دنیا

مسئلہ سرمایہ داری، حل اجتماعیت: 9 یورو ٹکٹ کا تازہ جرمن تجربہ

فاروق سلہریا

جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک حکومت کا قیام کئی سالوں بعد ممکن ہوا۔ اس حکومت نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ اس سال موسم گرما کے دوران 9 یورو کی ایک ٹکٹ متعارف کرائی۔ یہ ٹکٹ پورے مہینے کے لئے تھی۔ اس ٹکٹ کی مدد سے مسافر ملک بھر کی مقامی بسوں اور ریل گاڑیوں میں (سوائے بعض ایسی ٹرینوں کے جو تیز رفتار اور لمبے روٹس پر چلتی ہیں) میں سفر کر سکتے تھے۔ 9 یورو ٹکٹ کا مطلب ہے، لگ بھگ مفت سفر۔

اس منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اپنی اپنی گاڑی میں سفر کرنے کی بجائے، جو ماحولیات کے لئے ہی نقصان دہ نہیں، بلکہ بہت سے دوسرے مسائل کی بھی جڑ ہے، اجتماعی ٹریفک یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔

کامیابی کے حوالے سے اس منصوبے کی مکمل تفصیلات تو ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن ابتدائی معلومات اس منصوبے کی کامیابی کا بہترین ثبوت ہیں۔

اب تک کی معلومات کے مطابق یہ منصوبہ انتہائی کامیاب ثابت ہوا۔ صرف جولائی کے مہینے میں 2.10 کروڑ لوگوں نے یہ ٹکٹ خریدا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس موسم گرما میں 3 کروڑ افراد نے یہ ٹکٹ خریدا۔ واضح رہے کہ 14 سال سے کم عمر بچوں کو ٹکٹ کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ گویا پورا خاندان لگ بھگ مفت سفر کر سکتا تھا۔ اسی طرح، جن افراد کے پاس بس پر سفر کرنے والا سیزن کارڈ موجود تھا، ان کو بھی یہ ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں تھی۔ یوں اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد ٹکٹ سیل کے مقابلے پر کہیں زیادہ تھی۔

اس منصوبے کی وجہ سے، ایک اندازے کے مطابق، 26 شہروں میں سے کم سے کم 24 شہروں میں ٹریفک کم ہوئی۔ اجتماعی ٹریفک کے استعمال میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔

اس منصوبے پر حکومت نے 2.5 ارب یورو کی سبسڈی دی۔ یاد رہے، یوکرین کی جنگ نے جس طرح جرمنی میں گیس اور تیل کی قیمتوں کا بحران پیدا کیا ہے، اگر اس کا جائزہ لیا جائے تو شائد یہ سبسڈی ملکی معیشت کے لئے کہیں بہتر ثابت ہو۔ بہرحال اس حوالے سے ابھی کوئی تحقیق سامنے نہیں آئی۔ ہاں یہ بات طے ہے کہ یہ منصوبہ کم از کم ماحولیات اور شہری حقوق یا عوامی سہولت کے حوالے سے انتہائی کامیاب رہا۔

سرمایہ داری کی کوشش ہوتی ہے کہ معاشرے میں انفرادیت کو فروغ دیا جائے۔ اپنی اپنی گاڑی یا اپنی اپنی موٹر سائیکل، خاص کر پاکستان جیسے غریب ممالک میں، کا مطلب ہے ملکی معیشت کا نقصان اور ماحولیات کی تباہی مگر سرمایہ دار جو گاڑیاں بناتے اور بیچتے ہیں یا تیل بیچنے والی کمپنیاں کھربوں ڈالر سالانہ کماتی ہیں۔ ان کے نزدیک ماحولیات کی کوئی اہمیت نہیں۔ منافع ہی ان کا دیوتا ہے۔ سرمایہ داری نے دنیا بھر میں ٹریفک اور ماحولیات کا ایک گھمبیر مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ ماحولیات تو اتنا بڑا مسئلہ بن گیا ہے کہ اجتماعی انسانی وجود خطرے میں پڑتا جا رہا ہے۔

اس پس منظر میں 9 یورو ٹکٹ کا تازہ جرمن تجربہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ سرمایہ داری کے پیدا کئے گئے شرمناک مسائل کا حل اجتماعیت ہے۔ اتفاق سے راقم جولائی کے مہینے میں تین ہفتے کے لئے جرمن شہر ہامبرگ میں تھا۔

ہامبرگ میں 9 یورو ٹکٹ کے مزے، ذاتی تجربہ

میرے جرمنی پہنچنے سے پہلے ہی 9 یورو ٹکٹ کے ہلکے پھلکے تذکرے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر گردش کر رہے تھے۔ میرے جیسے عام لوگوں کے لئے: اکثر جب یورپ کے کسی بڑے شہر میں جائیں تو دو بڑے خرچے ہوتے ہیں۔ ایک رہائش اور دوسرا ٹکٹ۔ رہائش کے خرچے سے بچنے کے لئے عمومی طور پر لوگ کسی دوست یا رشتہ دار کے ہاں ٹھرتے ہیں۔ اس بار بھی میرے میزبان کچھ افغان دوست تھے جبکہ ٹکٹ اتنا سستا کہ تقریباً مفت۔ میرے لئے موازنہ کرنا اور بھی آسان تھا کیونکہ میں اسٹاک ہولم سے ہامبرگ گیا تھا۔ اسٹاک ہولم میں صرف ایک دن کا مقامی بس پاس لیا جائے جس سے پورے اسٹاک ہولم کی مقامی ٹرینوں اور بسوں پر سفر کیا جا سکتا ہے تو اس ٹکٹ کے لئے تقریباً 11 یورو دینے پڑتے ہیں۔

بر سبیل تذکرہ: گذشتہ کچھ سالوں کی طرح، اسٹاک ہولم میں بھی لیفٹ پارٹی کی تجویز اور مطالبے پر 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کو پورے موسم گرما کی چھٹیوں کے لئے بغیر ٹکٹ سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

ہامبرگ میں (تقریباً) مفت سفر کا مزا یہ تھا کہ فیملی اور دوستوں سمیت ہم خوب گھومے۔ نہ صرف شہر میں تفریح کے موقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا بلکہ قریب کے بعض شہروں میں بھی سیاحت کا موقع ملا۔ میں چونکہ اپنی فیملی کے ہمراہ تھا۔ اس لئے اس ٹکٹ کی وجہ سے بے شمار اخراجات بچ گئے۔ جرمن لوگ خود بھی دل کھول کر گھوم رہے تھے۔ ٹرینیں عمومی طور پر کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔

اس مفت سفر کے علاوہ بھی میں نے یہ بات محسوس کی کہ لندن یا اسٹاک ہولم (راقم کوجہاں رہنے کا تجربہ ہے) کے مقابلے پر ہامبرگ کی اجتماعی ٹریفک عمومی طور پر بھی مسافر دوست ہے۔ مثال کے طور پر ٹرین یا بس پر سوار ہونے کے لئے کہیں ٹکٹ دکھانی پڑتی ہے نہ کسی سوائپ گیٹ سے گزرنا پڑتا ہے جو، بالخصوص جب سامان پاس ہو یا بچے ساتھ ہوں، تو سفر کو مشکل بنا دیتا ہے۔ سفر کے دوران ممکن ہے ٹکٹ چیکنگ کا عملہ کسی جگہ بس یا ٹرین پر سوار ہو اور چیکنگ شروع کر دے۔ لگ بھگ تین ہفتے قیام کے دوران، راقم کو ایک مرتبہ اس طرح ٹکٹ چیک کرانا پڑا۔

یہ منصوبہ چونکہ ختم ہونے والا تھا اس لئے ایک مہم بھی جاری تھی کہ 9 یورو ٹکٹ جاری رکھی جائے۔ بسوں اور ٹرینوں میں ایسے فارم دستیاب تھے جن پر عام شہری اس مہم کے حق میں دستخط کر سکتے تھے۔ حسب توقع لوگ دھڑا دھڑ ایسے فارم بھر رہے تھے۔ کسی حد تک تو یہ مہم کامیاب رہی۔ کہا جا رہا ہے کہ 9 یورو تو نہیں مگر 69 یورو کی ٹکٹ ہو گی اور اس کے لئے ریاست 2 ارب یورو کی سالانہ سبسڈی دے گی۔

اس تجربے کی روشنی میں، دنیا بھر کے شہریوں کو اپنی اپنی حکومتوں سے ایسی اجتماعی ٹریفک کا مطالبہ کرنا چاہئے جس میں شہری سہولت کے ساتھ با آسانی سفر کر سکیں۔ ہر نئی ذاتی گاڑی اور موٹر سائیکل سرمایہ داری کے لئے آکسیجن مگر انسانوں کے لئے کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔

(اس مضمون میں اعداد و شمار سویڈن کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل ’SvT‘ کی ویب سائٹ سے لئے گئے ہیں، جرمن تجربے بارے اس چینل نے ایک رپورٹ گذشتہ پیر کے روز شام ساڑھے سات بجے کی خبروں میں نشر کی)

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔