نکلنے سے کتراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کو فائدہ مل رہا ہے اور وہ انتہائی بنیادی مسائل کے گرد اس احتجاج کی مہم چلانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے مختلف طریقوں سے لوگوں کا اعتماد جیتا ہے۔ ابتدائی طور پر انہوں نے مذہبی بنیادوں پر سیاست کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں اس طرح سے کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ تاہم اس مرتبہ انہوں نے جو راستہ اختیار کیا اس میں وہ ابھی تک خاصے کامیاب اور مقبول ہو رہے ہیں۔

مولانا کی سکیورٹی چیک پوسٹوں کے خاتمے کیلئے سکیورٹی اداروں کے لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہوئے ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں۔ ایک فرق مین سٹریم میڈیا میں مولانا کی بھرپور کوریج نے بھی ڈالا ہے، جو شاید قوم پرستوں یا کسی بھی اور گروہ کو اس طرح سے نہیں مل سکتی تھی۔ شاید یہ بھی ہے کہ ریاستی ادارے بھی مولانا کو راستہ دے رہے ہیں کہ اگر وہ بنیادیں بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ قوم پرستوں کی نسبت ریاست کیلئے زیادہ قابل قبول اور فائدہ مند بھی ہو سکتے ہیں۔

آپ کے خیال میں ریاست مولانا کو اس تحریک میں ابھارنے کیلئے سپورٹ کر رہی ہے؟

اکبر نوتزئی: اگر سپورٹ نہیں کر رہے تو مخالفت بھی نہیں کر رہے۔ اصل میں بلوچ قوم پرستوں کا جو بیانیہ ہے وہ کافی سخت ہونے کی وجہ سے عوامی حلقوں میں اس طرح سے پذیرائی حاصل نہیں کر پایا، جبکہ مولانا عوام کے بنیادی مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں اور سادہ الفاظ میں روزمرہ زندگی گزارنے کیلئے درپیش مسائل سے چھٹکارے کی بات کر رہے ہیں، اس وجہ سے بھی انہیں عوام کی وسیع پرتوں سے حمایت مل رہی ہے۔ اس علاقے میں باقی کوئی بھی اس طرح کی سرگرمی نہیں کر سکتا۔ مولانا کا آرمی کے سامنے چیک پوسٹوں کے خلاف سخت تقاریر کرنے کا سلسلہ اور پھرمیڈیا میں ملنے والی کوریج اور مین سٹریم میڈیا میں بلوچستان سے متعلق روایات سے ہٹ کر مولانا کو جگہ ملنا بہت سے سوالات پیدا کر رہا ہے۔ جو بھی ہومولانا کمال ہوشیاری سے مسائل کو زیر بحث لا رہے ہیں اور ابھی تک یہ تدبیر کامیاب جا رہی ہے۔ کچھ حلقوں کو لگتا ہے کہ مولانا کوسپیس دی جا رہی ہے۔ شاید انہیں لگتا ہے کہ اگر کل کو مولانا طاقت میں آجاتے ہیں تو انکے ہاتھ میں رہیں گے۔

افواہیں ہیں کہ مولانا خواتین کی بازاروں میں آمد اور کھیل کود کے خلاف بھی بات کرتے رہے، اب ان کی تحریک میں خواتین کی شرکت کی تبدیلی کیسے آئی؟

اکبر نوتزئی: احتجاجی مظاہروں میں پہلے مردوں کی ہی شرکت رہی ہے، اب بھی مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جیسے میں نے پہلے کہا کہ مولانا اپنی اور جماعت اسلامی کی سیاست کو مضبوط کرنے کیلئے کمال ہوشیاری سے کھیل رہے ہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد کو احتجاج میں شرکت کروانا بھی ایک سیاسی حکمت عملی کا ہی نتیجہ ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر میڈیا میں زندہ رہنا ہے اور تحریک کو مزید مقبول کرنا ہے تو انہیں اس طرح کے اقدامات کرنا ہونگے۔ خواتین کے حوالے سے موقف میں تبدیلی بھی اسی حکمت عملی کا ہی نتیجہ معلوم ہو رہی ہے۔

مولانا کی منصوبہ بندی پر جس طرح آپ سوالات اٹھا رہے ہیں، اس طرح دیگر کوئی سیاسی جماعت یا گروہ کیوں تنقید نہیں کر رہا، یا کوئی یہ سب کچھ سمجھ ہی نہیں رہا؟

اکبر نوتزئی: میرے خیال میں قوم پرستوں سمیت کچھ دیگر سنجیدہ فکر لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں لیکن اس وقت کوئی بھی بات کرنا نہیں چاہتا۔ اگر کوئی بات کرتا بھی ہے تو وہ عوامی فورم پر بات نہیں کرتا۔ اس کی وجہ پھر مولانا ہدایت الرحمان کی حکمت عملی ہے کہ وہ ان مسائل کی بات کر رہے ہیں جو اس علاقے کے تمام ہی لوگوں کے بنیادی مسائل ہیں۔ ان مسائل سے انکی روز مرہ زندگیاں جڑی ہوئی ہیں۔ اس لئے سوالات اٹھانے والے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت انکی جانب سے کی گئی مخالفت ہر دوطرح کے حالات کا ملبہ ان پر گرانے کا موجب بن سکتی ہے۔ کچھ حلقے باریکی سے یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں لیکن خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں کیونکہ مولانا ہدایت الرحمان عوامی اجتماع میں کہتے ہیں کہ میں عوام کی آواز ہوں۔ جماعت اسلامی سے تعلق ضرور ہے لیکن میں عوام کی بات کر رہا ہوں۔ بنیادی مسائل کی بات کر رہا ہوں۔

آپ کے خیال میں اس تحریک کے مسائل حل ہونے کے کتنے امکانات ہیں اور تحریک کا مستقبل کیا ہے؟

اکبر نوتزئی: ابھی تک تو مولاناہدایت الرحمان کا ’وائن شاپس‘ بند کرنے کا مطالبہ ہی منظور ہوا ہے۔ یہ مطالبہ عوامی مسائل سے تعلق رکھنے والا بھی نہیں ہے۔ جن لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی کمانے کے ذرائع نہیں ہیں ان کی زندگیوں میں وائن شاپ کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تاہم اس مطالبہ کی منظوری نے مولانا کی حمایت بڑھانے میں بنیادی کردار ضرور ادا کیا ہے۔ میرے خیال میں کچھ دیگر مطالبات بھی منظور کرنا ہونگے اور کوئی ایسے مطالبات بھی نہیں ہیں جو پورے نہ کئے جا سکیں۔ یہ تمام مطالبات صوبائی حکومت منظور کر سکتی ہے۔ مثلاً ماہی گیروں کے مسائل حل ہو سکتے ہیں، انہیں شکار کیلئے زیادہ وقت مل سکتا ہے، اسی طرح بجلی کی فراہمی اور پانی کی فراہمی جیسے بنیادی مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ بارڈر ٹریڈ کا مسئلہ بھی حل کیا جا سکتا ہے۔

چیک پوسٹوں کا خاتمہ اور عوامی نقل و حمل کو آسان کرنا شاید اتنے جلدی ممکن نہیں لگتا، کیونکہ گوادر پورٹ کی تعمیر سمیت دیگر منصوبوں پرچینی شہریوں کی بڑی تعداد میں موجودگی اور خود پورٹ کی سکیورٹی کیلئے کچھ نہ کچھ اقدامات تو اٹھانے پڑیں گے اور ان اقدامات کے پھر شہریوں کی زندگیوں پر اثرات بھی مرتب ہونگے۔

جہاں تک بات مستقبل کی ہے تو اگر کچھ مطالبات منظور ہوجاتے ہیں تو پھر مولانا ہدایت الرحمان کی صورت میں ایک ایسا چہرہ مل جائے گا جو عوامی حمایت کے ساتھ نہ بھی منتخب ہو تب بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا اور وہ بلوچ قوم پرستوں کی نسبت زیادہ پسندیدہ بھی ہوگا۔ اس علاقے کا جو سیکولر چہرہ تھا وہ بھی فرقہ واریت اور مذہبی منافرتوں کی نذر ہو سکتا ہے۔ ایک لمبے عرصے سے جو اس علاقے میں فرقہ وارانہ بنیادیں رکھنے کی کوشش مذہبی بنیادوں پر کی جا رہی تھی وہ اب عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے کی جانیوالی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں آسانی سے رکھی جا سکیں گی۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔