خبریں/تبصرے

براعظم ایشیا: 1 فیصد امیر افراد 90 فیصد غریبوں سے زیادہ دولت کے مالک

لاہور (جدوجہد رپورٹ) عدم مساوات، غربت اور نا انصافی کے خلاف گلوبل تحریک ’آکسفیم‘ نے اپنی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس نے براعظم ایشیا میں غربت اور امارت کے درمیان تفاوت میں انتہائی خوفناک کردار ادا کیا ہے۔ کورونا وبا کیوجہ سے 148 ملین ایشیائی باشندے غربت میں دھکیلے گئے ہیں جبکہ ارب پتیوں نے اپنی دولت میں 1.46 ٹریلین ڈالر اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پورے ایشیا میں وبائی مرض نے زندگیوں اور معیشت کو بری طرح برباد کیا ہے۔ 147 ملین افراد سے ملازمتیں چھینی گئی ہیں، جبکہ 148 ملین ایشیائی باشندے غربت میں دھکیلے گئے ہیں۔ تاہم دوسری طرف اس خطے کے ارب پتیوں نے اپنی دولت میں 1.46 ہزار ارب ڈالر کا اضافہ کیا، جس کی وجہ سے عدم مساوات میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایشیا کے امیر ترین ایک فیصد افراد اب غریب ترین 90 فیصد سے زیادہ دولت کے مالک ہیں اور موجودہ عدم مساوات اور کورونا وائرس کے اثرات نے خطے میں کئی دہائیوں تک مساوی ترقی کے امکانات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ موجودہ معاشی پالیسیوں میں دولت مندوں کے حق میں دھاندلی کی گئی ہے، جس سے وہ دولت کی ناقابل یقین مقدار جمع کر سکتے ہیں، جبکہ غریب ترین افراد کیلئے دولت حاصل کرنے کے امکانات اب تقریباً معدم ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کمزور گروہ جیسے خواتین، نسلی اور مذہبی اقلیتیں اور تارکین وطن کارکنان سب ہی ان پالیسیوں سے متاثر ہوئے ہیں، انکی آمدنی کم ہو گئی ہے اور ضروری خدمات تک ان کی رسائی کم ہو گئی ہے۔ سکولوں کی بندش نے تعلیمی نظام کو مزید خراب کیا۔ ایک اندازے کے مطابق 10.45 ملین بچے ہمیشہ کیلئے سکول اور یونیورسٹی چھوڑ چکے ہیں، جس کے ان کی زندگی پر بہت سنگین نتائج مرتب ہونگے۔

رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا، پاکستان اور فلپائن جیسے ممالک میں 46 سے 64 فیصد گھرانے فنڈز کی کمی کی وجہ سے طبی امداد حاصل کرنے سے قاصر تھے۔ ایشیا میں 70 فیصد سے زائد خواتین صحت کے شعبہ سے منسلک ہیں لیکن اس کے باوجود 60 فیصد سے زائد کو وبائی امراض کے دوران صحت کی سہولیات کے فقدان کا سامنا کرنا پڑا۔ خواتین کو گھریلواور صنفی تشدد کا سامنا کرنا پڑا جبکہ نوعمروں کی شرح عمل اور غیر محفوظ اسقاط حمل بڑھ گئی۔

رپورٹ کے مطابق امیر ترین افراد کو وبائی مرض کے اثرات سے بچایا گیا ہے اور بہت سے لوگ ترقی کی منازل طے کر گئے ہیں۔ خطے میں ارب پتیوں کی تعداد مارچ 2020ء میں 803 سے بڑھ کر نومبر 2021ء میں 1087 ہو گئی اور ارب پتی اپنی دولت میں 74 فیصد اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہاں تک کہ کچھ امیر اشیائی باشندوں نے وبائی مرض سے براہ راست فائدہ اٹھایا اور مارچ 2021ء تک 20 ایسے نئے ایشیائی ارب پتی تھے جن کو وبا کے دوران درکار آلات، دوا سازی اور دیگر خدمات کی وجہ سے بے پناہ دولت کمانے کا موقع ملا۔

رپورٹ میں آکسفیم نے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا کے کروڑ پتیوں اور ارب پتیوں پر 2 سے 5 فیصد کا ویلتھ ٹیکس ہر سال 776.5 ارب ڈالر آمدن ہو سکتی ہے، یہ رقم خطے میں صحت پر عوامی اخراجات میں 60 فیصد اضافہ کرنے کیلئے کافی ہو گی۔