نقطہ نظر

ٹی وی نے ہمیں زنانہ اور مردانہ ڈبوں میں تقسیم کر دیا ہے: اصغر ندیم سید

قیصر عباس

اگر موسموں کی رگوں میں لہو جم گیا ہے
شکاری کی آنکھوں میں بارود جلنے لگا ہے
دنوں کے تموج میں
سورج کا چہرہ اترنے لگا ہے
تو پھر
سانس لینے کی خواہش
نقب زن کی دھمکیوں سے زیادہ بری تو نہیں ہے
مجھے نظم لکھنے دو
کچھ دیر اپنی کمانوں کو نیچا کرو
آج چھٹی کا دن ہے

اپنے ماحول اور ارد گرد کی گھٹن پر لکھی گئی ایک نظم کا یہ بند جس شاعر کی تخلیق ہے اسے ہم اور آپ ٹی وی کے مقبول ڈرامہ نگار کے طور پر جانتے ہیں لیکن اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ اصغر ندیم سید جس اعلیٰ معیار کے ڈرامہ نگار ہیں اسی معیار کے نظم نگار بھی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نظم گوئی مشاعروں کی مقبول صنف نہیں ہے جہاں تغزل اور ترنم سے شعرا حضرات سامعین کا دل موہ لیتے ہیں۔

پی ٹی وی کے سنہری دور میں جن دانشوروں نے لازوال ڈرامے تحریر کئے ان میں اصغر ندیم سید ایک نمایاں نام ہے۔ ان کا تعلق دانشوروں کی اس نسل سے ہے جنہوں نے معاشرے کے روزمرہ مسائل پر کھل کر بات کی اور ملک میں ادب کے نئے معیار بھی تشکیل دئے۔

یہی نہیں، اپنے دانشورانہ سفر میں انہیں دشواریاں بھی پیش آئیں اور تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا جن کا انہوں نے ڈٹ کے مقابلہ کیا۔ 2014ء میں وہ ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی بھی ہوئے لیکن ان کا کام ایک ڈرامہ نگار، شاعر اور اردو ادب کے استاد کی حیثیت سے اب تک جاری ہے۔

پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے ایم اے اردو کے بعد انہوں نے بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ایک عرصے تک تعلیمی اداروں میں اردو ادب کے استاد رہے۔

اصغر ندیم سیداپنے ڈراموں میں عدم مساوات، خواتین کا استحصال اور جاگیر دارانہ رعونت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایس ٹی این چینل سے نشر کیا گیا ان کا ڈرامہ ”چاند گرہن“ مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا۔ پی ٹی وی کے لئے تحریر کئے گئے ان کے ڈرامے ”نجات“، ”ہوائیں“ اور ”غلام گردش“ اپنے موضوع اور سکرپٹ کے لحاظ سے لازوال تصور کئے جاتے ہیں۔

ڈراموں کی طرح انہوں نے نظم نگار کی حیثیت سے بھی نئے موضوعات اورایک منفرد پیرایہ اظہار کو اپنایا۔ نظموں میں فطرت، انسانی وجود اور سماجی استحصال ان کے مقبول موضوعات ہیں لیکن ان کے بقول غزل گوئی ان کے مزاج سے لگا نہیں کھاتی کہ وہ فکر کے بہتے ہوئے دریا کو ردیف اور قافیہ کے بندھنوں میں باندھنے کے قائل ہی نہیں ہیں۔

اس انٹر ویو میں انہوں نے اپنی دانشورانہ زندگی، رفقائے کار اور نگارشات سے پردہ اٹھا یاہے۔

آپ نے ترقی پسند موضوعات پرمقبول ڈرامے، نظمیں اور مضامین تحریر کئے ہیں۔ اس میں آپ کی ابتدائی تربیت، تعلیم اور ماحول کا کتنا ہاتھ تھا؟ اپنی ابتدائی زندگی کے متعلق کچھ بتائیے؟

میرا تعلق ملتان سے ہے۔ میں نے اپنی ساری تعلیم وہاں کے ہائی سکول میں جو اب نہیں ہے، اس کا نام ملت ہائی سکول تھا اور ایمرسن کالج ملتان میں حاصل کی۔ کالج ہی کے زمانے میں ترقی پسند اخبار روزنامہ امروز میں لکھنے لگا تھا۔ کالج کی سیاست میں دائیں بازو کے طلبہ سے ٹکراؤ لازمی تھا جس کے لئے میں نے اپنے کالم کو استعمال کیا۔ معروف سیاستدان جاوید ہاشمی کی مخالفت کی۔ مسعود اشعر اخبار کے ایڈیٹر تھے انہوں نے اور مشہور ترقی پسند رہنما سید قسور گردیزی نے تربیت کی جو میرے ننہالی بزرگوں میں شامل تھے۔ کالج کے ترقی پسند اساتذہ میں عرش صدیقی، ڈاکٹر اے بی اشرف اور سجاد جیلانی شامل تھے۔ اردو اکادمی ترقی پسند ادارہ تھا، میں اس کا سیکرٹری تھا۔ اس طرح ایک ایسا ماحول تھا جہاں مکالمے کی فضا موجود تھی۔ فکری ٹکراؤ کا سلسلہ بھی موجود تھا۔ کتابوں تک رسائی سید قسور گردیزی کی لائبریری کے ذریعے عمل میں آئی۔

میرے دوستوں کے کئی گروپ تھے جو میری تربیت میں بے حد مخلص کردار ادا کر رہے تھے۔ ایک دوست تھے جو ہم جماعت تھے وہ مجھے کراچی سے سوات تک مسلسل سفر میں رکھتے تھے۔ جو رفاقت انہوں نے دی اس نے دنیا کو دیکھنے کی نگاہ عطا کر دی۔ دوسرا گروہ ان دوستوں کا تھا جو صوفیا، ملنگوں، فن کاروں، میلوں، مزاروں، تکیوں اور خانقاہوں میں گھماتے پھراتے رہتے۔ ان میں منصور کریم، ارشد ملتانی، محمود نظامی اور ارشاد تونسوی شامل تھے۔ ملتان کے قبرستانوں میں ہم نے پٹھانے خان کے تکیوں پر شامیں گزاریں اور ان سے کافیاں سنیں۔ پھر نئے دوست بن گئے تو انہیں ریڈیو اور ٹی پر متعارف کرایا۔ پوری رات کار میں سفر کر کے خواجہ غلام فرید کے مزار کوٹ مٹھن پہنچے۔ سلام بھرا اور واپس مڑ آئے۔ راتوں کو کئی کوس کاسفر کر کے میلے دیکھنے جاتے جہاں عالم لوہار اور عنائت بھٹی پرفارم کر رہے ہوتے۔ کئی بار جنگلوں میں رات گزارتے تھے۔

تیسرا دوستوں کا گروہ وہ تھا جس کا ادب اور شاعری سے تعلق تھا۔ ملتان کے بیسیوں ہوٹلوں، چائے خانوں اور فٹ پاتھوں پر نئی شاعری، سرائیکی ادب اور نئے لٹریری نظریات پر بحثوں میں راتیں گزر جاتیں تھیں۔ ملتان قدیم زمانے ساتھ لئے چل رہا تھا۔ ایک گروپ نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ کا تھا جو میرے ساتھ محبت رکھتا تھا۔ اس میں شاعر اور ادیب تھے جنہیں میں نے اپنی رہنمائی میں لے لیا تھا۔ ان میں ابرار احمد مرحوم، ظفرجعفری مرحوم، شاہد مبشر اور شمعون سلیم جو مشہور اینکر جنید سلیم کا بھائی تھا شامل تھے۔

پھر ریڈیو ملتان کے پروڈیوسروں کا گروہ تھا جو مختلف شہروں سے آئے ہوئے تھے۔ ان میں موسیقار خیام کے بھائی عبدالشکور بیدل موسیقی کا پروگرام کرتے تھے۔ شاعری میں عبدالرشید، عابد عمیق اور مشتاق صوفی کے ساتھ سرمد صہبائی بھی میرے رفیق تھے۔ مشہور شاعر ثروت حسین سے ملتان ہی کے زمانے سے خط و کتابت ہوئی۔ ایک خط جو وہ ڈاک کے حوالے نہ کر سکے وہ اب دریافت ہوا جس میں انہوں نے مجھے یار غار کا لقب دیا ہے اور لکھا ہے کہ اصغر، ثروت اصل میں دونوں ایک ہی ہیں۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ اتنی شخصیات نے میری تربیت میں حصہ لیا اور اس کے بعد میں ڈرامے اور شاعری میں اپنی صلاحیت دکھا سکا۔

آپ اور دوسرے لکھاریوں نے پی ٹی وی کے لئے مقبول ڈرامے تحریر کئے۔ اب ایسے ڈرامے کیوں لکھے نہیں جاتے؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی نسل کے ڈرامہ نگاروں اور پی ٹی وی نے نئے لکھاریوں اور پروڈیوسروں کی تربیت میں اپنا کردار صحیح طور پر نہیں ادا کیا؟ یا پھر اور وجوہات بھی ہیں؟

میں اچانک ہی ڈرامہ نگار بن گیا۔ ضیاالحق کے مارشل لا نے مجھے سزا کے طورپر شکر گڑھ کالج میں تبدیل کر دیا۔ شادی لاہور میں ہونے کی وجہ سے میں لاہور بھی آ گیا اور پی ٹی وی لاہور میں کنور آفتاب نے مجھے ڈرامہ لکھنے کی ابتدائی تربیت دی جہاں سے میں نے سینکڑوں کھیل لکھے۔ بعد میں کئی سیریل لکھے جن میں دریا، پیاس، خواہش، الاؤ، جھیل کنارے، غلام گردش اور غریب شہر وغیرہ بہت مقبول ہوئے۔ اس وقت کے جن ٹی وی پروڈیوسروں اور ڈائریکٹروں کے ساتھ میں نے کام کیا وہ کسی بھی پاکستانی ڈرامہ نگار کو نصیب نہیں ہوئے۔ کنور آفتاب، نصرت ٹھاکر، یاور حیات، خواجہ نجم الحسن، قنبرعلی شاہ، راشد ڈار، ساحرہ کاظمی، اقبال انصاری، ظہیرخان، محسن علی اور حیدر امام رضوی نمایاں نام ہیں۔

آپ کے سوال کے مطابق ہوا یہ کہ اس سنہری دور کے بعد پی ٹی وی سے یہ لوگ ریٹائر ہو گئے تو ان کی جگہ ان پروڈیوسروں نے لے لی جو صرف نوکری کرنے کے لئے سیاسی اثر و رسوخ پر ملازمت میں آئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی جو ڈرامہ نگار اچھے اور تخلیقی پروڈیوسرز کے ساتھ کام کر چکے تھے وہ ان ناآموز اور نوآموز ڈرامہ پروڈیوسروں کو اپنا سکرپٹ دینے پر تیار نہیں تھے کہ وہ سکرپٹ کا بیڑہ غرق کر سکتے تھے۔ اس لئے یہ روایت وہیں رک گئی اور اب ڈرامہ وہ نہیں رہا اب ڈرامہ مارکیٹنگ مینیجرز کے ہاتھ آ چکا ہے جو ڈرامے کو پیسہ کمانے کے لئے ٹارگٹ ’Audience‘ کے لئے لکھواتے ہیں۔

عام خیال یہ تھا کہ ٹی وی کو پرائیویٹ کمپنیوں کے طو رپر چلانے کے بعد مقابلہ بڑھے گا اور ان کے معیارمیں بہتری آئے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ نیوز، کرنٹ افیئرز، تفریحی پراگروموں اور ڈراموں میں بہتری کے بجائے تنزلی آئی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

پرائیویٹ چینلوں نے مارکیٹنگ کے نقطہ نگاہ سے اپنا فائدہ اس بات میں تلاش کیا کہ وہ معاشرے اور ملک کو تقسیم در تقسیم کے نظریے کے تحت تقسیم کر دیں۔ انہوں نے مردانہ ڈبہ الگ بنایا اور زنانہ الگ بنایا۔ سامنے انہوں نے کرنٹ افیئرز کے چینل لگائے اور پیچھے ڈراموں کے چینل لگائے۔ کرنٹ افیئرز مرد دیکھیں اور ڈرامے خواتین دیکھیں۔ یعنی گھروں میں تقسیم ڈال دی جس سے ہر گھر میں کم از کم دو ٹیلی ویژن خریدے گئے اور اس کا فائدہ ٹی وی بنانے والوں کو بھی ہوا۔ اس طرح باہمی مقابلے کے بجائے سب نے ایک جیسا مال بنانا شروع کر دیا۔ جس طرح مارکیٹ میں ایک طرح کے ٹی وی سیٹ، ایک طرح کے فریج، ایک طرح کے اے سی اور ایک طرح کی مشینیں مقابلے پر آتی ہیں ایسے ہی ایک طرح کے ڈرامے مقابلے پر کھڑے کر دئے گئے۔

ایک زمانے میں پی ٹی وی کے ڈرامے زندگی کے مسائل کی بات کرتے تھے۔ معاشرے میں خواتین کی حیثیت، طبقاتی شعور اور عام آدمی کے مسائل کو اجاگر کرنے میں ان ڈراموں نے اہم کردار ادا کیا۔ آج کا ٹی وی ڈرامہ زیادہ تر گھریلو سازشوں اور شادیوں کے گرد گھومتا ہے۔ کیا ہمارے اور مسائل حل ہو گئے ہیں؟ آپ کا تجزیہ؟

اس سوال کا جواب اوپر والے جواب میں موجود ہے اور آپ نے خود ہی جواب بھی دے دیا ہے کہ چینل جو ڈرامے بنا رہے ہیں ان کا مسئلہ پیسے کمانا ہے، معاشرے کی بہتری نہیں ہے۔ اس لئے لوئر مڈل کلاس کو وہ کچھ دکھانا چاہتے ہیں جن میں وہ معاشرتی طور پر پھنسی ہوئی ہے۔

آپ نظم کے مستند شاعر بھی ہیں۔ نظم اور غزل میں آپ نے صرف نظم ہی کو کیوں چنا؟ کیا غزل اکیسویں صدی کے تقاضوں سے میل نہیں کھاتی؟

میں نے نظم کو اس لئے چنا کہ میں مصرعہ پر مصرعہ نہیں بٹھا سکتا تھا۔ کہ یہ ایک طرح کی بے ساختگی کا مطالبہ کرتا ہے۔ میں صرف بے ساختہ بات نہیں کر سکتا۔ مجھے ن.م.راشد کی طرح فکری سطح پر اپنے مضمون کی جدلیات کو سمجھنا ہوتا ہے۔ غزل کے خلاف نہیں ہوں۔ مگر غزل آپ کو دریا کوزے میں بند کر کے دیتی ہے۔ میں دریا کو کیوں بند کروں۔ میں دریا کو پھیلا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں اس لئے نظم لکھتا ہوں۔

نظم نگاری میں آپ کا ایک منفرد انداز ہے۔ ”تاریخ ایک خاموش زمانہ“ جیسی نظموں میں آپ نے انسانی ارتقا کا پورا تصور سمیٹ لیا ہے۔ ایک اور نظم ”زندگی موت کا آئینہ ہے“ میں آپ کہتے ہیں ”جیسی زندگی ہم گزارتے ہیں ویسی موت ہمیں ملتی ہے۔“ ان نظموں کے ذریعے آپ قاری کو کیا پیغام دینا چا رہے ہیں؟

میری نظموں کے دو مجموعے ہیں۔ ایک کا نام ”جنگل کے اس پار جنگل ہے“ اور دوسرے مجموعے کا نام ”ادھوری کلیات“ ہے۔ اس پر کئی تبصرے ہوئے کہ کلیات میں مکمل کلام ہوتا ہے تو پھر ”ادھوری کلیات“ کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ ادھوری بھی ہے اور کلیات بھی ہے۔ گویا ایک تضاد ہے۔ تو میرا جواب یہ ہے کہ میں ابھی زندہ ہوں بفضل تعلی، تو اب تک کی یہ کلیات ہے۔ آگے اور شاعری اس میں شامل ہو سکتی ہے۔ اس لئے یہ ادھوری کلیات ہے۔ اس میں میری شاعری کے کئی تجربے، طرز احساس اور موضوعات ہیں جن کے ذریعے میں قاری کو فطرت سے محبت، کائنات کے تمام رنگوں سے وابستہ ہونے، موسموں، فضاؤں، انسانوں، جذبوں اور رشتوں سے جڑنے کا پیغام دے رہا ہوں۔

کہا جا رہا ہے کہ اب معیاری اردو شاعری نہیں ہو رہی۔ کیا اردو ادب کا سنہری دور اب خاتمے پر ہے؟

معیاری اردو شاعری وہ ہی لوگ کر رہے ہیں جنہیں اللہ نے زندگی دی ہے اور جو نئے شاعر آ رہے ہیں وہ معاشرے میں رغبت اور شہرت کی دھن سے سرشار ہیں۔ اور وہ یو ٹیوب اور فیس بک کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ اردو کی شاعری کا سنہری دور ختم نہیں ہو گا، یہ روایت کئی دھاروں میں چلے گی۔

معاشرے میں پھیلی تنگ نظری اور دہشت گردی نے ادب، مصوری، موسیقی اور لوک ثقافت کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ آپ کا تعلق درس و تدریس سے بھی ہے۔ کیا ان رجحانات کی ترویج میں ہمارے تعلیمی اداروں کا ہاتھ بھی ہے؟

معاشرے میں پھیلی تنگ نظری اور تعصب کی ذمہ داری نہ تو تعلیم پر ہے نہ شاعر پر۔ یہ حکومت پر ہے کہ اس کا قانون، اس کی پارلیمنٹ، اس کا انصاف کا نظام اور اس کا انتظامی ڈھانچہ بے حد کمزور ہے اور یہ یر غمال ہو چکا ہے۔ انتہاپسند جماعتوں اور تنظیموں نے فوج اور اس کے اداروں کو کب کا یرغمال بنا دیا ہے۔ حکومت تو خود فوج کے گھٹنوں میں رہتی ہے۔

اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم بتدریج اظہار رائے کی آزادی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں؟ کیا یہ تاثر درست ہے؟

اس سوال کا جواب میں نے اوپر دے دیا ہے۔ ان حالات میں ہم کس طرح اظہار رائے کی آزادی حاصل کر سکتے ہیں جب ہم سب کسی بھی مصلحت اور عالمی جبر کے تحت کمزور اور مجبور کر دئے گئے ہیں۔ باقی باتیں بین السطور میں سمجھ لینی چاہئیں۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔