خبریں/تبصرے

’نیا پنجاب‘ کا پرنسپل سیکرٹری: چوہدری خاندان کی خدمت کے صلے میں 7 ویں سکیل سے 22 ویں تک

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے منگل کے روز جب چوہدری پرویز الٰہی کے حق میں فیصلہ سنایا اور وہ وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے تو ان کی جانب سے حلف لینے سے قبل پہلی تقرری پرنسپل سیکرٹری کی تھی۔

’دی نیوز‘ کے مطابق پرنسپل سیکرٹری کیلئے جس شخص کا انتخاب کیا گیا، انکا نام محمد خان بھٹی ہے اور وہ وفاداری کی ایک کلاسک کہانی ہیں۔ وہ گریڈ 7 کے کلرک کے عہدے سے گریڈ 22 کے افسر تک پہنچ گئے، جو اعلیٰ ترین گریڈ حاصل کرنے والے واحد صوبائی ملازم ہیں۔

نئے تعینات ہونے والے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے ایک بھتیجے ساجد بھٹی پنجاب اسمبلی میں پی ایم ایل کیو کے پارلیمانی لیڈر ہیں، جنہوں نے اپنی پارٹی کے ایم پی ایز کو پرویز الٰہی کو ووٹ دینے کا حکم دیا تھا، جبکہ پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے پارٹی ایم پیز کو ووٹ نہ دینے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ان کے ایک اور بھتیجے واجد بھٹی، جو ساجد کے بھائی ہیں، منی لانڈرنگ کیس میں چوہدری مونس الٰہی کے ساتھ شریک ملزم ہیں، اتفاق سے محمد خان بھٹی بھی اسی کیس میں شریک ملزم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 90ء کی دہائی میں ساجد اور واجد کے والد احمد خان بھٹی گجرات کے چوہدریوں کے ساتھ کام کر رہے تھے، جب انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی محمد خان بھٹی کو مقامی حکومت میں گریڈ 7 کی نوکری دلانے میں مدد کی۔ پرویز الٰہی اس وقت مقامی حکومتوں کے وزیر تھے۔ 1997ء میں انہیں سپیکر پرویز الٰہی کی نگرانی میں پنجاب اسمبلی میں شامل کیا گیا۔

انہوں نے تیز ترین ترقیاں حاصل کیں اور تھوڑے ہی عرصے میں 19 ویں گریڈ کے افسر بن گئے۔ جنرل پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد اسمبلیاں تحلیل ہو گئیں اور چوہدریوں نے ان کے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔ محمد خان بھٹی کو 2002ء میں وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کے سیاسی امور پر ایڈیشنل سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا اور بعد میں انہیں وزیر اعلیٰ کے سپیشل سیکرٹری کے طور پر ترقی دے دی گئی۔ پرویز الٰہی کی خصوصی منظوری سے ان کیلئے جی او آر ون کلب روڈ لاہور میں 4 کنال کا گھر بنایا گیا۔ یہ 2007ء سے محمد خان بھٹی کے قبضے میں ہے۔

جب پنجاب میں مسلم لیگ ن نے حکومت بنائی اور اس وقت کے سپیکر رانا اقبال نے محمد خان بھٹی کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا، لیکن لاہور ہائی کورٹ نے انہیں بحال کر دیا۔ وہ 2018ء میں پرویز الٰہی کے سپیکر بننے کے بعد اسمبلی میں واپس آئے تو محمد خان بھٹی نے ایک نیا ریکارڈ بنانے کیلئے مزید ترقی حاصل کی۔ انہیں صوبائی اسمبلی کا سیکرٹری بنایا گیا اور بعد میں انہیں 22 ویں گریڈ میں ترقی دی گئی۔ محمد خان بھٹی شاید صوبائی سروس کے واحد افسر ہیں، جنہیں اعلیٰ ترین عہدہ دیا گیا ہے۔ پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کی تازہ ترین تقرری کے ساتھ وہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ بیوروکریٹ بن گئے ہیں۔

پرویز الٰہی خاندان سے ان کے تعلقات صرف پنجاب اسمبلی تک محدود نہیں ہیں۔ وہ اپنے پورے کیرئیر میں ان کے ڈی فیکٹو پولیٹیکل سیکرٹری رہے۔ ان کا پرویز الٰہی خاندان کے مالی معاملات میں ملوث ہونا اس کے علاوہ ہے۔ ان کا نام مونس الٰہی کے خلاف ایف آئی اے کی جاری منی لانڈرنگ انکوائری میں بھی درج کیا گیا تھا۔

2007ء میں رحیم یار خان شوگر مل ایک نائب قاصد نواز بھٹی اور ایک طالب علم مظہر عباس نے مشترکہ طور پر قائم کی۔ اؤل الذکر کے 31 فیصد جبکہ موخر الذکر کے پاس 35 فیصد حصص تھے۔ 2008ء میں مل کے سرمائے کی مالیت میں 720 ملین روپے کا اضافہ ہوا اور فنڈز کا ذریعہ نامعلوم رہا۔ شوگر مل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر شہریار نے 2007ء میں شوگر مل کے قیام کیلئے این او سی کی درخواست دی اور اسے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی نے فوری منظور کر لیا۔ نائب قاصد نواز بھٹی اور طالب علم مظہر عباس نے 2011ء سے 2014ء تک اپنے حصص کو نمٹا دیا، لیکن خرید و فروخت غیر واضح رہی۔

مختلف ہاتھوں سے گزرنے کے بعد 34 فیصد حصص دو آف شور کمپنیوں نے حاصل کئے، جن سے متعلق ایف آئی اے کا الزام ہے کہ مونس الٰہی کی ملکیت ہیں۔ مزید 10 فیصد حصص محمد خان بھٹی کے بھتیجے اور پی ایم ایل کیو کے پارلیمانی لیڈر ساجد بھٹی کے بھائی واجد بھٹی نے حاصل کئے، جو ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین تھے۔

مخدوم عمر شہریار اور طارق جاوید (بہنوئی) کے پاس 2020ء تک مجموعی طور پر تقریباً 31 فیصد حصص تھے۔ ایف آئی اے کو خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی خاندان نے مل کے قیام کے لئے استعمال ہونے والے فنڈز کی نوعیت چھپانے کیلئے پراکسیز کا استعمال کیا۔ اگرچہ ایف آئی آر میں محمد خان بھٹی کے براہ راست کردار کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن ان کا نام غالباً ان کے بھتیجے واجد کے حوالے سے لیا گیا ہے۔ پرویز الٰہی کا ذکر بھی نہیں ہے، تاہم ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کے کردار کا بھی تعین کیا جائیگا۔