پاکستان

حکمران طبقے اور افسر شاہی کی مراعات کیسے ختم ہونگی؟

التمش تصدق

پاکستان میں کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر سول اور فوجی افسر شاہی سمیت وزرا کی مراعات اور تنخواہوں میں کٹوتیوں کے حوالے سے بڑے پیمانے پر مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس مہم کا آغاز حکمران طبقے کی طرف سے معاشی مشکلات کا جواز پیش کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے خاتمے کے بعد ہوا۔ افسر شاہی اور محنت کشوں کی تنخواہوں اور مراعات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ محض افسر شاہی تنخواہیں ہی محنت کشوں سے کئی گنا زیادہ نہیں لیتی بلکہ گاڑیاں، فیول اور رہائش کے علاوہ دیگر بھاری مراعات بھی ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی پنشن محنت کشوں کی اجرت سے بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ نجی شعبہ ہو یا سرکاری، ہر جگہ اجرتوں اور مراعات میں یہ واضح فرق موجود ہے۔

سوال یہ جنم لیتا ہے ایسا کیوں ہے؟ اس فرق کو موجودہ نظام میں ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا ان اخراجات کو ختم کر دیا جائے تو ریاست کا معاشی بحران ختم ہو جائے گا؟

ان سوالات کا جواب دھونڈنے کے لیے سرمایہ دارانہ ریاست کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

ریاست کا تاریخی طور پر جائزہ لیا جائے، تو اس کا وجود طبقات کے وجود کے ساتھ نظر آتا ہے۔ اینگلز کے بقول ”ریاست طبقات کے درمیان تصادم کے دوران ہی پیدا ہوئی، اس لیے یہ انتہائی طاقتور اور معاشی طور پر حکمران طبقے کی ہوتی ہے، جو ریاست کے ذریعے سیاسی طور پر بھی حکمران طبقہ بن جاتا ہے اور اس طرح مظلوم طبقے کو دبانے اور اس کا استحصال کرنے کے نئے ذرائع حاصل کر لیتا ہے۔“

موجودہ ریاست سرمایہ داروں کے ہاتھوں محنت کشوں کے استحصال کی آلہ کار ہے، نوکر شاہی اور مستقبل فوج اس ریاستی مشینری کی بڑی خصوصیات ہیں۔ افسر شاہی کے طبقاتی کردار کا جائزہ لیا جائے، تو وہ کوئی الگ سے طبقہ نہیں ہے بلکہ محنت کشوں کی ہی مراعات یافتہ پرت ہے، جس کے مفادات مراعات یافتہ حیثیت ہونے کی وجہ سے حکمران طبقے سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ اسی طبقے کی نمائندگی کرتی ہے۔ افسر شاہی اپنے اختیارت اور مراعات کی وجہ سے خود کو سماج سے بالاتر تصور کرتی ہے، اس کی نفسیات بھی غلام مالکوں سے زیادہ مختلف نہیں ہوتی۔

ریاست کے تمام ادارے وہ پالیمان ہو یا انتظامیہ یا پھر عدلیہ، حکمران طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور استحصال کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ تاہم سرمایہ دارنہ ریاست کے تمام شعبوں کو چلانے والوں کی اکثریت محنت کشوں پر مشتمل ہوتی ہے، جو تمام انتظامی کام سرانجام دینے کے باوجود محرمیوں اور ذلتوں کا شکار ہوتی ہے۔ حکمران طبقہ افسر شاہی کے ذریعے ہی محنت کشوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں افسر شاہی کی مراعات کو برقرار رکھنا حکمران طبقے کی حکمرانی کے لیے لازم ہے۔ اصلاح پسند ہمیشہ بیماری کی بجائے بیماری کی علامات کو ختم کرنے پر زور دیتے ہیں۔ مثلاً کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے، اگر جمہوریت کا تسلسل قائم رہے تو ملک ترقی کرے گا، یا ریاستی اخراجات کم کیے جائیں تو ملک خوشحال ہو سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام تر مسائل ایک بیمار نظام کا اظہار ہیں، نظام کو ختم کیے بغیر ان مسائل کا خاتمہ نا ممکن ہے۔

اؤل تو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی موجودگی میں افسر شاہی کی مراعات اور فوجی اخراجات میں بڑے پیمانے پر کٹوتی نہیں کی جا سکتی، کیوں کہ ان کے ذریعے عالمی سامراجی اجاراہ داریوں اور مقامی حکمران طبقے کی لوٹ کھسوٹ جاری ہے۔ اگر ایسا کر بھی دیا جائے، تومحض افسر شاہی اور محنت کشوں کی مساوی اجرتوں کی وجہ سے اتنے بڑے پیمانے پر دولت کی بچت نہیں ہوتی کہ اس بنیاد پر سماج میں خوشحالی آ سکے اور طبقاتی تفریق ختم ہو جائے۔ سرمایہ داروں اور محنت کشوں میں امارت اور غربت کی خلیج محنت کشوں اور افسر شاہی کی اجرتوں میں تفریق سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے مطابق کل سرمائے کا 66 فیصد حصہ 471 کمپنیوں کا ہے۔ ان کمپنیوں کے مالکان اور حصے دار آبادی کا 0.7 فیصد ہیں، عالمی سطح پر یہ تفریق اور بھی وسیع ہے۔ طبقاتی تقسیم کے خاتمے کے لیے ان کمپنیوں سمیت اور جو ذرائع پیدوار ہیں انکی نجی ملکیت کا خاتمہ ضروری ہے۔

پاکستان کے حکمران طبقے نے محنت کش عوام کو دی گئی 28 ارب کی سبسڈی کو ختم کرنے کے لیے میڈیا کے ذریعے واویلا مچا رکھا تھا کہ یہ سبسڈی قومی خزانے پر بھاری بھوج ہے، اسے نہ ختم کیا گیا تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ اسی بنیاد پر محنت کشوں کو دی جانے والی معمولی مراعات بھی ختم کر دی گئیں۔ دوسری طرف پاکستان میں اشرفیہ، کارپوریٹ سیکٹر، جاگیر داروں اور فوج کو دی جانے والی مراعات کا کوئی ذکر نہیں ہے، جو اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی رپورٹ کے مطابق 3400 ارب روپے ہیں۔ یہ دولت محنت کشوں کے براہ راست استحصال کے ذریعے حاصل کی جانے والی دولت کے علاوہ ہے۔ اسی طرح ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی ٹیکس چھوٹ سمیت بہت سی مراعات دی گئی ہیں۔

حکمران طبقے کی دانش آزاد منڈی کی معیشت اور لبرل جمہوریت کو ہی تمام مسائل کا واحد حل سمجھتی ہے۔ آج ساری دنیا میں تقریباً آزاد منڈی کی معیشت رائج ہے اور نصف سے زیادہ دنیا میں لبرل جمہوریت کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے، لیکن مسائل ہیں کہ کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ یہ دانشور اس نظام کی حدود سے آگے دیکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ محنت کشوں کی تاریخی جدوجہد سے آگاہ نہیں ہیں یا جان بوجھ کر انجان بنتے ہیں۔ محنت کشوں نے اپنے مسائل جب بھی حل کیے، وہ بورژوا دانشوروں کے نسخوں سے الٹ اقدامات کے ذریعے کیے۔ انہوں نے فیکٹریوں اور کارخانوں پر سے سرمایہ داروں کے قبضے کا خاتمہ کرتے ہوئے منڈی کی معیشت کی جگہ منصوبہ بند معیشت کے ذریعے پیداوار کے مقصد کو سرمایہ داروں کے منافعوں کی بجائے انسانی ضرورت قرار دیا۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کی جگہ مزدور جمہوریت کو رائج کیا۔

محنت کشوں نے 1871ء کے پیرس کمیون، 1917ء کے سوویت انقلاب سمیت بے شمار انقلابات کے دوران نہ صرف سرمایہ دارانہ نظام کے متبادل معاشی نظام دیا، بلکہ وہ سیاسی نظام بھی دیا جو سرمایہ دارانہ جمہوریت سے کئی زیادہ جمہوری تھا۔ محنت کشوں کے انقلاب نے ثابت کیا کہ وہ حکمران طبقے کی بنائی ہوئی ریاستی مشینری کو اپنے مقاصد کے لیے نہیں استعمال کر سکتا، جو انھیں دبانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے انقلاب کا پہلا قدم نوکر شاہی اور فوجی مشینری کو پاش پاش کرنا تھا۔ محنت کشوں نے فوجی تنظیم اور افسر شاہی، جس کا کردار سماج میں مارکس کے بقول طفیل خور جسم کے مانند تھا، کو یکسر بدل کے رکھ دیا۔ پیرس کے مزدوروں کا پہلا فرمان مستقل فوج کا خاتمہ اوراس کی جگہ مسلح عوام کو لاناتھا، عام ووٹ کے ذریعے منتخب کیے گئے نمائندوں کو کسی بھی وقت واپس بلانے اور تبدیل کرنے کااختیار، تمام افسروں کا محنت کشوں کے ذریعے انتخاب اور ذمہ دار لوگوں کو واپس بلانے کا اختیار دیا گیا، اعلی سرکاری افسروں کی خصوصی رعایتیں ختم کر دی گئیں۔ اوپر سے نیچے تک عوامی خدمات کے امور مزدوروں کی اجرت پر سرانجام دئیے جاتے تھے۔

محنت کش طبقہ ہی انقلاب کے ذریعے غیر پیداواری اور غیر ضروری اخراجات کو کم کر سکتا ہے۔ افسروں کی تمام مالی رعایتوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے، ریاست کے تمام ملازمین کے کام کے معاوضے کو ”مزدوروں کی اجرت“ تک گھٹا دیا جا سکتا ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب سرمایہ دارانہ جمہوریت کی جگہ مزدور جمہوریت رائج ہو، جہاں کسی مراعات یافتہ پرت کی ضرورت نہ ہو، جس میں محض محنت کشوں کے پاس ووٹ دینے کا حق ہی نہیں لینے کا حق بھی ہو، انتخاب کا حق ہی نہیں واپس بلانے کا حق بھی ہو، جو اقلیتی جبر و تشدد کرنے والے سرمایہ داروں کے بجائے اکثریتی محنت کشوں اور مظلوم طبقات کی جمہورت ہو۔

آج محنت کش مٹھی بھر سرمایہ داروں کی دولت میں اضافے کے لیے کام کرتے ہیں اور اس نظام کو چلا رہے ہیں۔ یہی محنت کش سرمایہ داروں کے بغیر اپنے لیے بھی سماج کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لینن نے کہا تھا ”ہر قیمت پر ہمیں ان پرانے، نامعقول، وحشی اور گھٹیا تعصبات کو نیست و نابود کرنا ہے کہ صرف نام نہاد اشرافیہ، امیر طبقے یا امیروں کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے ہی ریاست کو چلا سکتے ہیں۔“

مصنف ’عزم‘ میگزین کے مدیر ہیں۔