پاکستان

پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب: سرمایہ داری سیاست کے سارے مہرے اب اقتدار میں

فاروق طارق

جس قسم کے فیصلے کی توقع سپریم کورٹ کے اس تین رکنی بنچ سے تھی، وہ آ گیا ہے۔ پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بننے سے روکنے کے لئے گورنر پنجاب کو پابند بھی کیا گیا۔ جو گندی حرکتیں تحریک انصاف کے گورنر عمر چیمہ نے حمزہ شہباز کو روکنے کے لئے کی تھیں، ان سے روکنے کے لئے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اگر گورنر نہیں تو صدر حلف لے لے۔

آصف زرداری کی جانب سے آخری وقت میں تحریک انصاف کی اکثریت کو چوہدری شجاعت کے ذریعے اقلیت میں تبدیل کرنے کی جو کوشش کی وہ اب ناکام ہو گئی اور چوہدری شجاعت کے خاندان کے اتحاد کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔

مسلم لیگ ن اور اتحادی حکومت نے سپریم کورٹ کی سماعت کا جو بائیکاٹ کیا، وہ بر وقت نہ تھا۔ وقت کے بعد اسے سوچا گیا اور سپریم کورٹ کے فل بنچ کا مطالبہ بھی بروقت نہ کیا گیا۔ جب سپریم کورٹ کا یہ بنچ تشکیل دیا گیا تھا، وہ وقت اس بنچ کے بائیکاٹ کاتھا، مگر اتحادی حکومت اور پیپلز پارٹی کے وکلا پیش ہوتے رہے دلیلیں دیتے رہے، تحریری جواب بھی دیا۔ جب ان کے سامنے یہ واضح ہو گیا کہ عدالت ان کی بات نہیں سن رہی تو اس وقت فل بنچ کا مطالبہ کیا گیا جو بروقت نہ تھا۔ ایسی صورتحال میں وقت کا تعین سب سے اہم ہوتا ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایسے وقت کا تعین کرنے میں دیر کرتی رہی۔

اب یہ بڑا سیاسی دلچسپ میدان لگا ہے۔ یہ 2018ء والی صورتحال نہیں کہ جب اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پر عمران خان کے ساتھ تھی اور اسے اقتدار میں لانے کے لئے ہر آمرانہ حربہ استعمال کیا گیا تھا۔ جہانگیر ترین حکومت بنانے کے لئے جہاز پر بھاگ بھاگ کر ووٹ خرید رہا تھا۔ آج اسٹیبلشمنٹ تقسیم بھی ہے اور کمزور بھی۔ اس کی مرضی صرف آمرانہ اقدامات سے ہی حاوی ہو سکتی ہے، سیاسی چال بازیوں سے نہیں۔

آج جو اخلاقی درس تحریک انصاف ہمیں دیتی نظر آ رہی ہے، اس کا اس کی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ تاریخ تاریک ہے اور اس پر کوئی معافی نامہ بھی نہیں، کوئی شرمندگی بھی نہیں، بلکہ ہٹ دھرمی سے کام لیا جا رہا ہے۔

مرکز میں رائٹ ونگ حکومت ہے۔ اب پنجاب میں اس سے بھی زیادہ رائٹ ونگ حکومت بن رہی ہے۔ یہ رائٹ ونگ کی منافقانہ اور موقع پرستانہ سیاسی چالوں کا دور ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات کسی ثبوت کے بغیر لگانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ تحریک انصاف اس میں بازی لے گئی ہے۔

یہ صوبائی حکومت ایسے وقت میں اقتدار میں آئی ہے، جب مرکز اس کے کنٹرول میں نہیں اور عمران خان کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے اس کے اراکین قومی اسمبلی مستعفی ہو چکے، مرکز مکمل طور پر مسلم لیگ نواز کے حوالے کر دیا گیا۔ پھر ہوش آیا تو پنجاب میں مقابلے کی ٹھانی اور صدر کو بھی مستعفی ہونے سے روک دیا۔

اقتدار سے محرومی نے عمران خان کو بوکھلا کر رکھ دیا تھا۔ تمام حکمت عملیاں ناکام ہو رہی تھیں، امریکہ مخالف بیانیہ بھی مقبول نہ ہوا اور نہ ہی لانگ مارچ میں 20 لاکھ افراد شریک ہوسکے، البتہ 20,000 کے قریب اکٹھا کرنے میں ہی کامیابی ہو سکی۔

مسلم لیگ حکومت نے پٹرول مہنگا کر کے ملک کے کروڑوں موٹر سائیکل سواروں کو اپنے مخالف کر لیا، بجلی مہنگائی نے لوگوں کی چیخیں نکلوا دیں۔ یہ آئی ایم ایف کو خوش کرتے کرتے عوام کو ناخوش کر بیٹھے اور اس کی سب سے بڑی قیمت پنجاب میں اقتدار سے محرومی کی صورت ادا کرنے پڑی۔

تحریک انصاف کے مردہ گھوڑے میں جان مفتاح اسماعیل نے ڈال دی اور پنجاب میں اپنا ووٹ بینک بھی گنوا بیٹھے۔

اب کیا ہو گا؟ اس پر زیادہ کچھ تو نہیں کہا جا سکتا مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے جو بھنگڑے خوشی سے نظر آ رہے ہیں، وہ مستقبل قریب میں عوامی غم و غصہ کا شکار ہو کر پھوڑیوں پر بیٹھے بھی نظر آ سکتے ہیں۔ اب بزدار کی طرح ہر ہفتے ہر ضلع کو اربوں روپے دینے کے کھوکھلے نعرے نہیں لگا سکیں گے۔ مرکز ہر صورت انہیں ناکام بنانے کی کوشش کرے گا۔ وہ تعاون کی فضا کی بجائے تلخی کی جانب زیادہ بڑھیں گے۔

سرمایہ داری سیاست کے مہرے بے نقاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ عدالتوں کا انصاف سب کے سامنے جانب داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ سرمایہ داری سیاست میں سازشی طریقہ کا رکے سب سے بڑے مہر ے کے طور پر آصف زرداری کیسیاسی چالوں کی ذہانت بھی اب بے نقاب ہوئی اور ساتھ ہی مسلم لیگ نواز کی مقبولیت کو بھی لے ڈوبی۔

اگر مسلم لیگ نواز وہ رویہ رکھتی جس کا اظہار ضمنی انتخاب ہارنے کے فوری بعد محمد خان کھائی اور مریم نواز نے اپنی شکست تسلیم کر کے کیا تھا۔ اقتدار آرام سے تحریک انصاف کے حوالے کرتی تو سیاسی طور ہر وہ اپنے آپ کو بہتر طور پر زندہ رکھ سکتی تھی، اب سو پیاز بھی کھائے اور جوتے بھی۔ اب سیاسی پوزیشن کو بحال کرتے وقت لگے گا۔

پنجاب کے ضمنی انتخابات عمران خان بیانیہ نے نہیں، بلکہ مسلم لیگی حکومت کی جانب سے پٹرول اور بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے جیتے گئے۔ الیکشن دنوں میں معاشی پاگل پن سے کام لیا گیا تھا، نتیجہ ان کے سامنے ہے۔ سرمایہ درانہ معاشی بحران اب صرف مسلم لیگ نواز کو نہیں بلکہ تحریک انصاف کی جڑوں میں بھی بیٹھے گا۔ یہ کوئی بنیادی مسئلہ حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ مہنگائی اور بڑھے گی اور بے روزگاری میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔

جب تک آئی ایم ایف سے جان نہیں چھڑائیں گے، غیر ملکی قرضہ جات ادا کرنے سے انکار نہیں کریں گے، فوجی اخراجات مزید کم نہیں کریں گے، تب تک یہ معاشی بحران بڑھتا ہی رہے گا۔ تاہم ان ریڈیکل اقدامات کی کوئی توقع ہی نہیں کی جا سکتی۔

ان کے مقابلہ میں ایک انقلابی سیاسی بیانیہ تعمیر کرنا ہو گا۔ سرمایہ داری سیاست کے کسی مہرے پر خوش فہمیاں رکھنا غلط ہو گا۔

اب اچھا ہوا کہ سرمایہ داری سیاست کے سارے مہرے اقتدار میں ہیں، کوئی بھی اپوزیشن میں نہیں، کوئی مرکز میں اور کوئی صوبائی سطح پراقتدار میں ہے۔ اس سے اچھی سیاسی صورتحال انقلابیوں کے لئے اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہ سرمایہ دار ٹولے اقتدار میں رہ کر اپنی موجودہ سیاسی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکتے۔ ڈر ہے کہ اس کا فائدہ انتہا پسند قوتیں نہ اٹھا لیں۔ سرمایہ داری سیاست کے جواب میں سوشلسٹ سیاست کو عوامی جذبوں سے لنک کر کے تیزی سے بائیں بازو آگے بڑھ سکتا ہے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔