دنیا

ایمن الظواہری: ڈرون اڑا کہاں سے؟

فاروق سلہریا

اتوار کی صبح ایک ڈرون حملے میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری ہلاک ہو گئے۔ یہ خبر اگلے روز میڈیا میں اس وقت آئی جب امریکی صدر جو بائیڈن بارے بتایا گیا کہ وہ قوم سے اہم خطاب کریں گے۔

دریں اثنا، دو روز تک طالبان رجیم یہ خبر چھپاتا رہا۔ سرکاری طور پر ابھی بھی (تادم تحریر) طالبان جنتا نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ ہلاک ہونے والے شخص ایمن الظواہری تھے۔

عالمی میڈیا میں رپورٹس کے مطابق، ایمن الظواہری سراج الدین حقانی گروپ کے اہم رہنما کے گھر میں تھے۔ اے پی (ایسوسی ایٹڈ پریس) سے بات کرتے ہوئے ایک سرکاری اہل کار نے کہا کوئی امریکی کابل میں موجود نہیں تھا۔ امریکی حکومت کے مطابق یہ سی آئی اے کا آپریشن تھا۔

یہ حملہ کابل پر طالبان کے قبضے کے ٹھیک ایک سال بعد ہوا ہے۔ اس حملے کا کئی طرح سے تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔

1۔ یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کا بیس سالہ قبضہ نہ صرف ہر طرح سے ناکام ثابت ہوا بلکہ جس القاعدہ کو ختم کرنے وہ آیا تھا، وہ وہیں کا وہیں موجود ہے۔ امریکہ نے پہلے افغانستان پر قبضے کے ذریعے افغان عوام سے دھوکا کیا۔ پھر ملک کو طالبان کے حوالے کر کے افغان عوام بلکہ اپنے شہریوں سے بھی دھوکا کیا۔ اگر آپ ایک ملک دہشت گردوں کے حوالے کریں گے تو وہ ملک دہشت گردی کا گڑھ بنے گا ہی بنے گا۔ جو بائیڈن نے اپنی تقریر میں جو بھی دعوے کئے، حقیقت یہ ہے کہ یہ حملہ امریکہ کی کامیابی نہیں، ناکامی ہے۔ بدقسمتی سے اس نئی ناکامی کی سب سے بڑی قیمت افغان عوام، کسی حد تک پاکستان کے شہری ادا کریں گے۔

2۔ تا دم تحریر (منگل) امریکی حکام نے یا عالمی میڈیا نے یہ نہیں بتایا کہ ڈرون کہاں سے اڑا۔ اس سوال کا جواب زیادہ عرصہ چھپانا ممکن نہ ہو گا۔ یہی وہ سوال ہے جہاں پاکستان ملوث ہو گا۔ ایک امکان ہے: ڈرون پاکستان سے اڑا۔ ایک امکان ہے: ڈرون خیلج میں اسٹیشن کسی امریکی بحری بیڑے سے بھیجا گیا۔ اگر بحری بیڑے سے یہ آپریشن کیا گیا تو کیا یہ ڈرون پاکستانی حدود سے گزر کر گیا یا ایرانی فضائی حدود سے؟ ان دونوں ممکنہ امکانات کا جواب اسلام آباد کو مشکل میں ڈالے گا۔ پاکستانی حکام کی طرف سے اگر کوئی ایسا بہانہ بنایا گیا جس کا مقصد مغرب کو خوش کرنا ہوا تو اندرون ملک مسائل ہوں گے۔ اگر اندرون ملک لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی تو ڈیفالٹ سر پر منڈلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے طالبان رجیم سے تعلقات متاثر ہوں گے۔ قصہ مختصر: امریکہ اور پاکستان نے افغانستان میں جو بیج پچاس سال تک بویا ہے، ابھی ایک مرتبہ پھروہ کاٹنا پڑے گا۔

3۔ طالبان رجیم کے لئے اب اور بھی مشکل ہو جائے گا کہ انہیں عالمی سطح پر افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم کیا جائے (معلوم نہیں ناروے کی حکومت کا اس حملے پر کیا موقف ہے جس نے چند ماہ قبل طالبان کی میزبانی کی تھی)۔

4۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے ایک ماہ بعد، افغانستان بارے بات کرنا بند کر دیا گیا۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ افغان مہاجرین کی ذمہ داری لینا پڑے نہ افغانستان میں پڑنے والے قحط کی۔ مصیبت یہ ہے کہ پچھلے پچاس سال سے افغانستان اس وقت ہی عالمی توجہ کا مرکز بنتا ہے جب وہاں کوئی نیا المیہ جنم لیتا ہے۔ ایک مرتبہ پھر ایسا ہو گا۔ دہشت گرد ایمن الظواہری کا غیر عدالتی قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ بربیتوں کا تصادم (Clash of Barbarisms) جاری ہے، ابھی جاری رہے گا۔ یہ ملک، نتیجتہً پورا خطہ، غیر مستحکم رہے گا۔ وار آن ٹیرر اور سٹریٹیجک ڈیپتھ، متعلقہ حکمران کے لئے ارب کھرب ڈالر کا کاروبار ہے۔ اس کاروبار کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی ایمن الظواہری دستیاب نہ ہو تو ایجاد کر لیا جائے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔