تاریخ

باچا خان بے مثال

حارث خلیق

ترجمہ: فاروق سلہریا

1987ء کی بات ہے، نومبر کا مہینہ تھا جب میں اور میرا ہم جماعت اشرف نور، یونیورسٹی کی جانب سے کرایا جا رہا پشاور کی ایک فیکٹری کا وزٹ کی بجائے لیڈی ریڈنگ ہسپتال جا پہنچے۔

ایک پرانے رکشے پر سوار، ان گنت سبزی اور فروٹ کی ریڑھیوں کو پار کرتے ہوئے، تیز رفتار اور دھواں چھوڑتی جیپوں سے بچتے بچاتے، ہسپتال کا وہ سفر آج بھی یاد ہے۔ میں اور اشرف نور این ای ڈی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی، کراچی کے طالب علم تھے۔ ایک گروپ کے ہمراہ ہم پاکستان بھر کا انڈسٹریل ٹور کر رہے تھے۔

پورے گروپ میں ہم دو کو ہی معلوم تھا کہ خان عبدالغفار خان، جنہیں پیار سے باچا خان کہا جاتا تھا اور وہ اسی نام سے مشہور تھے، پشاور کے ایک ہسپتال میں آخری سانسیں لے رہے ہیں۔

اشرف نور تھا تو پکا کراچی والا مگر اس کے خاندان کا تعلق کوہاٹ سے تھا۔ اشرف نور نے مجھے بتا رکھا تھا کہ اس کا خاندان باچا خان کا زیادہ حامی نہیں تھا مگر یہ بات اسے ضرور معلوم تھی کہ وہ تھے کون اور پشتونوں کے لئے ان کی، یا ان کی بنائی ہوئی خدائی خدمت گار تحریک کی کیا اہمیت تھی اور کس طرح باچا خان نے برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کی تھی۔

میرے سلسلے میں قصہ یوں تھا کہ پشاور جانا طے ہوا تو میرے والد نے تاکید کر دی کہ پشاور جاؤ تو باچا خان کی خیریت دریافت کرنے ضرور جانا۔ اپنی سوچ کی وجہ سے باچا خان بارے میرے والد کے دل میں جو تعظیم تھی، وہ تو ایک وجہ تھی۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ باچا خان کے ساتھ ان کے بچپن کی ایک خوب صورت یاد بھی وابستہ تھی۔ میرے ابا چھوٹے تھے جب انجمن کشمیریان ہند نے باچا خان کے کچھ ساتھیوں کو فرار کرا کے میرے پردادا کے لکھنو میں واقع گھر میں پہنچایا۔ یہ قصہ خوانی بازار پشاور میں ہونے والے قتل عام کے بعد کی بات ہے۔

لیڈی ریڈنگ میں جب ہم باچا خان کے وارڈ تک پہنچے تو اشرف نور کی پشتو بھی زیادہ کام نہ آئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ باچا خان سے ملاقات کے لئے بیگم نسیم ولی خان کی اجازت لینا ضروری ہے۔ بیگم نسیم ولی یا کوئی دوسرا شخص جو یہ اجازت نامہ جاری کر سکتا تھا، وہاں سرے سے تھا ہی نہیں۔ آخر کراچی کے ایک میڈیکل کالج کے پڑھے ہوئے نوجوان ڈاکٹر کو ہم پر یہ جان کر ترس آیا کہ ہم باچا خان سے ملنے کراچی سے آئے ہیں، پشاور میں فقط دو دن ہی رکیں گے اور یہ کہ ہمارے پاس وقت بالکل بھی نہیں ہے۔

باچا خان بہت کمزور ہو چکے تھے۔ ان کا بدن بیڈ سورز کا شکار ہو چکا تھا۔ ہم کچھ دیر ان کے پاس رہے۔ وہ زیادہ وقت بے ہوش ہی پڑے رہے۔ اس حالت میں بھی ان کی بڑی سی ناک ان کا نمایاں ترین نقش تھا۔ ہم نے نوجوان ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور ہسپتال سے رخصت ہوئے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے اس مختصر سے دورے کی یاد مجھے ’باچا خان: مائی لائف اینڈ سٹرگل‘ پڑھتے ہوئے آئی۔ پشتو زبان میں لکھی گئی باچا خان کی اس سوانح حیات کا انگریزی ترجمہ امتیاز احمد صاحبزادہ نے کیا ہے۔ 550 سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب کو فولیو بکس نے گذشتہ سال پاکستان جب کہ رولی بکس نے بھارت میں شائع کیا ہے۔

قبل ازیں، 1969ء میں بھارت سے باچا خان کی سوانح عمری شائع ہوئی تھی۔ اپنی یہ کہانی باچا خان نے اردو میں کے.بی.نارنگ کو سنائی تھی۔ اس کہانی کو ہیلن بومن کی مدد سے انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔ باچہ خان البتہ اس کتاب سے مطمئن نہ تھے لہٰذا اپنے چند ساتھیوں کی مدد سے انہوں نے پشتو میں اپنی خود نوشت لکھنی شروع کی۔ 1983ء میں یہ کتاب پشتو زبان میں شائع ہوئی۔ امتیاز احمد صاحبزادہ نے پشتو سے اس کتاب کو انگریزی میں انتہائی سلاست کے ساتھ ترجمہ کیا ہے۔ اس ترجمے پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ اس طرح قارئین کی ایک بڑی پرت کے لئے ہماری تاریخ کا ایک اہم باب اب دستیاب ہو گیا ہے۔

اپنے ہم عصر اور اپنے بعد آنے والے مفکرین، مصلحین اور سیاسی رہنماوں کے مقابلے پر باچا خان چار وجوہات کی بنا پر ممتاز ہیں۔ اؤل، وہ سامراج مخالف ہی نہیں جدت پسند بھی تھے۔ دوم، ان کی پشتون شناخت اور کل ہند سیاسی شناخت سے کوئی تضاد نہیں تھا۔ سوم، ان کی سیکولر سیاست اور اسلامی اقدار میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ آخری بات، وہ اپنی جنگجو میراث سے تائب ہو کر عدم تشدد کے راستے پر چل پڑے۔

تضادات ایک انسان کو عظیم بناتے ہیں۔ ان تضادات کا حل نکالتے ہوئے آگے بڑھنا اس سے بھی زیادہ بڑا پن ہے۔ باچا خان اس لا جواب عظمت کے درجے پر پہنچے۔ وہ ایک بے مثال شخصیت تھے۔ انہوں نے پشتون ہی نہیں بلکہ ہر جنوب ایشیائی انسان کے لئے آزادی کی شمع روشن کی۔ ایک سچے گاندھی وادی کی طرح انہوں نے ہمیشہ طاقت ور کے سامنے کلمہ حق کہا۔

ان کی جدوجہد اپنے لوگوں کی دانشورانہ اور عملی آزادی کے لئے تھی۔ آزادی سے پہلے بھی اور بعد میں بھی پابند سلاسل رہے، انہوں نے 27 سال جیل میں گزار دئیے۔ کبھی پاؤں میں لغزش نہیں آئی۔ ایسی بڑی جدوجہد نیلسن منڈیلا اور فادر ڈسمینڈ ٹوٹو سے منسوب کی جاتی ہے جن کا چند ہی دن پہلے انتقال ہوا مگر ان دونوں کو ان کی زندگی میں ہی تسلیم کیا گیا۔

برطانوی راج کے خلاف باچا خان کی جدوجہد کو پورے برصغیر میں تسلیم کیا گیا۔ اس جدوجہد کے ساتھ ساتھ انہوں نے پشتونوں میں اصلاح کے لئے بھی جدوجہد کی جس سے ہمیں سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی سیاسی عمل جو مقامی سماج کے ساتھ نہ جڑا ہو، بے معنی ہوتا ہے۔ انہوں نے لڑکیوں کے سکول کھولے اور اپنے علاقے میں لوگوں کو کھیتی باڑی پر لگایا تاکہ وہ خوراک میں خود کفیل ہو سکیں۔

اس مقامی جدوجہد کے ساتھ ساتھ وہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن، بعد ازاں، موہن داس کرم چند گاندھی کے ہمراہ، ہندوستان کی آزادی کے لئے بھی سرگرم تھے۔ جو جدوجہد انہوں نے اپنے گاؤں اتمان زئی میں شروع کی تھی، وہ پورے جنوبی ایشیا تک پھیل گئی۔ اس سوانح عمری میں ہر بات کا، بیسویں صدی کے آغاز سے لے کر 1947ء تک، بخوبی احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے آخر میں مترجم نے ایک مختصر سے باب میں باچا خان کی 1947ء کے بعد کی زندگی کا احوال بیان کیا ہے مگر بہت سے سوال تشنہ رہ گئے ہیں۔

ان دنوں کہ جب پشتون ثقافت طاقتوروں کے نشانے پر ہے اور اسے عورت دشمن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، میں باچا خان کی تعلیمات سے متاثر خواتین کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جنہوں نے باچا خان سے کہا تھا ”اگر پشتون نوجوان کی پاؤں میں لغزش آئی تو اے فخر افغان ہم لڑکیاں آپ کے لئے کامیابی کو یقینی بنائیں گی“۔

بشکریہ: ڈان

حارث خلیق شاعر ہیں۔ ان کی شاعری کی کتاب ’حیراں سر بازار‘ کے عنوان سے شائع ہو چکی ہے۔ ان کی مدون کی ہوئی کتاب ’Pakistan Here and Now: Insights into Society, Culture, Identity and Diaspora‘ کے عنوان سے حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔