خبریں/تبصرے

مہنگائی کا توڑ: ہم جنس پرستوں پر حملے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) لبنان میں وزارت داخلہ کی طرف سے ’جنسی بگاڑ‘ کو فروغ دینے والے کسی بھی قسم کے پروگرام کو بند کرنے کے فیصلے کے بعد ایل جی بی ٹی کیو مخالف تقاریر اورحملوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا مقصد لبنان کے بڑھتے ہوئے معاشی اور مالیاتی بحران سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے، جس نے تین چوتھائی سے زیادہ آبادی کو غربت میں دھکیل دیا ہے۔

’اے پی‘ کے مطابق درمیانی آمدن والے ملک میں لاکھوں لوگ بڑھتے ہوئی مہنگائی، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور ادویات کی قلت کے خلاف جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ دسیوں ہزار بیرون ملک مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ چکے ہیں۔

دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے ہم جنس پرستوں (ایل جی بی ٹی کیوکمیونٹی) کیلئے کی جانیوالی کئی تقریبات کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے، جس سے ان کے منتظمین کو بالآخر ان پروگرامات کو بند کرنا پڑا۔ ایل جی بی ٹی کیو ایڈووکیسی گروپ کے دفاتر کا دورہ کر کے ان کے رجسٹریشن کاغذات اور دیگر دستاویزات بھی چیک کی گئیں۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ اقدام مذہبی رہنماؤں کی شکایات کے بعد کیا، جنہوں نے عوامی طور پر ایسے افراد کو بے دین قرار دیا اور کہا کہ وہ لبنانی رسم و رواج کے مطابق نہیں ہیں۔

گزشتہ ماہ 24 جون کو ایک بیان میں وزارت داخلہ نے کہا کہ ایل جی بی ٹی کیو دوستانہ واقعات ہمارے معاشرے کے رسوم و رواج کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ابراہیمی مذاہب کے اصولوں کے متصادم ہیں۔

واضح رہے کہ لبنان 2019ء کے اواخر سے ایک شدید معاشی بحران سے دوچار ہے، جس کے بارے میں عالمی بینک کا کہنا ہے کہ یہ سنہ 1800ء کے وسط کے بعد دنیا کے بدترین بحرانوں میں سے ایک بحران ہے۔ لبنانی پاؤنڈ ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر کا 90 فیصد سے زائد کھو چکا ہے۔ زیادہ تر آبادی ڈیزل، پٹرول، ادویات اورخوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔

شہری اور ماہرین اس بحران کا ذمہ دار لبنان کی حکمران اشرافیہ کے ہاتھوں کئی دہائیوں کی مالی بدانتظامی اور بدعنوانی کو قرار دیتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کیلئے حالیہ دھچکا معاشی بحران کے ساتھ شہری حقوق اور آزادیوں پر پر وسیع تر پابندیوں کا حصہ ہے۔

مئی میں قانون سازوں اور وکالت کرنے والے گروپوں کی جانب سے مذہبی عدالتوں سے آزاد سول میرج اور ریاست کی طرف سے لازمی ذاتی حیثیت کے قوانین کو فروٹ دینے کے فیصلوں نے مذہبی علما کو مشتعل کیا تھا۔

رواں مہینے کے شروع میں لبنانی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں دس لاکھ سے زائد شامی پناہ گزینوں کی جبری واپسی کے منصوبے پر شام کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

کچھ کارکنوں اور انسانی حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ لبنانی حکام قربانی کے بکرے کی تلاش میں ہیں، کیونکہ وہ مالیاتی جرائم، بیروت بندرگاہ دھماکے اور گھریلوتشدد اور جنسی حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات سے متعلق تحقیقات کو روک رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی لبنانی محقق ایا مجذوب کا کہنا ہے کہ ’ریاست بدعنوانی، تشدد، نفرت انگیز تقاریر جیسے سنگین حقوق کی خلاف ورزیوں پر کریک ڈاؤن کرنے کیلئے یا تو مکمل طو رپر آمادہ یا ناکام نظر آتی ہے، لیکن دوسری طرف ملک کے مذہبی اور دیگر طاقتور اداروں کے دباؤ کے تحت پسماندہ گروہوں کے حقوق پر کریک ڈاؤن کرنے کیلئے بہت جلد کارروائی کرتی ہے۔

دوسری طرف کچھ معاملات میں شہریوں نے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے کر مذہبی رہنماؤں کو جواب بھی دیا ہے۔