خبریں/تبصرے

جموں کشمیر: بجلی بلات پر ٹیکسوں کے خلاف تحریک جاری، گرفتاریاں و تشدد

راولاکوٹ (نامہ نگار) پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بجلی کے بلات پر ناجائز ٹیکسوں، فیول ایڈجسٹمنٹ پرائس کے خاتمے کے علاوہ لوڈ شیڈنگ سے خطہ کو مستثنیٰ کروانے، پندرہویں آئینی ترمیم اور ٹورازم اتھارٹی کی منسوخی کیلئے احتجاجی تحریک کا سلسلہ پونچھ بھر میں پھیل چکا ہے۔ کوٹلی، مظفر آباد سمیت دیگر اضلاع میں بھی احتجاج کے اعلانات کئے گئے ہیں۔

پیر کی شب مظاہرین اور پولیس کے مابین تصادم کے بعد پولیس نے پسپائی اختیار کر لی تھی اور مظاہرین نے بھی احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم پولیس کی جانب سے مظاہرین کی گرفتاریوں اور تشدد کیلئے چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔

پولیس نے مزید دو مقدمات درج کر کے 90 سے زائد افراد کو نامزد کیا ہے۔ گرفتار نوجوانوں پر تشدد کی وجہ سے فیصل خان نامی نوجوان بے ہوش ہو گیا، جسے شیخ زید ہسپتال لایا گیا۔ تاہم ڈاکٹروں کی جانب سے اسے ہسپتال میں داخل کرنے کی ہدایات کے باوجودپولیس نوجوان کو دوبارہ تھانے میں لے گئی ہے۔

منگل کے روزپولیس کی جانب سے قوم پرست جماعت نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ لیاقت حیات کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ وزرا حکومت کے ساتھ آل پارٹیز فورم کے رہنماؤں کے وفد کے ہمراہ مذاکرات میں شریک ہونے راولاکوٹ شہر آرہے تھے۔

لیاقت حیات کے خلاف حکمران جماعت تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ مقدمہ میں لیاقت حیات پر الزام ہے کہ انہو ں نے اپنی تقریر کے دوران تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال کیا۔

آل پارٹیز فورم کے رہنماؤں اوروزرا کے مابین کئی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات اسیران کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت ناکام ہو گئے۔

پونچھ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام راولاکوٹ شہر اور کھائی گلہ میں احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیاگیا، جبکہ آج جمعرات کو جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام راولاکوٹ میں احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جائے گا، اسی طرح آل پارٹیز اتحاد کے زیر اہتمام بھی آج ہی احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ابھی تک 11 افراد راولاکوٹ پولیس اسٹیشن اور 4 افراد کو تھوراڑ میں زیر حراست رکھا گیا ہے۔

ابھی تک مظاہرین کے خلاف مجموعی طور پر مختلف تھانوں میں 7 مقدمات قائم کئے جا چکے ہیں۔ جن میں 150 سے زائد معلوم اور 300 سے زائد نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

دریں اثنا عدالت العالیہ کی جانب سے بجلی کے بلوں پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، ای ٹیکس اور ایف ٹیکس کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے حکومتی نمائندگان اور محکمہ برقیات کے نمائندگان کو 11 اگست کو طلب کر رکھا ہے۔

محکمہ برقیات نے عدالت کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے بینکوں کے نام ایک سرکلر جاری کرتے ہوئے یہ تحریر کیا ہے کہ بل جمع کروانے والے صارفین کے بلوں میں سے درج بالا تینوں ٹیکس منہا کرتے ہوئے بل وصول کئے جائیں۔