پاکستان

جموں کشمیر: پندرہویں آئینی ترمیم سے متعلق دعوے اور کوششیں

حارث قدیر

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی آئینی حیثیت ایک مرتبہ پھر درست کرنا مقصود ہے۔ اس سلسلہ میں 1974ء میں یہاں حکومت پاکستان کی طرف سے نافذ کئے گئے ایکٹ میں 15 ویں ترمیم درکار ہے۔ اس سے قبل 1949ء میں کئے گئے معاہدہ کراچی کے تحت اس خطے کے انتظامی امور کو چلانے کیلئے 1950ء میں ایک آرڈیننس نافذ کیا گیا تھا۔ جس میں 1958ء تک مختلف تبدیلیاں کی جاتی رہیں۔ تاہم 1960ء میں بنیادی جمہوریت (بی ڈی) ایکٹ کا نفاذ عمل میں لاتے ہوئے انتخابات کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

اس کے بعد 1964ء، 1967ء اور 1968ء میں ایکٹ تبدیل ہوتے رہے۔ 1970ء میں براہ راست صدارتی انتخابات کے انعقاد کیلئے ایکٹ 1970ء کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ اس کے بعد 1974ء کا ایکٹ نافذ ہوا، جس میں اب تک 14 ترامیم ہو چکی ہیں۔ اس ساری محنت کے باوجود اس خطے کی آئینی حیثیت اور حکومت پاکستان اور مقامی حکومت کے مابین اختیارات کے تعین پر حکومتیں اور ریاست پاکستان کو اطمینان نہیں ہو سکا۔ یوں اب 15 ویں ترمیم کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جو گزشتہ 75 سال میں اس خطے کی آئینی حیثیت کے تعین کی مجموعی طور پر 24 ویں کوشش ہو گی۔

15 ویں ترمیم کے لئے مقامی حکومت کی ایک کمیٹی قائم کی گئی، جس کے اراکین میں وزرا حکومت میر اکبر خان، دیوان علی خان چغتائی، عبدالماجد خان، اظہر صادق، ظفر اقبال ملک، چوہدری یاسر سلطان کے علاوہ سیکرٹری زراعت اور سیکرٹری قانون و انصاف، پارلیمانی امور و سیکرٹری انسانی حقوق کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کی مشاورت سے جو مسودہ تیار کیا گیا، جس سے متعلق کہا جاتا ہے کہ تیار حالت میں ہی ان کے پاس آیا، اس مسودہ کی ایک پریزنٹیشن سیکرٹری قانون و انصاف نے اس کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کیلئے تیار کی، جس کی نقل اب صحافیوں کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔

15 ویں آئینی ترمیم کے لئے ایک خط وزارت امور کشمیر کی جانب سے بھی لکھا گیا ہے۔ یکم جولائی 2022ء کو جوائنٹ سیکرٹری وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کی جانب سے لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے وفاقی سیکرٹری قانون و انصاف کی سربراہی میں قائم کی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس 30 جون 2022ء کو ہوا۔ اس اجلاس میں ایک سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودہ کا جائزہ لے کر حتمی شکل دے گی۔ اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت کے جاری فنکشنز کو پاکستان کی صوبائی حکومتوں کی سیدھ میں لانا ہے اور حکومت پاکستان کے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے متعلق فنکشنز کو فیڈریٹنگ یونٹس (یعنی فیڈریشن کے دیگر یونٹس) کی طرز پر ڈھالا جائے گا۔

اس سب کمیٹی کو یہ ہدف پورا کرنے کیلئے 31 جولائی 2022ء تک کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ اس سب کمیٹی میں تین ممبران حکومت پاکستان کی طرف سے شامل کئے گئے ہیں۔ جن میں وزارت قانون و انصاف، وزارت دفاع اور وزارت امور کشمیر کا ایک ایک ممبر شامل ہو گا۔ مقامی حکومت کی طرف سے بھی نامزد کردہ 3 ممبران اس سب کمیٹی کا حصہ ہونگے۔ اس خط کے ذریعے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے چیف سیکرٹری کو کہا گیا ہے کہ مقامی حکومت کے 3 ممبران کی نامزدگی کی جائے۔ مقامی حکومت کی طرف سے سیکرٹریز حکومت مسٹر ادریس اور ارشاد قریشی کو کمیٹی کیلئے نامزد کیا گیا ہے۔

مقامی وزرا حکومت کی طرف سے تیار کئے گئے مسودہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ 13 ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے اور جموں کشمیر کونسل کے ادارہ کو دوبارہ زیادہ طاقت کے ساتھ بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔ وفاقی حکومت کا خط اس سے بالکل متضاد صورتحال کو عیاں کر رہا ہے، جس کے مطابق اس خطے کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرتے ہوئے پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرز کا سیٹ اپ دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس تبدیلی کیلئے پاکستانی آئین کے آرٹیکل ون اور 257 سمیت سینٹ، قومی اسمبلی سمیت وسائل کی تقسیم سے متعلق آرٹیکلز اور ذیلی آرٹیکلز میں تبدیلی ضروری ہے۔ تاہم کچھ ماہرین قانون کا خیال یہ ہے کہ 15 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مقامی اسمبلی کے تمام تر اختیارات کشمیر کونسل کو منتقل کرتے ہوئے کشمیر کونسل میں حکومت پاکستان کے نمائندگان کی اکثریت رکھ کر اس تبدیلی کا راستہ ہموار کیا جانا مقصود ہے۔

یوں 15 ویں ترمیم کا جو مسودہ سامنے آیا ہے اس کو اس طرح سے نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔

مسودہ کے مطابق کونسل کی تشکیل میں پاکستان کے وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ آئین میں ہر طرح کی ترمیم کیلئے حکومت پاکستان کی پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل صرف تین دفعات 31، 33 اور 56 میں ترمیم کی اجازت نہیں تھی۔ 13 ویں آئینی ترمیم میں وزرا حکومت کی تعداد اسمبلی ممبران کے 30 فیصد کے برابر طے کی گئی تھی، جسے بڑھا کر 50 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے۔ کونسل کے اختیارات مقامی حکومت کو تفویض کرنے والی دفعہ حذف کر دی گئی ہے۔

مسودہ میں ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے بنیادی حقوق کو معطل نہ کئے جانے سے متعلق دفعہ کو بحال رکھتے ہوئے، ایمرجنسی کیلئے اسمبلی کی پیشگی منظوری اور اسمبلی توڑنے جیسے اختیارات کو ختم کر نے کی تجویز ہے۔ ترمیم کے 15 روز کے اندر کونسل کو استوار کرنے اور بحال کرنے کی تجویز ہے۔ بھارتی زیر انتظام علاقوں جموں، کشمیر اور لداخ کی علامتی نمائندگی کیلئے 12 نشستوں کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جو خالی رہیں گی۔

13 ویں آئینی ترمیم کے تحت قانون سازی کے لئے 54 معاملات کو شیڈول تھری کے پارٹ A اور B میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پارٹ A میں شامل 32 معاملات میں قانون سازی کا اختیار صرف اور صرف حکومت پاکستان کو حاصل تھا، جبکہ پارٹ B میں شامل 22 معاملات سے متعلق قانون سازی اسمبلی کو حکومت پاکستان کی رضامندی یا منظوری سے قانون سازی کا اختیار دیا گیا تھا۔ تاہم نئی مجوزہ ترمیم میں پارٹ B میں شامل 22 معاملات سے متعلق قانون سازی کا اختیار بھی کونسل کو تفویض کئے جانے کی تجویز ہے۔

اس طرح تمام ہائیڈل منصوبہ جات، ان سے پیدا ہونے والی بجلی، زیر زمین معدنیات، عدالتوں کے دائرہ اختیار کا تعین، تعلیمی نصاب سے متعلق قانون سازی یہ اسمبلی نہیں کر سکے گی۔ کونسل کے بنائے گئے قوانین سے متعلق قانون ساز اسمبلی کوئی کردار ادا نہیں کر سکے گی۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کا اختیار بھی وزیر اعظم پاکستان کے پاس ہو گا اور وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے کی گئی تقرریوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ چیف الیکشن کمشنر اور آڈیٹر جنرل کی تقرری کا اختیار بھی وزیر اعظم پاکستان کا ہو گا اور یہ تقرری بھی کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکے گی۔ پاکستان میں موجود کشمیر پراپرٹی کونسل کی ملکیت قرار دی جائیگی اور ایمرجنسی لگانے کا اختیار اسمبلی سے لیکر وزیر اعظم پاکستان کو تفویض کیا جائے گا۔

یوں سیاسی قیادت کو خدشات ہیں کہ مقامی حکومت کی طرف سے مجوزہ ترمیمی مسودہ کو منظور کر کے اختیارات کونسل کو دیئے جائیں گے اور ایمرجنسی لگانے کے اختیارات وزیر اعظم پاکستان کو تفویض کرتے ہوئے پاکستان کے آئین میں ترمیم کی جا کر اس خطے کی نمائشی طرز کی الگ شناخت کو ختم کر کے صوبائی ڈھانچے سے تبدیل کیا جائے گا۔ یہاں بھی شناخت سے زیادہ بڑا خدشہ سٹیزن شپ ایکٹ کے نفاذ کے بعد بھارتی منصوبے کی طرز پر آبادیاتی تبدیلی کے امکان کی صورت میں ابھر رہا ہے۔

سٹیٹ سبجیکٹ رول اور متنازعہ علاقہ ہونے کی وجہ سے اس خطہ میں کوئی بیرون ریاست سے آ کر زمین خرید کر آباد نہیں ہو سکتا، نہ ہی مقامی ملازمتوں میں غیر ریاستی افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس خطے کی شہریت حاصل کرنا کا طریقہ کار تقریباً ناممکن ہے۔ اسی طرح سے سیاحتی مقامات کو بیرونی سرمایہ کاروں کو لیز پر دینے کیلئے بھی اس خطہ کی الگ اور متنازعہ حیثیت یا شناخت کو تبدیل کیا جانا ناگزیر ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹورازم پروموشن ایکٹ 2019ء میں ترمیم کرتے ہوئے ٹوازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام اور 571 مربع کلومیٹر کے لگ بھگ سیاحتی مقامات کی اراضی کو بیرونی سرمایہ کاروں کے حوالے کرنے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے بھی یہ 15 ویں آئینی ترمیم اور اس خطہ کی آئینی حیثیت تبدیل کیا جانا ضروری ہے۔

تاہم یہ منصوبہ اتنا نیا نہیں ہے، اس کے تانے بانے 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات سے جڑتے ہیں۔ بھارت نے جب اپنے زیر انتظام جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اپنی یونین میں ضم کیا تو اس کے رد عمل میں حکومت پاکستان کی طرف سے ایک سیاسی نقشہ جاری کرتے ہوئے پورے جموں کشمیر (چین کے زیر قبضہ علاقے کو چھوڑ کر)، سر کریک اور بھارتی ریاست جوناگڑھ پر اپنا دعویٰ ظاہر کیا تھا۔ اس نقشہ کو پاکستان میں ہر جگہ پر شائع کرنے اور اس کے علاوہ کوئی نقشہ استعمال کرنے پر نہ صرف پابندی عائد کی گئی تھی بلکہ خلاف ورزی پر سزاؤں کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔

یوں اس تناظر میں حکومت پاکستان کو اپنے زیر انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو اس سیاسی نقشے کی رو سے اپنی آئینی حدود میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔ جس پر کسی نہ کسی مرحلہ پر بہر صورت عملدرآمد کیا جانا ہے۔ تاہم بین الاقوامی موقف کو برقرار رکھنے کے اخلاقی جواز کو برقرار رکھتے ہوئے یہ اقدام کرنے کے راستے تلاش کئے جا رہے ہیں۔

یوں اس ساری کیفیت سے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے حکمران طبقات اور ریاستیں جموں کشمیر میں بسنے والے انسانوں کی بہتر زندگیوں اور تعمیر وترقی کی بجائے اس خطے پر اپنے قبضے کو دوام بخشنے اور اس خطے کے وسائل کی لوٹ مار کے لئے ان توسیعی عزائم پر کاربند ہیں۔ اس لئے ان توسیعی عزائم کی تکمیل کیلئے عالمی سطح پرتبدیل ہوتے ہوئے حالات اور علاقائی تذویراتی ضروریات کے تحت اس خطے کے انسانوں کو بری طرح سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب جیسے ضرورت پڑتی ہے اس نوع کی آئینی، سیاسی و جغرافیائی ترامیم اور دعوؤں کے ذریعے سے مقامی آبادیوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کے مفادات کو مد نظر رکھ کر یہ تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔

موجودہ تبدیلی بھی سامراجی و تذویراتی بنیادوں پر ہی کی جا رہی ہے۔ ماضی میں کی گئی ہر تبدیلی بھی انہی سامراجی و تذویراتی ضرورتوں کے مطابق ہی کی جاتی رہی ہیں۔ جب بھی اس طرح کی تبدیلیاں کی جاتی رہی ہیں، مقامی حکمران اشرافیہ قومی شاؤنزم کو استعمال کرتے ہوئے اپنا حصہ حاصل کرنے کیلئے احتجاج کا راستہ اپناتی رہی ہے۔ موجودہ وقت حکمران اشرافیہ کے احتجاج کا مقصد اپنی عیاشیوں اور لوٹ مار پر قدغن لگنے کا خدشہ ہے۔ دائیں بازو کی قیادتیں اور حکمران اشرافیہ کا حصہ یہ لوگ حکومت پاکستان کے فیصلوں اور پالیسیوں پر احتجاج اور ریاست پاکستان کے ساتھ وفاداری کا د م بھرنے کے اعلانات کرتے ہیں۔ واضح طور پر یہ کہنے سے ہمیشہ گریزاں رہے ہیں کہ ریاست پاکستان نے ہی اس خطے کے لوگوں کی بغاوت کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے اختیارات پر شب خون مارا تھا۔ اس وقت بھی حکمران اشرافیہ نے اس خطے کے عوام کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، مقامی آبادیوں کو اندھیرے میں رکھ کر تمام تر اختیارات حکومت پاکستان کے سرکاری افسران کے حوالے کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی تھی۔

24 اکتوبر 1947ء کو کئے گئے اعلان آزادی میں واضح طور پر لکھا گیا کہ ”حکومت کا مقصد سردست ریاست میں نظم و نسق کی بحالی ہے کہ عوام اپنی رائے سے ایک جمہوری آئین ساز اور ایک نمائندہ حکومت چن لیں۔ ہمسایہ مملکت ہائے پاکستان اور ہندوستان کے بہترین جذبات، دوستی اور خیر سگالی رکھتی ہے۔ امید کرتی ہے کہ دو مملکتیں کشمیری عوام کی فطری آرزو آزادی کے ساتھ پوری پوری ہمدردی کریں گی۔ عارضی حکومت ریاست کی جغرافیائی سالمیت اور سیاسی انفرادیت برقرار رکھنے کی متمنی ہے۔“

ریاست کے نظم و نسق کی بحالی سمیت عوامی رائے سے جمہوری، آئین سازی اور نمائندہ حکومت چننے کا یہ خواب ابھی تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ 1950ء میں عوامی بالغ رائے دہی کے ذریعے حکومت کے انتخاب کے مطالبہ پر حکومت پاکستان کے خلاف تحریک کا آغاز کیا گیا، جس پر فوج کشی کی گئی۔ عوامی مسلح رد عمل کے باعث یہ مطالبہ تسلیم کیا گیا لیکن پھر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔ 1956ء میں ایک بار پھر بغاوت ہوئی، جس کو پھر پنجاب کنسٹیبلری اور فوج کے ذریعے سے کچلنے کی کوشش کی گئی۔ حکمران اشرافیہ کے مصالحتی کردار نے ان قربانیوں کو رائیگاں جانے دیا اور حکومت پاکستان کا مقامی حکمرانوں کو نامزد کرنے کا اختیار برقرار رہا۔

سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق کے حصول کیلئے اس خطے کے لوگوں نے ہر بار دہائیوں تک قربانیوں کی ایک بے مثال تاریخ رقم کی ہے، تاہم حکمران اشرافیہ نے اپنے مفادات کے حصول کیلئے ان قربانیوں کو ہمیشہ استعمال کیا ہے۔ ہمیشہ عوامی امنگوں کا سودا کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطہ کے لوگ روزگار کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ سیاسی، معاشی، جمہوری اور آئینی حقوق دو درکنار معمولی سا روڈ انفراسٹرکچر بھی اس خطہ میں ابھی تک تعمیر نہیں ہو سکا ہے۔

موجودہ وقت بھی شناخت اور حیثیت کی تبدیلی کے خلاف عوامی جذبات کو حکمران اشرافیہ کی جانب سے استعمال کرتے ہوئے محدود دائرے میں جدوجہد استوار کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کیلئے پہلے مرحلے میں حکومت سازی اور آئین سازی کے تمام تر اختیارات کے علاوہ مالیاتی اختیارات کی مانگ اور فوجی قبضے کے خاتمے کی جدوجہد کو استوار کرنا ہو گا۔ بجلی کے پیداوار کے تمام منصوبوں سمیت تمام تر وسائل کو قومی تحویل میں لیتے ہوئے عوامی کے جمہوری کنٹرول میں دینے کے پروگرام کے تحت آگے بڑھنا ہو گا۔

شناخت اور شاؤنزم کے جھانسے میں آ کر حکمران اشرافیہ کے مفادات کی جنگ لڑنے کی بجائے، اس خطے کے مظلوم و محکوم عوام کی حقیقی نجات، استحصال سے پاک معاشرے کے قیام کیلئے جدوجہد کو استوار کرنا ہو گا۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے اصولوں کی بنیاد پر اس جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے گلگت بلتستان سمیت دیگر محکوم و مظلوم قومیتوں کے محنت کش طبقہ کے ساتھ جڑات بنانے اور ان سے یکجہتی حاصل کرنا ہو گی۔ تاریخی طور پر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حکمران اشرافیہ محنت کش طبقے کی نجات کے نعرے کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے ہی استوار کر سکتی ہے، محنت کش طبقے کو اپنا نجات دہندہ خود ہی بننا ہو گا۔