پاکستان

عمران حکومت کا خاتمہ : ایک مختلف نقطہ نظر

ناصر اقبال

10 اپریل 2022ء کو بلآخر عمران خان کی حکومت رخصت ہو گئی یا کر دی گئی۔ حکومت کیسے گئی اور کیوں گی؟ پہلے سوال کا جواب تقریباً ہر پاکستانی ٹی وی اور سوشل میڈیا پر براہ راست سن اور دیکھ چکا ہے اب شاید مزید کسی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں البتہ دوسرا سوال کہ کیوں گئی پر کئی طرح کی وضاحتیں، سازشی نظریات اور بحثیں زیر گردش ہیں۔

حکومت چونکہ خان صاحب کی یا تحریک انصاف کی گئی ہے لہٰذا حکومت جانے کی وجوہات بیان کرنے کا پہلا حق صرف تحریک انصاف کا ہی بنتا ہے۔ ان کے تئیں حکومت کے خاتمے کی سازش امریکہ میں کی گئی جس پر مقامی سہولت کاروں کے ذریعے سے عمل درآمد کیا گیا۔ سازش کے محرکات میں دورہ روس اور ’Absolutely not‘ کو تصور کرتے ہیں۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ انہوں نے آج تک نہ صرف ’مقامی سہولت کاروں‘ کے نام نہیں بتائے بلکہ اگر کوئی شریر اس ضمن میں سوال کر بیٹھے تو جواب میں اداروں کی تعریف کرنے لگتے ہیں۔

پاکستان کی مختصر تاریخ میں چند فوجی اور باقی جمہوری حکومتیں آئیں اور گئیں۔ ہر حکومت کے آنے اور چلنے کے عوامل مختلف ہیں اور جانے کے اور بھی مختلف ہیں۔ ان عوامل میں کچھ اندرونی اور کچھ بیرونی ہو سکتے ہیں۔ اس معاملے میں پاکستان کی تاریخ خاصی سادہ ہے۔ آج تک حکومتیں یا تو ووٹ کے ذریعے سے اور یا فوجی انقلاب کے ذریعے سے ہی وجود پائی ہیں۔ اب حکومتیں تو جیسے تیسے بن جاتی ہیں لیکن ان کی کامیابی اور دورانیہ کا انحصار کچھ اور عوامل پر ہوتا ہے۔ نمایاں اندرونی عوامل میں حکمران پارٹی کی حکمت عملی اور اتحاد، تقریباً 3 سو سیاسی خاندانوں کی خوشنودی، انتظامیہ اور عدلیہ کے معاملات پلس خوشنودی۔ بیرونی عوامل میں عام طور پر سعودی عرب، امریکہ اور اسکے ذیلی ادارے، برطانیہ، چین اور مختصر حد تک یورپین یونین اور جاپان وغیرہ اثر انداز ہوتے ہیں۔

پاکستان کے سیاسی نظام کی طرح اس کی خارجہ پالیسی بھی سادہ رہی ہے۔ ایک ملک سے دشمنی یعنی انڈیا اور پانچ یا چھ ملکوں سے دوستی باقی دنیا سے ہمارا کبھی بھی مسئلہ یا معاملہ نہیں رہا۔ اس کی تازہ مثال یوکرائن روس جنگ ہے بشمول حکمران طبقات کے 90 فیصد عوام کو پتہ ہی نہیں کہ پاکستان سے چند ہزار کلومیٹر دور کونسا خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ بہرحال دوست ملکوں کے انتخاب میں یہ خاصیت ضرور ہے کہ یہ تمام مشکل گھڑی میں تھوڑا بہت کام آتے ہیں۔

ہوتا یہ ہے جب بھی پاکستان میں نئی حکومت آتی ہے تو تمام اندرونی اور بیرونی عوامل یا سٹیک ہولڈرز خاموشی سے اور روزانہ کی بنیاد پر حکومت کے لچھن یا چال چلن کی نگرانی شروع کر دیتے ہیں۔ جس طرح حصص مارکیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر حصص کی قیمت مقرر کی جاتی اسی طرح حکومت کی مضبوطی کے اندازے لگائے جاتے ہیں۔ جو حکومتیں اپنی ’کارگزاری‘ سے سٹیک ہولڈرز کو خوش کرنے میں کامیاب رہتی ہیں وہ چار دن زیادہ نکال جاتی ہیں۔ بصورت دیگر ہر ناراض ہونے والا فریق آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ جاتا ہے او ر حکومت اکیلی رہ جاتی ہے۔ نتیجہ پھرمجھے کیوں نکالا یا عالمی سازش کی گردان کی صورت میں نکلتا ہے۔

تحریک انصاف حکومت کا دورانیہ 3 سال، 7 مہینے اور 22 دن پر محیط رہا۔ اس عرصہ میں حکومت نے عوام سمیت تمام دوسرے اہم سٹیک ہولڈرز کو نہ صرف مایوس کیا بلکہ الٹا ان سے چھیڑ خانی کرتی رہی۔ مثال کے طور پر مہاتیر محمد اور اردگان کی صبح شام تعریفوں اور مراسم بہتر کرنے کی آرزوؤں سے کیا سعودی بادشاہ خوشی محسوس کرتا ہو گا؟ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دنیا کے اندر ایک مخاصمت کی فضا ہمیشہ موجود رہی ہے۔ سقوط کابل کے بعد امریکہ نے پاکستان سے کسی فوجی اڈے کا مطالبہ سرے سے کیا ہی نہیں اور یہ خواہ مخواہ میں ٹی وی پر بیٹھ کر ’Absolutely not‘ وغیرہ۔ اب ان باتوں سے امریکہ خوش تو نہیں ہو سکتا۔ یوکرائن کے مسئلہ پر یورپین یونین اور نیٹو کو کورا جواب۔ اپنے پورے دور حکومت میں خان صاحب ایک دفعہ بھی گوادر نہیں گئے اور سی پیک کے منصوبوں میں التوا سے عوامی جمہوریہ چین خوش تو نہیں رہ سکتا۔ دورہ روس اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہوا۔ یہ شاید ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کے تقریباً تمام حکمران طبقات اور عوام بھی امریکہ اور یورپ سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اور اپنا اور اپنی اولادوں کا مستقبل انہیں ملکوں میں دیکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو دو چار لوگ ساتھ رہ گئے تھے وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے اور سواری سیدھی رنگون۔

غرض یہ کہ خان صاحب نے ہر اس شاخ نازک کو نہایت محنت سے کاٹا جس پر ان کی حکومت کا آشیانہ قائم تھا۔ اپنی اس سوچ اور کارکردگی کی بنا پر اس حکومت کی منطقی عمر تقریباً ایک سال ہی بنتی تھی مگر حکومتوں کو بر وقت ٹھکانے لگانے والے تمام عناصر کرونا وبا سے الجھ گئے تھے جس کی وجہ سے یہ بیکار حکومت اڑھائی سال مزید گھسٹتی رہی۔ خان صاحب کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ انہوں نے اپنے گھروں کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ اور نہ جانے کتنے گھروں کو تباہ کیا، علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کو کزن بنا کر ان کی سیاست کو تباہ کیا، اس کے بعد اپنی پارٹی کے اہم افراد کو اپنے ہاتھوں جیل بجھوا کر اپنی پارٹی کو تباہ کیا۔ تباہی کا یہ سفر کہاں جا کر رکناہے کم از کم راقم کو اس کا فہم نہیں ہے۔

اب دل کی ڈھارس فقط یہ کہ جلسے بھر پور ہو رہے ہیں تو اگلا سوال یہ بنتا ہے کہ الیکشن قبل از وقت ہو سکتے ہیں اور عمران خان کی حکومت دوبارہ سے آنے کے کتنے امکانات ہیں۔ قبل از وقت انتخابات کا عمرانی مطالبہ اپنی جگہ مگر اس وقت ملکی حکمران طبقات کی اپنی ضرورت بنتی ہے کہ جنرل الیکشن جلدی ہو جائیں اس لیے غالب امکان ہے کہ جون کے مہینے یعنی بجٹ کے بعد الیکشن کی صورت بن سکتی ہے۔ رہا سوال دور عمرانی کے دوبارہ آنے کا تو عرض ہے کہ پاکستانی سیاست کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ جانے والی حکومت فوری واپس نہیں آیا کرتی۔ اسے کم از کم ایک ٹرم کا انتظار کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس کے بعد چانس لگ سکتا ہے بشرطیکہ عرصہ ہجر کے دوران اسے کسی مناسب جگہ سے حلالہ کا سرٹیفیکٹ حاصل نہ ہو جائے۔

ناصر اقبال گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے پاکستان کی ترقی پسند تحریک کیساتھ وابستہ ہیں۔