پاکستان

’نئے پاکستان‘ کے بانیوں کی ناجائز دولت کے قصے

حارث قدیر

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے فوری بعد ایک کے بعد ایک کرپشن کے سکینڈل سامنے آ رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں کی جانب سے جمع کی گئی ناجائز دولت کی تحقیقات کی خبریں بھی مسلسل منظر عام پر آ رہی ہیں۔

’دی نیوز‘ سے منسلک صحافیوں فخر درانی اور قاسم عباسی کی الگ الگ تحقیقاتی خبروں کے مطابق عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح خان نے اربوں روپے کے اثاثے گزشتہ ساڑھے 3 سال کے دوران جمع کئے۔ تاہم انہوں نے ان کے ذرائع کو خفیہ رکھا گیا اور اچانک یہ اثاثے ظاہر ہوئے ہیں۔

انہوں نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں 35 کروڑ روپے وائٹ کروائے۔ ان کی بہن مسرت خان کے اثاثوں میں اچانک 15 پلاٹ ایل ڈی اے میں اور 3 پلاٹ ڈی ایچ اے میں سامنے آئے ہیں۔ بیرون ملک سے بھی انہوں نے ساڑھے 8 کروڑ روپے وصول کئے، لیکن ٹیکس ریٹرن میں کوئی بیرون ملک کاروبار نہیں ہے۔ 2018ء سے قبل مسرت خان کے کل اثاثہ جات 5 کروڑ مالیت کے تھے، تاہم اب ان کے پاس 12 کروڑ کے مالیاتی اثاثوں کے علاوہ 15 پلاٹ پانچ مرلے اور 3 پلاٹ دو کنال کے علاوہ ایک عدد 62 لاکھ مالیت کی ویگو گاڑی بھی ہے۔

روحانیت کی تعلیم کے فروغ کیلئے بنائی جانیوالی القادر یونیورسٹی کے ٹرسٹیز میں عمران خان کے علاوہ فرح خان، بشریٰ بی بی شامل ہیں۔ ابتدا میں بابر اعوان اور ذلفی بخاری بطور ٹرسٹی موجود تھے، تاہم انکے ہٹا کر فرح خان اور بشریٰ بی بی کے نام شامل کئے گئے۔ القادر یونیورسٹی کیلئے 458 کنال اراضی پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی طرف سے بطور تحفہ دی گئی، جس کی مالیت 25 کروڑ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ یونیورسٹی کیلئے 19 کروڑ کا چندہ اکٹھا ہوا، فیسوں کی مد میں 11 کروڑ روپے کے قریب لئے گئے۔ یونیورسٹی میں ابھی صرف 37 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور ابھی تک یونیورسٹی کے اخراجات کی مد میں ساڑھے 8 کروڑ روپے کے اخراجات ہوئے ہیں۔ باقی رقم کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں ہے۔

سابق دور حکومت میں من پسند افراد کو نوازنے کے دیگر کارنامے بھی سامنے آرہے ہیں۔ عمران خان کے ہسپتال شوکت خانم کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی کے کزن جاوید آفریدی کی گاڑیوں کی کمپنی کو جعل سازی کے ذریعے سے 5 ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچانے کا ایک سکینڈل بھی سامنے آیا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے چیئرمین ایف بی آر کو ہدایت دی ہے کہ 30 یوم کے اندر اندر جاوید آفریدی کی کمپنی مورس گیراج (ایم جی) کی درآمدات سے متعلق تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ ایف بی آر نے 4 رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ جو مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد اور پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کے پارٹس کی درآمد کی تحقیقات کرے گی۔ جو گاڑیاں چین میں تیار ہوئی ان کی تفصیلات حاصل کر کے علاوہ ان کی شفاف قدر کا تعین بھی کیا جائے گا۔

یہ کمیٹی درآمد ہونے والی گاڑیوں کی درآمدی دستاویزات کی بھی تحقیقات کرے گی، منی لانڈرنگ کی بھی تحقیقات کرتے ہوئے افسران اور دیگر ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا جنہوں نے قومی خزانے کو نقصان پہنچاکر کمپنی کو فائدہ پہنچایا۔

’نیا دور‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ گزشتہ سال ایک رپورٹ میں بھی سامنے آیا تھا۔ اسے میگا انڈر انوائسنگ سکینڈل قرار دیا گیا تھا۔ یہ انکشاف بھی ہوا تھا کہ چین سے مکمل تیار حالت میں خریدی گئی ایک گاڑی کی قیمت پاکستان میں 11 ہزار 7 سو ڈالر کے قریب ظاہر کی گئی، جو حقیقت میں کم از کم 27 ہزار ڈالر مالیت کی گاڑی ہے۔ اس طرح قیمت کم ظاہر کر کے ٹیکس چوری کیا گیا۔

خریدار جب گاڑیاں ایکسائز میں لے کر گئے تو انہوں نے درآمدی دستاویزات میں سے کچھ دستاویزات غائب ہونے کی بنا پر نمبر جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم ایکسائز حکام کو ’کوئی‘ کال موصول ہوئی جس میں ہدایت دی گئی کہ ان گاڑیوں کو رجسٹرکیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے بظاہر گاڑیوں کی درآمد کا طریقہ کار تقریباً ناممکن بنا کر جاوید آفریدی کو فائدہ پہنچایا۔ بظاہر یہ بیان کیا گیا کہ ان پابندیوں کو مقصد مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری، بیرونی سرمایہ کاری اور نئے روزگار کے قیام کیلئے اہم ہو گا۔ تاہم اسی عرصہ میں جاوید آفریدی چین سے بڑے پیمانے پر گاڑیاں درآمد کر کے ٹیکس چوری کے ذریعے سے اربوں روپے کمانے میں مصروف رہے۔

اسی طرح ملک ریاض کوفائدے پہنچانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات بھی زبان زد عام ہیں۔ تاہم روایتی میڈیا پر ملک ریاض کا نام لینا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ حکومت چاہے کوئی بھی ہو ملک ریاض جیسے سرمایہ داروں اور عوامی دولت لوٹنے والوں کو مکمل استثنیٰ حاصل رہتا ہے۔ عمران خان کے لاہور زمان پارک والے گھر کی تعمیراتی لاگت کی ادائیگی بھی ملک ریاض کی جانب سے کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ برطانیہ سے پاکستان منتقل ہونے والی دولت ملک ریاض کو لوٹائے جانے کے علاوہ دیگر فائدے پہنچانے کیلئے یہ حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح ہی بدنام رہی ہے۔

نہ تو یہ پہلی حکومت تھی جس کی پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ داروں اور دولت والوں کو لوٹ مار کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔ نہ ہی یہ آخری حکومت تھی جو ایسا کر گئی ہے۔ اس نظام کے اند رریاست کا بنیادی فریضہ حکمران طبقے (سرمایہ دار) کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے جبر کے آلے کے طور پر کام کرنا ہی ہوتا ہے۔ سرمایہ دار خود یا ان کے نمائندے ہی حکومت بنانے کے اہل ہوتے ہیں اور وہ وہی پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں جو سرمایہ داروں کو زیادہ سے زیادہ دولت لوٹنے میں مددگار ثابت ہوں۔

تاہم میڈیا میں ہر جانے والی حکومت کے مالیاتی سکینڈل اور کرپشن کی داستانیں کچھ عرصہ اچھالی جاتی ہیں، مقدمات قائم کئے جاتے ہیں اور ان مقدمات کے گرد معاشرے کو الجھائے رکھ کر نئی واردات کی جاتی ہے۔ میڈیا بھی حکومت کے جاریہ عرصہ میں ہی ناجائز دولت کے اجماع کا تذکرہ خال خال ہی کرتا ہے۔ دولت کے اصل لٹیروں کا تو نام بھی میڈیا پر آنا ناممکن ہوتا ہے۔

صرف فرح خان، جاوید آفریدی یا عمران خان کے دیگر ساتھیوں کے علاوہ گزشتہ و موجودہ حکومتوں سے استفادہ کر کے ناجائز دولت کے انبار لگانے والے افراد کے نام سامنے لائے جانا کافی نہیں ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر ملک ریاض جیسے قبضہ مافیا، انسانوں کی ہڈیوں اور خون سے دولت کے انبار لگانے والے ارب پتیوں کی ناجائز دولت کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہے۔

میڈیا میں ارب پتیوں کی جمع کی گئی ناجائز دولت کے سکینڈل چند روز تک گردش میں رہتے ہیں، پھر سب ہنسی خوشی زندگی بسر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کرپشن کرپشن کے اس کھیل میں عام عوام کو الجھائے رکھ کر حکمران بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت جس چیز پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ یہ کہ تمام تر ناجائز دولت محنت کش عوام کے خون پسینے کی کمائی سے لوٹی گئی دولت ہے۔ جسے بحق سرکار ضبط کیا جانا چاہیے اور اس دولت تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر کے عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔