خبریں/تبصرے

اپوزیشن کے خلاف زیادہ بد زبانی پر ترجمانوں کو عمران خان سے زیادہ شاباش

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کی حال ہی میں تحلیل ہونے والی مرکزی تنظیم میں بطور سیکرٹری اطلاعات ذمہ داریاں سرانجام دینے والے احمد جواد نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان بدتمیزی، بد تہذیبی، بھانڈ پن اور دوسروں کا تمسخر اڑانے کی خوبیوں کے حامل ترجمانوں سے زیادہ خوش ہیں اور جو جتنی زیادہ بدتمیزی اور بدتہذیبی کرتا ہے، جتنا زیادہ اپوزیشن کے خلاف سخت زبان استعمال کرتا ہے، اسے عمران خان اسی قدر زیادہ نوازتے بھی ہیں۔

صحافی اسد طور کو دیئے گئے انٹرویو میں انکا کہنا تھا کہ ”عمران خان ملکی تاریخ کے واحد وزیر اعظم ہیں جنہوں نے درجنوں ترجمان اور معاون خصوصی میڈیا کیلئے رکھے ہوئے ہیں۔ دو دو گھنٹے ان ترجمانوں کے ساتھ وزیر اعظم کے اجلاس ہوتے ہیں، جن میں نواز شریف اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں سے متعلق کی گئی ’ٹویٹس‘ اور بیانات سے متعلق ہی بات ہوتی ہے اور عمران خان مزید سخت زبان استعمال کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہیں۔“

انکا کہنا تھا کہ ”جس نے سب سے زیادہ بدتمیزی اور بدتہذیبی کی ہوتی تھی اس کو شاباش دی جاتی تھی، اس کے عہدوں اور اس پر نوازشات میں اضافہ ہو جاتا تھا۔“

انہوں نے انکشاف کیا کہ ”علی محمد خان کو ابتدائی دنوں میں ایک اجلاس میں وزیر اعظم نے اس لئے ڈانٹ دیا کہ وہ تہذیب کے دائرے میں میڈیاپر گفتگو کر رہے تھے۔ اس کے بعد علی محمد خان نے بھی نوکری بچانے کیلئے چھلانگیں مارنا شروع کر دیں۔“

انکا کہنا تھا کہ ”میں نے ایک اجلاس میں یہ کہہ دیا کہ اپوزیشن کا کام تنقید کرنا ہوتا ہے۔ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو ہم تنقید کرتے تھے، آج دیگر جماعتیں جو اپوزیشن میں انکا کردار یہی ہے کہ وہ تنقید کریں۔ تاہم ہمارا کام تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ ہمارا کام کارکردگی دکھانا اور’ڈلیور‘ کرنا ہے۔ آج ہمیں موقع ملا ہے، ہمیں اپنی کارکردگی پر بات کرنی چاہیے۔ وزیر اعظم نے میری گفتگو کو درمیان میں ہی روک کر کہا کہ تم چپ کر جاؤ، تمہیں نہیں کچھ نہیں پتہ…چند دن بعد مجھے ترجمانوں کی فہرست سے بھی نکال دیا گیا اور اجلاسوں میں دعوت ملنا بھی بند ہو گئی۔“

انکا کہنا تھا کہ ”آج پی ٹی آئی کے کارکنان کے اندر عمران خان اور دیگر قیادت کے خلاف شدید غم و غصہ اور رد عمل موجود ہے۔ میں نے آواز اٹھائی تو پوری دنیا سے تحریک انصاف کے لوگ مجھے پیغامات بھیج رہے ہیں کہ آپ ہماری آواز ہیں۔ یہ سب کچھ عمران خان کو نظر نہیں آ رہا ہے، انہیں کچھ پتہ نہیں کہ نیچے کیا کچھ ہو چکا ہے۔“