پاکستان

اسلام آباد میں حکومت ٹوٹتے ہی مظفر آباد سرکار کی کانپیں ٹانگ جاتی ہیں

حارث قدیر

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ’بظاہر‘جمہوری اور غیر جمہوری طریقوں سے حکومتیں تبدیل کئے جانے کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ ابتدائی حکومت کے قیام سے ہی حکومت پاکستان کی مداخلت اور مقامی اقتدار کو قابو میں رکھنے کیلئے اس طرح کی حکمت عملی ترتیب دی جاتی رہی ہے کہ مارشل لا کے ایک 10 سالہ دور کے علاوہ کوئی حکومت بھی اپنے آپ کو مکمل بااختیار قرار دے کر اپنی مدت مکمل نہیں کر سکی۔ کئی حکومتیں اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی گرا دی گئیں، یا پھر انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا جاتا رہا ہے۔

یوں تو اکتوبر 1947ء میں ایک’انقلابی‘یا ’باغی حکومت‘کے نام سے داخلی طور پر ایک خودمختار حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ حکومت کے اعلامیہ میں پاکستان اور بھارت کو پڑوسی ممالک کے طور پر مخاطب کیا گیا تھا۔ اس حکومت کی ایک اپنی مقامی فوج بھی تھی، جسے آزادفورسزکہا جاتا تھا (بعد ازاں آزادکشمیر ریگولر فورسز کہا گیا)۔ یہ فورس 1972ء میں ’اے کے رجمنٹ‘ کے طور پر باضابطہ پاک فوج میں ضم کر دی گئی۔ تاہم روز اؤل سے ہی یہ حکومت ریاست پاکستان کے ماتحت رہی اور اس حکومت پر اعتماد کا فقدان بھی رہا، آزاد فورس بھی روز اول سے ہی پاکستانی فوج کے ہی ماتحت رہی۔

اعتماد کے فقدان مختلف وجوہات کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ ایک یہ کہ پونچھ سے ابھرنے والی خود رو سیاسی تحریک کے مسلح تحریک میں تبدیل ہونے کے بعد تحریک کی قیادت کے ذریعے ریاست پاکستان کا اس تحریک سے جو تعلق استوار ہوا، وہ محض اسلحہ وغیرہ کی فراہمی تک محدود تھا۔ حکومت پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے قبائلی لشکروں اور مقامی باغیوں کی جانب سے الگ الگ مقامات کو فتح کرنے اور مقامی باغیوں کی وجہ سے ’جنجال ہل پلندری‘ میں دارالحکومت قائم کرنے سے بھی حکومت پاکستان کو خدشہ تھا کہ مقامی باغی مستقبل میں کنٹرول سے باہر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ مبینہ طور پر حکومت کی مشاورت یا رضا مندی کے بغیر ہی دارالحکومت کو مظفر آباد منتقل کر دیا گیا۔ دارالحکومت کی منتقلی کے باوجود حکومت بدستور سردار ابراہیم کے پاس ہی رہی۔ تاہم یہ سلسلہ زیادہ دیر تک پراعتماد طریقے سے چل نہ سکا۔

حکومت کے قیام کیلئے جمہوری طریقہ کار کو اپنانے کی بجائے واحد سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ اور پاکستان کی وزارت ’بے محکمہ، جو بعد ازاں وزارت امور کشمیر قرار پائی، کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ مشاورت سے حکومت کا انتخاب کرینگے۔ اسی طرح مقامی حکومت کے ساتھ جلد ہی ایک متوازی حکومت بھی قائم کر دی گئی۔ چوہدری غلام عباس کو ’آزاد حکومت‘ کا نگران مقرر کیا گیا اور انہیں بھاری فنڈز دیئے گئے، جن کے ذریعے انہوں نے درجن بھر افراد کا ماہانہ وظیفہ مقرر کرتے ہوئے اس متوازی حکومت کیلئے رائے عامہ ہموار کرنے کا فریضہ سونپا۔ اس کے علاوہ چوہدری غلام عباس کے پاس حکومت میں اکھاڑ پچھاڑ کے وسیع تر اختیارات بھی موجود تھے۔

حکومت پاکستان کے ساتھ اس خطے کے تعلقات کو وضح کرنے کیلئے تحریر کئے گئے ’معاہدہ کراچی‘ (1949ء) میں بھی چوہدری غلام عباس بطور صدر مسلم کانفرنس، سردار براہیم بطور صدر ریاست اور مشتاق گورمانی (وزیر بے محکمہ) کے دستخط موجود ہیں۔ مذکورہ معاہدہ کے تحت ہی نہ صرف گلگت بلتستان کو پاکستان کے براہ راست عارضی انتظام میں لئے جانے کے علاوہ مقامی حکومت کے اکثریتی اختیارات کو بھی حکومت پاکستان کے حوالے کر دیئے گئے تھے۔

متوازی حکومت کے قیام اور مقامی حکومت پر کنٹرول کو سخت گیر کرنے کیلئے پاکستان سے لینٹ افسران کی تعیناتی کے باوجود صورتحال بتدریج پیچیدہ ہوتی گئی۔ اس خطے کے اقتدار کو زیادہ قابو میں رکھنے کیلئے مختلف طرح کے حربے اختیار کئے جاتے رہے ہیں، جن میں سردار ابراہیم سے استعفیٰ لینا، انہیں معزول کرنا، ووٹ کے حق کیلئے ابھرنے والی تحریک کو ریاستی جبر اور فوج کشی کے ذریعے سے کچلنا اور متعدد حکومتوں کی تبدیلی اسی سلسلے کی ہی کڑیاں رہی ہیں۔

13 مئی 1950ء کو سردار ابراہیم سے استعفیٰ لے کر کرنل سید علی احمد شاہ کو صدر تعینات کر دیا گیا، جو اس عہدہ پر 4 دسمبر 1951ء تک برقرار رہے۔ اس دوران سردار ابراہیم کی کال پر عوام کے براہ راست ووٹ کے ذریعے حکومت منتخب کرنے کے مطالبہ پر تحریک شروع ہوئی۔ 5 دسمبر 1951ء کو میر واعظ یوسف شاہ کو بطور صدر تعینات کر دیا گیا، جو اس عہدہ پر محض 6 ماہ ہی رہ سکے اور 20 مئی 1952ء کو راجہ حیدر خان ایک ماہ کیلئے عبوری صدر بنے۔ اس عرصہ میں کسی حد تک احتجاجی تحریک میں بھی ٹھہراؤ آیا، تاہم حکومت پاکستان کی طرف سے ایک مرتبہ پھر کرنل شیر احمد خان کوبطور صدر تعینات کر دیا گیا۔ 21 جون 1951ء کو کرنل شیر احمد خان کے بطور صدر تعینات کئے جانے سے 30 مئی 1956ء کو انہیں ہٹائے جانے کے عرصہ کے دوران سیاسی تحریک نے مسلح عوامی بغاوت کی شکل اختیار کر لی تھی۔

یہ تحریک بغیر کسی واضح قیادت کے جاری رہی، سردار ابراہیم خان بھی اس عرصہ میں راولپنڈی میں وکالت کرتے رہے۔ تحریک کے مسلح کردار میں تبدیل ہونے سے متعلق مستند حوالہ جات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس عرصہ کی تمام تر تاریخ کو تقریباً مٹا دیا گیا ہے۔ تاہم اس بات پر کسی حد تک اتفاق ہے کہ فروری 1955ء میں اس وقت کے صدر کرنل شیر احمد خان پر پلندری میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ میں ملوث شخص کو گرفتار کرنے کیلئے مسجد پر چھاپہ مارا گیا، جس کے بعد پلندری میں تمام سرکاری دفاتر پر قبضہ کر لیا گیا۔ حکومت پاکستان نے تحریک کو کچلنے کیلئے پنجاب کنسٹیبلری (پی سی) اور کچھ حوالوں کے مطابق بعد ازاں پاک فوج کے دستوں کو بھیجا۔ اس دوران بڑے پیمانے پر قتل عام اور گرفتاریوں کے علاوہ بغاوت میں شامل افراد پر بھاری جرمانے بھی عائد کئے گئے۔

حالات کو قابو میں لانے کیلئے ایک مرتبہ پھر اقتدار میں تبدیلی کی گئی اور 30 مئی 1956ء کو میر واعظ مولانا یوسف شاہ کو ایک بار پھر مسند صدارت پر براجمان کیا گیا۔ تاہم وہ بھی صورتحال کو قابو میں رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور 8 ستمبر 1956ء کو انہیں برطرف کر کے سردار عبدالقیوم خان کو صدر تعینات کیا گیا، جو چند ماہ بعد 13 اپریل 1957ء کو اس عہدہ سے ہٹائے گئے اور ایک مرتبہ پھر سردار ابراہیم خان کو صدر تعینات کیا گیا۔ انہیں جب اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تھا تو انکا موقف تھا کہ عوام کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے، تاکہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے سے حکومت کا انتخاب کریں۔ تاہم عوامی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ایک مرتبہ پھر حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے انہیں جب ماضی ہی کے طریقہ کار سے بطور صدر تعینات کیا گیا تو انہوں نے یہ عہدہ قبول کر لیا۔ تحریک بھی زائل ہو گئی، لیکن سردار ابراہیم کا اقتدار بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکا، 30 اپریل 1959ء کو انہیں فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت نے اقتدار سے الگ کر دیا۔

اس خطہ میں حکومتوں کی تبدیلی میں جہاں پاکستان کی سیاست میں تبدیلیاں کارفرما رہی ہیں، وہیں اس خطہ کی حکمران اشرافیہ میں ابتدائی بنیادوں پر جموں، وادی اور پونچھ کی تقسیم کو پاکستانی حکومت کی طرف سے مزید تیز کرنے کا بھی عمل دخل رہا ہے۔ بعد ازاں علاقائی تقسیموں کی جگہ قبیلوں کی تقسیم نے لے لی۔ اب گجر، راجپوت، جاٹ، سدھن، مغل، عباسی اور دیگر قبیلوں کے علاوہ مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہریوں کی تقسیم ان تبدیلیوں میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔

مہاجرین جموں کشمیر کا کارڈ بھی پاکستانی حکومت کی طرف سے اپنے مفادات اور مقاصد کے تحت ہی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کو اس خطے میں حکومتیں بنانے اور تبدیل کرنے میں بنیادی محرک کے طور بھی استعمال کیا گیا۔ جب مہاجرین کے نمائندوں نے ریاست پاکستان کے مفادات کے تحفظ کی بجائے جموں کشمیر کی حکمران اشرافیہ کو بااختیار کرنے کی کوشش کی تو مہاجرین جموں کشمیر کو اس خطے کے اقتدارسے ہی بے دخل نہیں کیا گیا بلکہ مہاجرین جموں کشمیر کو اس خطے کی سیاست سے ہی بے دخل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

مقامی حکمران اشرافیہ کو آئین سازی اور قانون سازی کیلئے کسی بھی سطح پر مشاورت کا حصہ بنانے سے حتی الامکان اجتناب برتا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے ابتدائی ’رولز آف بزنس‘ کو واضح کرنے کیلئے 1950ء میں ایک آرڈیننس حکومت پاکستان کی طرف تیار کر کے نافذ کیا گیا، جس میں 1958ء تک مختلف طرح کی تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔ 1960ء میں بنیادی جمہوریت کا ایکٹ (بی ڈی ایکٹ) منظور کیا گیا، مذکورہ ایکٹ میں بھی 1964ء، 1967ء اور 1968ء میں ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں۔

مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کے اس خطے میں بطور صدر فرائض انجام دینے کے باوجود نافذ کردہ ایکٹ کو 1968ء میں ترمیم کرتے ہوئے مہاجرین مقیم جموں کشمیر کو ووٹ کے حق سے محروم کیا گیا۔ اس اقدام کے خلاف تحریک کے نتیجے میں 1970ء کا ایکٹ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے ہی منظور کیا گیا۔ تاہم مقامی قیادت کے مطالبات کو تسلیم کر کے یہ ایکٹ منظور کیا گیا۔ جس کے تحت ایک صدارتی انتخاب ہوئے اور پھر ایکٹ 1974ء نافذ کرتے ہوئے پارلیمانی جمہوری نظام قائم کر دیا گیا، جو تاحال جاری ہے۔

تاہم مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کا معیار ہمیشہ حکومت پاکستان کے مفادات کے تحت ہی طے کیاجاتا رہا ہے۔ بظاہر 1947ء کے بعد ہجرت کرکے پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہونے والے جموں کشمیر کے شہریوں کو ہی مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان قرار دیا گیا ہے۔ تاہم نمائندگی اور حقوق کیلئے سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو بنیاد بنایا گیا ہے، جس کا اطلاق 1927ء میں ہوا تھا۔ سٹیٹ سبجیکٹ کے تحت 1912ء سے قبل تک جموں کشمیر میں رہنے والے سٹیٹ سبجیکٹ درجہ اؤل اور دوم کے شہری قرار دیئے گئے تھے۔ تاہم موجودہ ممبران اسمبلی سمیت ماضی میں اقتدار رہنے والے خان عبدالقیوم خان کے بھائی عبدالحمید خان تک بے شمار ایسے لوگ بھی شامل ہیں، جو سٹیٹ سبجیکٹ کے اس اصول پرپورا ہی نہیں اترتے۔ دوسری طرف مقبول بٹ شہید جیسے افرادکیلئے اس اقتدار کے دروازے ہمیشہ بند ہی رہے ہیں۔

سردار ابراہیم خان کو معزول کرنے کے بعد پاکستان ہی کی طرزپر زیر انتظام علاقوں میں بے بنیادی جمہوریت کے تحت انتخابات کروائے گئے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں 1 مئی 1959ء کو بانی پاکستان محمد علی جناح کے ذاتی معاون رہ چکے کشمیری رہنما خورشید حسن خورشید (کے ایچ خورشید) صدر منتخب ہوئے۔ کے ایچ خورشید کو پہلا منتخب صدر بھی کہا جاتا ہے، تاہم مارشل لا کے ادوار میں ہونے والے انتخابات کی شفافیت ہمیشہ متنازعہ رہی ہے۔

کے ایچ خورشید بھی پاکستانی حکمرانوں کی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ 1963ء میں انہو ں نے اس حکومت کو پورے جموں کشمیر کی نمائندہ اور خودمختار حکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ مختلف ملک اس خودمختار اور نمائندہ حکومت کو تسلیم کرنے پر بھی آمادہ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ مقامی اسمبلی کو بااختیار کرنے کے علاوہ گلگت بلتستان کو بھی اسی حکومت کے ساتھ جوڑنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ چین بھارت جنگ کے عرصہ میں اس طرح کے مطالبات نے ایوب حکومت کو مشکلات میں ڈال دیا۔ خفیہ اداروں نے سردار عبدالقیوم خان اور مسلم کانفرنس کی دیگر قیادت کو کے ایچ خورشید کے خلاف تحریک چلانے کیلئے تیار کر دیا۔ مسلم کانفرنسی قیادت نے خود مختار اور نمائندہ حکومت تسلیم کئے جانے کے مطالبہ کو شہدا کے خون سے غداری قرار دے دیتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کر دی۔

مسلم کانفرنس کی احتجاجی تحریک کو جواز بنا کر 7 اگست 1964ء کو انتخابی عمل میں جائے بغیر سابق وزیر اعلیٰ شمال مغربی سرحدی صوبہ (خیبرپختونخوا) اور سابق وزیر داخلہ (پاکستان) عبدالقیوم خان کے بھائی عبدالحمید خان کو صدر کے عہدہ پر براجمان کر دیا گیا۔ وہ اس عہدہ پر 7 اکتوبر 1969ء تک رہے، جس کے بعد بریگیڈیئر عبدالرحمان کو عبوری صدر تعینات کیا گیا۔ وہ ایکٹ 1970ء کے تحت ہونے والے صدارتی انتخابات میں فتح یاب ہونے والے سردار عبدالقیوم خان کے حلف اٹھانے تک (30 اکتوبر 1970ء) صدر رہے۔

پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس خطہ میں ایکٹ1974ء کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ شیخ منظر مسعود کو16اپریل1975ء کو عبوری صدر تعینات کیا گیا۔ عبوری صدر کی نگرانی میں پارلیمانی طرز پر انتخابات ہوئے اور ماضی میں آمریت کے دور میں بطور صدر فرائض انجام دینے والے عبدالحمید خان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کی ایبٹ آباد کی نشست سے کامیاب ہو کر جون 1975میں وزیراعظم کے عہدہ پربراجمان ہوئے۔ اس دور میں سردار ابراہیم خان کو 5جون 1975کو صدر منتخب کیاگیا۔

جولائی 1978ء کو پاکستان میں ضیاء الحق کے مارشل لاء کے نفاذ کے ساتھ ہی اس خطہ کی حکومت کا بھی خاتمہ ہوا اور 30اکتوبرکو میجرجنرل حیات خان کو بطور صدر مقرر کر دیا گیا۔ دسمبر1984ء میں ضیاء الحق کے اپنے حق میں کرائے گئے ریفرنڈم کے بعد جب 1985ء میں پاکستان بھر میں انتخابات کا اعلان کیا گیا تو جون 1985ء میں پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیرمیں بھی انتخابات کروائے گئے۔ پاکستان ہی کی طرح یہاں بھی دیگر جماعتوں کی طرف سے بائیکاٹ کے باعث مارشل لاء کی حمایتی مسلم کانفرنس کی کامیابی یقینی تھی۔ یوں سردار سکندر حیات وزیراعظم اور سردار عبدالقیوم خان صدر منتخب ہوئے۔ اس حکومت نے اپنی 5سالہ مدت مکمل کی اور 1990ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو کامیابی ملی۔ تاہم بینظیر کی کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی 29جون 1990ء میں منتخب ہونے والے وزیراعظم راجہ ممتاز حسین راٹھور نے تحریک عدم اعتماد کے خدشہ کے پیش نظر اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔

اس وقت تک پیپلزپارٹی کے علاوہ پاکستان کی کسی جماعت کی اس خطہ میں کوئی شاخ موجود نہیں تھی۔ فوجی آمریتیں اور مسلم لیگ ہمیشہ مسلم کانفرنس کو ہی اپنی شاخ سمجھتے تھے۔ مسلم کانفرنس نے بھی الحاق پاکستان کی واحد داعی جماعت ہونے کی وجہ سے حکمران طبقات اور ریاست کے ساتھ اپنے تعلقات ہمیشہ مستحکم رکھے ہیں۔ تاہم بعد ازاں مشرف آمریت کے دوران مسلم کانفرنس کے فوجی حکومت اور مسلم لیگ ق کے ساتھ مستحکم تعلقات نے مسلم لیگ ن کی مقامی شاخ کے قیام کی راہ ہموار کی۔ 2010ء میں مسلم لیگ ن نے مقامی شاخ قائم کر لی اور تحریک انصاف نے بھی اپنی شاخ قائم کر دی۔ اس طرح ماضی میں لمبا عرصہ اقتدار میں رہنے والی مسلم کانفرنس محض ایک نشست تک محدود ہو کر رہ گئی۔

پاکستان میں قائم حکومتیں اپنی مخالف جماعت کی اس خطہ میں قائم حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے طاقت کے اصل منبع وزیر امور کشمیر، چیف سیکرٹری، سیکرٹری مالیات اور دیگر لینٹ افسران کو استعمال کرتی رہی ہیں۔یہی وجہ تھی کہ راجہ ممتاز حسین راٹھور کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے لینٹ افسران کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ وزیراعظم راٹھور کوکچھ فائلوں پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے چیف سیکرٹری کو کمرے میں بند کر کے جبری دستخط کرنے پر مجبور کرنا پڑا۔پاکستان کی وفاقی حکومت کے ساتھ اسی چپقلش کے دوران مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے حلقوں سے منتخب ممبران اسمبلی اور مقامی ممبران کی مبینہ ن لیگی حکومت سے ساز باز اور بلیک میلنگ سے تنگ وزیراعظم راٹھور نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔
نئے انتخابات میں مسلم لیگ ن کی حمایت یافتہ مسلم کانفرنس کو کامیابی ملی اور 29جولائی 1991سے 29جولائی1996ء تک سردار عبدالقیوم خان وزیراعظم رہے۔ پاکستان میں پیپلزپارٹی حکومت کی موجودگی میں انتخابات ہوئے تو پیپلزپارٹی ہی اس خطہ میں کامیاب ہوئی اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری وزیراعظم بنے، جو 30جولائی 1996ء سے 24جولائی 2001ء تک وزیراعظم رہے۔ اس کے بعد مشرف آمریت کے زیر سایہ ایک مرتبہ پھر مسلم کانفرنس کی حکومت قائم ہوئی اور سردار سکندر حیات خان 25جولائی 2001ء سے 23جولائی 2006ء تک وزیراعظم رہے۔ یہ3ادوار حکومت اپنی مدت مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔

تاہم مشرف آمریت کے دوران ہی دوسری مرتبہ منتخب ہونے والی مسلم کانفرنس کی حکومت اس خطہ کی بدترین سیاسی تاریخ کی حامل رہی ہے۔ 24جولائی 2006ء کو مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان وزیراعظم منتخب ہوئے۔ پاکستان میں مشرف آمریت کے خاتمے کے بعد انتخابات ہوئے اور پیپلزپارٹی کی حکومت منتخب ہوئی۔اڑھائی سال کے اقتدار کے بعد سردار عتیق کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی، تحریک کی کامیابی کی صورت میں 7جنوری 2009ء کو مسلم کانفرنس ہی کے رکن اسمبلی سردار یعقوب خان وزیراعظم منتخب ہوئے،جو محض 9ماہ تک وزیراعظم رہ سکے اور 22اکتوبر 2009ء کو دوسری تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں ایک بار پھر مسلم کانفرنس ہی کے رکن اسمبلی راجہ فاروق حیدر خان وزیراعظم منتخب ہوئے۔ فاروق حیدر خان بھی محض 9ماہ ہی وزیراعظم رہ سکے اور ایک مرتبہ پھر مسلم کانفرنس کے ہی صدر سردار عتیق احمد خان 29جولائی2010ء کو وزیراعظم منتخب ہوئے اور 26جولائی 2011ء تک وزیراعظم رہے ہیں۔

جولائی2011ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی نے کامیابی حاصل کی اور وزیراعظم چوہدری عبدالمجید نے اپنی مدت پوری، اسی طرح جولائی 2016ء میں مسلم لیگ ن نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور اس خطہ میں مسلم لیگ ن کے بانی راجہ فاروق حیدر خان 5سال تک وزیراعظم رہے۔ 2021ء میں پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت ہونے کی وجہ سے اس خطہ میں بھی تحریک انصاف نے ہی کامیابی حاصل کی اور پاکستان میں پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد اپنی ہی حکومت کے خلاف پارٹی صدر کی قیادت میں تحریک عدم اعتماد لائی گئی اور محض 7ماہ کے اقتدار کے بعد عبدالقیوم نیازی کو مستعفی ہو کر اقتدار سے محروم ہونا پڑا ہے۔

تحریک انصاف کے صدر تنویر الیاس نئے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔ تاہم پاکستان میں اپوزیشن اتحاد کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مابین پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں اقتدار کی تبدیلی کیلئے بھی فارمولا زیر غور ہے۔ پیپلزپارٹی کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ لانے پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے۔ اس صورت ایک مرتبہ پھر تحریک عدم اعتماد کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

یوں نوآبادیاتی خطوں میں مرکز کی طرف سے کنٹرولڈ حکومتوں کے قیام کا میکنزم بتدریج پیچیدہ ہو کر اس نہج پرپہنچ چکا ہے کہ ریاستی دھڑوں کی مداخلت کے علاوہ پاکستان کے وفاق پر برسراقتدار سیاسی جماعتوں کے مفادات کے درمیان دونوں اطراف وفاداری کا توازن برقرار رکھنے والے سیاسی گروہ یا شخصیات ہی ان خطوں کے اقتدار پر براجمان ہو سکتے ہیں۔ اقتدار کی اس رسہ کشی میں عام عوام کے مسائل اور جمہوریت یا اقتدار میں حصہ داری کی جانب توجہ مبذول ہونا تقریباً محال نظر آتا ہے۔ اس خطے کے محنت کشوں کو اپنا مقدر بدلنے کے راستے کا خود ہی انتخاب کرنا ہوگا۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔