خبریں/تبصرے

وجود کے ہلکے پن کا ناقابل برداشت بوجھ

لاہور(جدوجہد رپورٹ) دی فرائیڈے ٹائمز کے معروف کالم ’سچ گپ‘ کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو اب محفلوں میں لوگوں کی نفرت اور حقارت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لوگ ان پر ہنستے ہیں اور ان سے ملنا گوارہ نہیں کرتے۔

کالم میں کہا گیا ہے کہ چند روز قبل ایک شادی میں انہوں نے شرکت کی اور ذرائع کے مطابق اکثر لوگ ان سے دور رہے، یہاں تک کہ انہیں سلام کرنے والے بھی ان کی پیٹھ پیچھے ان پر ہنس رہے تھے۔ ان سے سلام کرنے والے ایک شخص نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس نے ان سے ڈیم کی حالت کے متعلق پوچھا۔ ایک نے تو ان سے یہ بھی پوچھ ڈالا کہ جب وہ شادی میں شریک ہیں تو ڈیم کی حفاظت کون کر رہا ہے۔

کالم میں کئے گئے اس دعوے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو ریٹائرمنٹ کے بعد عوامی خفگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس نے عہدے پر رہتے ہوئے متعدد اقدامات کئے جن پر اس وقت بھی اعتراضات کئے گئے تھے، اور آج بھی ان اقدامات پر تنقید کی جاتی ہے۔

گزشتہ دنوں ان کی ایک مبینہ آڈیو ٹیپ بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں وہ زیر سماعت کیسوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے ان کے خلاف ایک بیان حلفی بھی دیا ہے، جس پر عدالت العالیہ اسلام آباد میں سماعت بھی جاری ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈیم کی تعمیر کیلئے ایک ڈیم فنڈ بھی قائم کیا تھا، جس میں چندہ جمع کرنے کیلئے دنیا بھر میں مہم چلائی گئی تھی، اس کے علاوہ ان کاروباری خاندانوں کو بھی ڈیم فنڈ میں رقم جمع کروانے کے احکامات دیئے گئے تھے جن کے کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھے۔ تاہم بعد میں اس ڈیم فنڈ کی رقم سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہے کہ وہ کہاں گئی، اور کس مقصد کیلئے استعمال کی گئی۔