دنیا

امریکہ چین لڑائی

عثمان توروالی

دوسری جنگ عظیم کے بعد ممالک کے درمیان طاقت کا توازن قائم رکھنے کے لیے چھوٹے بڑے ممالک اتحادی بن گئے۔ یہ اتحادی سرد جنگ کے دوران صرف دو کیمپوں میں تھے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی امریکہ نے اپنی ’ہیج منی‘ (Hegemony) برقرار رکھنے کے لیے جنوبی ایشیا، مشرقی وسطیٰ اور دوسری اہم جگوں پر کئی معرکے کئے۔ امریکہ بیک وقت یورپ، جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں مختلف سکیورٹی معاہدوں میں داخل ہوا تاکہ کسی بھی ابھرنے والی طاقت کو اٹھنے سے پہلے ہی زیر کرے۔

تاہم اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہی امریکہ کو اپنے مخالف کیمپ سے ایک طاقت ابھرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ چین نہ صرف تیزی سے معاشی، سماجی، ٹیکنالوجی اور دوسرے اہم شعبوں میں ترقی کر رہا تھا بلکہ اس کے ساتھ دفاعی بجٹ بھی بڑھا رہا تھا۔ حالیہ دنوں میں امریکہ نے نئی طاقت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ اس کے کورونا وائرس کو پر اثر طریقے سے کنٹرول کرنے اور اس تباہ کن کرائسس سے معاشی نمو کو دوبارہ بحال کرنے سے بھی لگایا۔

چین کی بی آر آئی کمٹمنٹ اور اس کے نتیجے میں مشرقی وسطیٰ، وسطیٰ ایشیا اور جنوبی ایشیا میں پروجیکٹ پر بھاری سرمایہ کاری کرنا، سرمایہ دار دنیا کے لیے درد سر بن چکا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات چین کا نیا سیاسی اور معاشی ماڈل ہے جو بظاہر کامیاب ہے۔ چینی حکومتی ماڈل نے مغربی دنیا کی پریشانی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مغربی دنیا چین کے خلاف اپنے مشرقی اتحادیوں کے ساتھ مل کر چین کو روکنے کے لئے یکجا ہو رہی ہے۔

انڈیا، ایک ابھرتی ہوئی معیشت اور دنیا کی سب سے بڑی ماننے والی جمہوریت، بھی اب چین کو مزید بحر الکاہل میں برداشت نہیں کر سکتی۔ انڈیا کی علاقائی پاور بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ چین ہے جو ہر بار دہلی اور اسلام آباد کے درمیان موخر الذکر کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کے سی پیک پروجیکٹ میں چینی سرمایہ کاری بھی ایک وجہ ہے جس نے خطے میں چین اور پاکستان کے خلاف ماحول ناساز گار بنایا ہے۔ تاہم بھارت، جس نے سرد جنگ کے دوران غیر جانبدار خارجہ پالیسی اپنائی اور اب بھی کسی بڑے گروپ اور اتحاد میں داخل ہونے سے کتراتا ہے، نہیں چاہتا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر جمہوریت اور لبرلزم کی بات کرے۔

بھارت کی موجودہ حکومت فاشزم نما اصولوں پر کام کر رہی ہے اور اس لئے دہلی کا کسی بھی مغربی گروپ میں جانے سے دہلی کا ہی نقصان طے ہے۔ مزید یہ کہ بھارت امریکہ پر اعتماد نہیں کر سکتا۔

’آکس‘ میں امریکی نیٹو اتحادی فرانس کو نظر انداز کرنا اور یوکرین کی فوری مدد کرنے کے بجائے محض بیانات داغنا شاید وہ وجوہات ہیں جو دہلی کو واشنگٹن پر اعتماد میں ہچکچاہٹ کا سبب بن رہی ہیں۔

بہر حال 2007ء میں چین کے خلاف محاذ آرائی میں ’کواڈ‘ نامی ایک اتحاد بنایا گیا تھا۔ کواڈ امریکہ، انڈیا، آسٹریلیا اور جاپان کے باہم مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا۔ اس کا فوکس بحر الکاہل رکھا گیا۔ 2017ء تک کواڈ میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی البتہ تب سے کواڈ کے کئی اجلاس ہوئے اور چین کو کونٹین (Contain) کرنے کے لیے حکمت عملیوں پر غور کیا گیا۔ کواڈ کے بعد امریکہ نے آسٹریلیا اور انگلینڈ کے ساتھ آکس کا سکیورٹی معاہدہ کیا جس سے ممبر ممالک چین کو بحرالکاہل کے خطے میں کاؤنٹر کریں گے۔

چین ایران اور وسطیٰ ایشیا میں بھی انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کر کے بی آر آئی کی حدف مکمل کرنا چاہتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن حالیہ دنوں میں مشرقی وسطیٰ اور عرب ممالک میں امریکی موجودگی اور اثر برقرار رکھنے کے لیے ان ممالک سے بات کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ اسرائیل امریکہ انڈیا اور عرب امارات میں ایک پارٹنر شپ طے پائی ہے، جسے آئی ٹو یو ٹو کا نام دیا گیا ہے، جس کی رو سے وہ باہمی مفادات کا تحفظ اور فروغ کے لیے لائحہ عمل طے کریں گے۔ دوبئی نے تین سو میگا واٹ قابل تجدید توانائی اور دو ارب ڈالر کے فوڈ پارکس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح اس پارٹنر شپ سے واشنگٹن اور تل ابیب ’ایرانی خطرے‘ بھی نپٹیں گے۔

امریکہ ہر طرح اس کوشش میں مصروف ہے کہ وہ چین کی بڑھتے ہوئے اثر اور ترقی کو لگام دے سکے۔ اس مقصد کے لئے امریکہ چین کے بار بار احتجاج پر بھی تائیوان کو عسکری اور سیاسی مدد دے رہا ہے۔ بین الاقوامی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ چین اگلی دہائی میں تائیوان پر حملہ کر دے گا۔ صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر چین نے حملہ کیا تو امریکہ تائیوان کی مدد کے لیے آئے گا۔ تاہم چین، یوکرین روس کی جنگ کو دیکھتے ہوئے تائیوان پر حملہ کرنے میں جلدی نہیں کرے گا۔ دریں اثنا، چین تائیوان کے سمندری پانیوں میں اپنی طاقت کا مسلسل اظہار کر رہا ہے۔

پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی ان بدلے ہوئے حالات کے مطابق بنانا ہو گی۔ یہ تب ہی ممکن ہے اگر خارجہ پالیسی جمہوری انداز میں بنائی جائے۔ پاکستان کے لوگ غیر جمہوری انداز میں بننے والی خارجہ پالیسیوں کا خمیازہ بھگت چکے، یہ سلسلہ مزید نہیں چل سکتا۔

عثمان توروالی سوات سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیات کیا ہے۔ مختلف جرائد کے لئے سیاسی موضوعات پر کالم نگاری کرتے ہیں۔