دنیا

قرضوں کا عالمی بحران

تحریر: مائیکل رابرٹس

تلخیص و ترجمہ: حسن جان

پچھلے ہفتے مغربی افریقی ملک گھانا کے مرکزی بینک نے بے تحاشا افراط ِ زر کو قابو کرنے کے لیے شرح سود میں اپنی تاریخ کا سب سے زیادہ اضافہ کیا۔ بینک آف گھانانے 250 بنیادی پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ شرح سود 17 فیصد کر دیا۔ فروری میں افراط ِ زر 2016ء کے بعد اپنی بلند ترین سطح 15.7 فیصد پر پہنچی تھی۔ یوکرائن کی جنگ معاملات کو مزید خراب کرے گی۔ گھانا اپنی گندم کی ضروریات کا ایک تہائی روس سے اور خام لوہے کا 60 فیصد یوکرائن سے درآمد کرتا ہے۔

گھانا اس حقیقت کی ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح دنیا بھر میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے، بڑھتی ہوئی شرح سود اور مضبوط ڈالر کی وجہ سے چھوٹی اور کم آمدنی والی معیشتوں پر معاشی دباؤ پڑتا ہے۔ سری لنکا میں گہرے معاشی بحران کے خلاف ہونے والے احتجاجوں نے صدر گوٹابیا راجا پکشا کو یو ٹرن لینے پر مجبور کیا اور اس نے آئی ایم ایف سے ’قرضوں میں نرمی‘ کے لیے مذاکرات شروع کیے۔ کئی مہینوں سے کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے درآمدات اور فیول کی قلت، لوڈ شیڈنگ اور دوہرے ہندسے (Double Digit) کے افراط زر نے جنم لیا جس سے ملک کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ اس سال ملک نے قرضوں اور سود کی مد میں 7 اَرب ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے جبکہ اس کے پاس دستیاب زرمبادلہ کا ذخیرہ محض 500 ملین ڈالر ہے۔

سری لنکا ایشیا میں سب سے زیادہ شرح سود پر بانڈ فروخت کرنے والا ملک ہے جس نے 2009ء میں ملک میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد بے تحاشا قرضے لیے۔ یہ کبھی دیوالیہ نہیں ہوا لیکن آئی ایم ایف سے رجوع کرنے سے پہلے دیوالیہ ہونے والا تھا۔ بانڈز کے عالمی خریدار قرضوں کے ایک تہائی کو تشکیل دیتے ہیں جبکہ سری لنکا کے دیگر بڑے قرض دہندگان میں چین اور انڈیا شامل ہیں۔ انڈیا سے 1 اَرب ڈالر قرضہ ملنے کی توقع ہے لیکن آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم کے باوجود ملک ممکنہ طور پر دیوالیہ ہو گا۔ پاکستان بھی دیوالیے کے دہانے پہ کھڑا ہے۔

مصر نے بھی آئی ایم ایف سے مدد مانگی ہے کیونکہ وہ یوکرائن پر روسی حملے کے معاشی اثرات سے جوجھ رہا ہے۔ مصر آبادی کے لحاظ سے عرب دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور پہلے بھی آئی ایم ایف کے قرضوں اور دیگر پروگراموں سے ’مستفید‘ ہوتا رہا ہے۔ 2016ء میں اس نے تین سالوں پر محیط 12 اَرب ڈالر کا قرضہ اس وقت حاصل کیا جب ملک کو زرمبادلہ کے ذخائر کے بحران کا سامنا تھا۔ 2020ء میں بھی اسے کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے 8 اَرب ڈالر دیئے گئے۔ اس طرح مصر‘ ارجنٹینا کے بعد آئی ایم ایف سے سب سے زیادہ قرضہ لینے والا ملک بن گیا۔ 2016ء کے معاہدے کے وقت مصر نے اپنی کرنسی کی قیمت گرائی جس سے اس کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں آدھی گر گئی۔ قرضوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے بھی حالیہ مہینوں میں مصر سے اَربوں ڈالر باہر نکالے ہیں جس سے کرنسی پر مزید دباؤ بڑھا ہے۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ بہت سے ممالک کورونا وبا کے معاشی زوال سے بے تحاشا قرضوں کے ساتھ نکل رہے ہیں اور اگر قرض دہندگان نے قرضوں کی ادائیگی کا مطالبہ کر دیا تو ان کی معیشتیں سکڑ سکتی ہیں۔ ان میں سے بہت سے ممالک جی ڈی پی کے لحاظ سے چھوٹے ہیں لیکن آبادی کے لحاظ سے بڑے ہیں۔ آئی ایم ایف کے اعداد و شمار یہ دکھاتے ہیں کہ 2020ء میں کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے بیرونی قرضے اوسطاً 5.6 فیصد کے حساب سے بڑھتے ہوئے 8.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ تاہم بہت سے ممالک میں اضافے کی یہ شرح دوہرے ہندسے میں تھی۔

بڑے سامراجی ممالک کی جانب سے غریب ممالک کی طرف سرمائے کا بہاؤ عظیم کساد بازاری (2008ء) کے خاتمے کے بعد سے گر رہا ہے جو گلوبلائزیشن کے زوال کی ایک اور علامت ہے۔ 2011ء میں عالمی شمال (امیر ممالک) سے عالمی جنوب (ترقی پذیر یا پسماندہ ممالک) کی طرف 1.3 ٹریلین ڈالر گئے تھے جبکہ 2020ء میں یہ رقم 30 فیصد کمی کے ساتھ 900 اَرب ڈالر رہ گئی۔ یاد رہے کہ عالمی جنوب کی جانب مالیاتی بہاؤ کا آدھے سے زیادہ حصہ صرف چین میں جاتا ہے۔ چین کو نکال کے، غریب ترین ممالک کی جانب سرمایے کے بہاؤ میں گراوٹ اور بھی زیادہ ہے۔ پچھلی دہائی میں بیرونی قرض دہندگان اور سرمایہ کاروں کی جانب سے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کی جانب سرمائے کے بہاؤ کا 60 فیصد چین کو گیا ہے۔ اس عرصے کے دوران چین میں 4 ٹریلین ڈالر منتقل ہوئے جس کا 40 فیصد قرض اور 60 فیصد براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اور حصص کی خریداریوں پر مشتمل تھا۔ 2020ء میں چین میں مجموعی مالیاتی بہاؤ 32 فیصد اضافے کے ساتھ 466 اَرب ڈالر تھا جس میں 62 فیصد اضافے کے ساتھ قرضے 233 اَرب ڈالر اور حصص کی خریداری بھی 12 فیصد اضافے کے ساتھ 233 اَرب ڈالر تھی۔

نجی قرض دہندگان نے غریب ممالک کے حکومتی اور کارپوریٹ بانڈز میں سرمایہ کاری میں کمی کی ہے اور عالمی بینکوں نے قرضے دینا بند کر دیئے ہیں۔ ان غریب ممالک کی جانب سرمائے کے بہاؤ کا بیشتر حصہ پیداواری سرمایہ کاری کے لیے نہیں بلکہ سابقہ قرضوں کے تحفظ یا مقامی مالیاتی منڈی میں سٹہ بازی کے لیے تھا۔ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 2011ء کی سطح 600 اَرب ڈالر (یا مجموعی مالیاتی بہاؤ کا 40 فیصد) سے گر کر 2020ء میں 434 اَرب ڈالر ہو گئی۔ آپ شاید یہ دلیل دیں کہ ان ممالک کو بیرونی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور سٹہ بازی کرنے والے سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ لیکن اگر بیرونی سرمایہ دار اپنی سرمایہ کاری میں کمی کر رہے ہیں تو ان کمزور معیشتوں میں پیداواری سرمایہ کاری یا موجودہ قرضوں کی اقساط کی ادائیگی کا نعم البدل کیا ہے؟ اس کا جواب ہے: آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضے اور ان سے منسلک تمام تر شرائط اور بیرون ملک مقیم افراد کی جانب سے بھیجا گیا زرمبادلہ۔

عالمی جنوب کی طرف سرمائے کے بہاؤ میں ایک تنازعہ چین کا کردار ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے فنڈز کی بندش کے شکار اور پیسے کی ضرورت کے حامل غریب ممالک کے لیے چین ایک اہم قرض دہندہ بن گیا ہے۔ 2020ء کے اواخر میں کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے چین سے لیے گئے مجموعی قرضے 170 اَرب ڈالر تھے جو 2011ء کی سطح سے تین گنا زیادہ تھے۔ 2020ء کے اواخر میں کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے عالمی بینک برائے تعمیر و ترقی سے لیے گئے قرضے 204 اَرب ڈالر تھے جبکہ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسو سی ایشن سے لیے گئے قرضے 177 اَرب ڈالر تھے۔ چین کے قرضے زیادہ تر انفرسٹرکچر کے منصوبوں اور استخراجی صنعتوں سے متعلق ہیں۔ سب صحارائی افریقی ممالک، جن میں سر فہرست انگولا ہے، کے چین سے لیے گئے قرضوں میں تیز ترین اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ 2018ء سے یہ عمل سست ہوا ہے۔ 2020ء کے اواخر میں چین کو واجب الادا قرضوں کا 45 فیصد اسی خطے سے تھا۔ جنوبی ایشیا میں چینی قرضے 2011ء میں 4.7 اَرب ڈالر سے بڑھ کر 2020ء میں 36.3 اَرب ڈالر ہو گئے اور چین اب مالدیپ، پاکستان اور سری لنکا کے لیے سب سے بڑا قرض دہندہ بن گیا ہے۔

کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ چین بھی مغرب کی طرح ”سامراجی“ ہے اور چین غریب ممالک کو مستقلاً ”قرضوں کے جال“ میں پھنسا رہا ہے۔ لیکن اس بات کے ثبوت کمزور ہیں۔ بہت سے چینی قرضوں کی شرائط آئی ایم ایف اور دیگر قرض دہندگان کی طرح ہی ہیں اور بہت دفعہ ان سے بہتر ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مقروض ممالک کے مفادات کے خلاف چین ”قرض کی سفارت کاری“ کا استعمال کرتا ہے۔ لیکن ارجنٹینا اور یوکرائن کی مثالیں یہ دکھاتی ہیں کہ قرض کی سفارت کاری دراصل مغرب خود استعمال کرتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ عالمی جنوب کے واجب الادا قرضے کورونا کی وبا کے دوران تیزی سے بڑھے اور ”قرضوں میں نرمی“ نامی کوئی چیز نہیں ہے۔ اب یوکرائن کی جنگ ان ممالک کے دیوالیہ ہونے کے خطرات بڑھا رہی ہے کیونکہ افراط زر اور شرح سود بڑھ رہی ہے اور معاشی نمو کم ہو رہی ہے۔

ترقی پذیر ممالک سے ترقی یافتہ ممالک کی طرف مالیاتی وسائل کی منتقلی ان غریب ممالک کو ملنے والی امداد (جو سالانہ اوسطاً 100 اَرب ڈالر سے کم ہے) سے کہیں زیادہ ہے۔ 2012ء میں (اس طرح کے اعداد و شمار کو ریکارڈ کرنے کا آخری سال) ترقی پذیر ممالک کو امداد، سرمایہ کاری اور تارکین وطن کی بھیجی گئی رقوم کی مد میں مجموعی طور پر 1.3 ٹریلین ڈالر ملے جبکہ اسی سال ان ممالک سے 3.3 ٹریلین ڈالر باہر منتقل ہوئے۔ دوسرے الفاظ میں ترقی پذیر ممالک نے موصول شدہ رقم سے 2 ٹریلین ڈالر زیادہ بیرونی دنیا کو ارسال کیے۔ اگر 1980ء سے ان ممالک سے باہر بھیجی گئی رقم کو جمع کیا جائے تو یہ 16.3 ٹریلین ڈالر کی ہوشربا رقم بنتی ہے۔

اس کا حل کیا ہے؟ اس کا واضح جواب یہ ہے کہ غریب ممالک پر واجب الادا قرضوں کو منسوخ کیا جائے۔ جوبلی ڈیٹ کمپئین (Jubilee Debt Campaign) کا اندازہ ہے کہ غریب ممالک کی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں ملک سے باہر منتقل ہونے والی رقم کی بنیاد پر اس وقت 54 ممالک قرضوں کے بحران کا شکار ہیں۔ 2018ء میں یہ تعداد 31 اور 2015ء میں 22 تھی۔ اس کے علاوہ کمپئین کا اندازہ ہے کہ 14 ایسے ممالک ہیں جو حکومتی یا نجی قرضوں کے بحران، 22 ممالک صرف نجی قرضوں کے بحران اور 21 حکومتی قرضوں کے بحران کے دہانے پر ہیں۔

ایک اور حل قومی حل ہے۔ پہلے تو حکومتوں کو سٹہ بازی کے سرمائے کی بے قابو باہر منتقلی، جو قومی کرنسی تباہ کر کے مالیاتی بحران پیدا کرتی ہے، پر قدغن لگانا ہو گی۔ امریکی ادارے گلوبل فنانشل انٹگریٹی کا اندازہ ہے کہ 1980ء سے اب تک ترقی پذیر ممالک سے 13.4 ٹریلین ڈالر چوری چھپے باہر منتقل ہو چکے ہیں۔

حتیٰ کہ آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ قومی حکومتوں کے ہاتھوں میں سرمائے کے بہاؤ پر کنٹرول کا ہتھیار ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے مالیاتی اثاثوں کو امیر افراد اور کارپوریشنوں کی جانب سے سرمائے کی باہر منتقلی سے بچا سکیں۔ لیکن ملٹی نیشنل کمپنیوں اور عالمی سرمائے کے استحصال سے بچنے کے لیے غریب ممالک کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ بینکنگ اور معیشت کے تمام اہم شعبوں کو ریاستی کنٹرول میں لے لیں۔