خبریں/تبصرے

10 ماہ میں طالبان نے عورتوں کیخلاف 24 اقدامات کئے، قحط کیخلاف ایک بھی نہیں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) افغانستان میں طالبان کے 10 ماہ کے اقتدار کے دوران خواتین کے خلاف تسلسل کے خلاف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ تاہم خراب معاشی صورتحال، بیروزگاری، غذائی قلت اور قحط سالی جیسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ابھی تک کوئی سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی نوبت نہیں آئی ہے۔

معروف صحافی حزب اللہ خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کے حقوق کے خلاف 24 فیصلے کئے ہیں، لیکن افغانستان میں سخت غذائی قلت کے بارے میں ابھی تک ایک بھی اجلاس نہیں بلایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں افغانستان کی امر بالمعروف اور نہی انل منکرکی وزارت نے ٹیلی ویژن پر کام کرنے والی افغان خواتین کو بھی برقع پہننے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ قبل ازیں طالبان حکومت کے سربراہ نے عوامی مقامات پر خواتین پر مکمل برقع پہننے کی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل خواتین کے سکولوں، اعلیٰ تعلیم، ملازمت کے حق سمیت مختلف حقوق کو بتدریج مختلف فیصلوں کے تحت سلب کر دیا گیا ہے۔