نقطہ نظر

پاکستان ہو یا ہندوستان، مذہبی جنونیت ملیریا ہے

فاروق سلہریا

۱۔ پاکستان میں یہ فلم سنسر ہو جاتی: عامر خان کی فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ پر اتنا بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا گیا ہے کہ اب اس فلم کو کسی تعارف کی ضرورت نہیں رہی۔ اس فلم نے ہندتوا کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان اور کسی حد تک پاکستان میں فلم دیکھے بغیر تبصرے کئے جا رہے ہیں، اس لئے نہ صرف اکثر تبصرے مضحکہ خیز ہیں بلکہ پاکستان کی حد تک یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستان کے مذہبی جنونیوں اور الباکستانیوں نے یہ فلم دیکھی ہوتی تو ان کی بھی ہندتوا کی طرح چیخیں نکل جاتیں۔ اگر پاکستان میں بھارتی فلموں پر پابندی نہ بھی ہوتی تو اس فلم کو پاکستانی سینما گھروں میں دکھانے کی اجازت نہ ملتی۔ اسے سنسر کر دیا جاتا۔

۲۔ یہ فلم دیکھنا ایک سیاسی ایکشن ہو گا: ہندتوا نے اس فلم پر جتنا بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے، جس طرح سے (حسب معمول، بالکل غلط طور پر) فلم کو ہندو مسلم تنازعہ بنا دیا ہے، اس کا جواب یہ بنتا ہے کہ اس فلم کو دیکھنے ضرور جائیں۔ ’لال سنگھ چڈھا‘دیکھنے کے لئے سینما جانا (جہاں یہ ممکن ہو) ایک ثقافتی نہیں، سیاسی عمل ہو گا۔ ایک ایسا سیاسی عمل جس کا مقصد ہندتوا کو شکست دینا ہو گا۔

۳۔ فنی طور پر بڑی فلم: اگر آرٹ، بالخصوص فلم میڈیم، کا مقصد بحث کو جنم دینا اور تفریح فراہم کرنا ہے تو ’لال سنگھ چڈھا‘ فلم بینوں کو ضرور دیکھنی چاہئے۔ وقتی تنازعہ اور اس کی سیاسی اہمیت اپنی جگہ، بطور فلم یہ ایک بہترین پروڈکشن ہے۔ اس فلم کا شمار بالی وڈ کی اہم ترین فلموں میں ہوتا رہے گا۔ اسے میرا نام جوکر، پیاسا، مدر انڈیا، لگان، گرم ہوا، منڈی، بازار، اجازت، آوارہ، سگینہ مہاتو یا ایسی سنجیدہ فلموں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے جنہیں دنیا کی کسی بھی آڈینس کے سامنے پیش کریں تو وہ اسے انجوائے کریں۔ یہ ایک یونیورسل فلم ہے۔

کارگل کے تنازعے یا فوجی ادارے کو جس طرح پیش کیا گیا ہے، اس سے جو سبق دیا گیا ہے، وہ دنیا کے دیگر تنازعات بارے بھی سبق آموز ہے۔

۴۔ ری میک یا اڈاپشن: اس فلم کو ٹام ہینک کی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم کی ری میک کہا گیا ہے۔ یہ ری میک ہے یا اڈاپشن، فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ مارکیٹنگ کی حد تک یہ درست فیصلہ تھا کہ اسے ری میک کہا جائے لیکن اگر فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو اسے اڈاپشن کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ فلم دیکھے بغیر جو بے شمار تبصرے کئے گئے، ان میں ایک اعتراض یہ تھا کہ یہ فلم ری میک نہیں ہے۔ یہ تنقید برائے تنقید والی بات تھی۔ ری میک کی حد تک بھی فلم ساز کو یہ فکشنل لائسنس حاصل ہوتا ہے کہ وہ سکرپٹ میں اپنی آڈئینس اور سیاق و سباق کے حوالے سے تبدیلی لائے۔

۵۔ ہندتوا کی چیخیں کیوں نکل رہی ہیں؟: فاریسٹ گمپ میں ٹام ہینک کی لازوال اداکاری کے علاوہ سٹوری لائن اور بیانئے کی شکل میں خوبصورت بات یہ تھی کہ فلم نے امریکی تاریخ کے شرمناک پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے وہاں کے مین اسٹریم بیانئے کو چیلنج کیا۔ یہی کچھ انتہائی کامیابی سے ’لال سنگھ چڈھا‘ میں بھی کیا گیا ہے۔ 1984ء میں سکھوں کے قتل عام کی بات کی گئی ہے۔ گولڈن ٹیمپل پر فوجی حملہ اور پھر دلی میں سکھ مخالف فسادات بارے ہندوستان میں بات نہیں کی جاتی۔ ’لال سنگھ چڈھا‘ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے جبر اور ان کے قتل عام سے پردہ اٹھاتی ہے۔ یادش بخیر: اندرا گاندھی کا قتل جو گولڈن ٹیمپل پر حملے کا ردعمل تھا، کے بعد شری امیتابھ بچن بھی ہندووں سے کہہ رہے تھے کہ سکھوں سے بدلہ لیا جائے (کاش فلم میں اس کا ذکر بھی کر دیا جاتا لیکن امیتابھ بچن کو بالی وڈ میں ہاتھ ڈالنا ممکن نہیں۔ خیر)۔ فلم کا مرکزی کردار لال سنگھ چڈھا (عامر خان) بھی ایک سکھ ہے۔ فلم میں لال کے ایڈوانی کی رتھ یاترا، بابری مسجد کے انہدام کے ساتھ ساتھ ہندوستانی سماج اور تاریخ کے ان حقائق کو اجاگر کیا گیا ہے جو بی جے پی، ہندوستان کے مین اسٹریم زعفرانی میڈیا اور اس فلم کے سیاسی ناقدین کو ہضم نہیں ہو رہا۔ ایک خوبصورت مثال وہ سین ہے جس میں لال سنگھ چڈھا اپنی محبوبہ روپا ڈی سوزا (کرینہ کپور) سے دلی کے انڈیا گیٹ پر ملتا ہے۔ دونوں اورنگزیب مارگ پر والک کرتے دکھائے گئے ہیں۔ دلی کے دل میں اورنگزیب کے نام پر ایک سڑک منسوب ہے، بی جے پی کو یہ بات بہت کھٹکتی ہے۔ ہندتوا سب سے زیادہ شور اس بات پر مچا رہی ہے کہ ویت نام جنگ کو کارگل کے ساتھ کیسے ملا دیا گیا؟ ویت نام جنگ سامراجی جنگ اور کارگل ایک دفاعی جنگ تھی،ان کا آپس میں کیا موازنہ؟

۶۔ کارگل جنگ: فلم دیکھے بغیر، فلم کے ٹریلر کی بنیاد پر ہندتوا اور کارپوریٹ زعفرانی میڈیا، جسے بھارت کے امبانیوں نے خرید کر مودی کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے، بار بار چیخ چلا رہے تھے کہ کارگل جنگ کو ویت نام کی ری میک کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ویت نام جنگ ایک سامراجی جنگ تھی لیکن اگر مین اسٹریم بھارتی (اور پاکستانی) نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس فلم میں کارگل جنگ کو بھارت میں پاکستانی در اندازی بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں بھارت اس طرح جارح نہیں ہے جس طرح ویت نام میں امریکہ تھا۔ الباکستانیوں کو بھی چاہے یہ بات پسند نہ آئے مگر تاریخی حقائق بھی یہی ہیں۔ یہ مہم جوئی مشرف گینگ نے کی تھی جس کا ملک کے وزیر اعظم کو بھی علم نہ تھا۔ ’لال سنگھ چڈھا‘ نے البتہ کارگل کو ایک بالکل نیا رنگ دے دیا ہے۔ جس طرح سے اس جنگ کوفلم میں پیش کیا گیا ہے، وہ کارگل کے تاریخی حقائق اور اس کی بحث کو پیچھے چھوڑ کر کہیں آگے کی بات ہے۔ فلم میں جنگ کے انسان دشمن پہلو، اس کی بربریت، اس کے طبقاتی پہلو کو اجاگر کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ انسانوں کو مارنا بہادری نہیں، انسانی جان کو بچانا بہادری ہے۔ پھر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ دشمن کون ہے؟ لال سنگھ چڈھا انسانوں کو مارنے کے خلاف ہے۔ پھر یہ کہ لال سنگھ چڈھا ہو یا محمد بھا جی (منا وویج)، لشکر طیبہ کا کارکن جو کارگل جنگ کرنے آیا تھا، دونوں استعمال ہو رہے ہوتے ہیں۔ لال سنگھ چڈھا کا والد ہندوستان پاکستان جنگ میں ہلاک ہوا، اس کا نانا دوسری عالمی جنگ اور پرنانا پہلی عالمی جنگ سے نہیں لوٹا۔ یہاں محمد بھا جی کا ذکر بھی ضروری ہے کیونکہ یہ کردار فلم کا پاکستانی ٹچ ہے۔

۷۔ پاکستانی ٹچ: پی ٹی آئی کے مطابق اسے اسلامی ٹچ بھی کہا جا سکتا ہے۔ محمد لشکر طیبہ کا مجاہد بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ ایسے نوجوانوں کو طارق جمیل سے کردار حوروں کی منظر کشی کر کے شہادت پر آمادہ کرتے ہیں۔ محمد بھا جی بھارتی فوج کے ساتھ کارگل لڑائی کے دوران زخمی ہو جاتا ہے۔ زخمی بھارتی سپاہیوں کے ساتھ ساتھ لال سنگھ چڈھامحمد کی زندگی بھی بچاتا ہے اور اسے ہمیشہ بھا جی (پا جی، یعنی بھائی جان)کہہ کر بلاتا ہے۔ حالات ایسے بنتے ہیں کہ محمد ہندوستان میں ہی رہنا شروع کر دیتا ہے۔ بعد ازاں محمد اور لال سنگھ چڈھا کی اتفاقی ملاقات ہوتی ہے۔ فوج سے برخاست ہونے کے بعد لال سنگھ چڈھا کاروبار شروع کر دیتا ہے تو محمد اس کا مارکیٹنگ منیجر بن کر کاروبار کو کامیاب بنا دیتا ہے۔ اسی دوران بمبئی پر لشکر طیبہ کا حملہ ہوتا ہے۔ اس حملے سے متاثر ہو کر محمد فیصلہ کرتا ہے کہ اسے پاکستان واپس جا کر ایک سکول کھولنا چاہئے جس میں وہ طالب علموں کو نفرت کی بجائے انسانیت سے محبت سکھائے اور بتائے کہ ہندوستان میں سب دشمن نہیں ہیں۔ کارگل جنگ اور محمد کے فلمی کردار کی وجہ سے یہ فلم یقینی طور پر پاکستان میں سنسر شپ کا شکار ہو جاتی ہے۔ یاد رہے پاکستان کے فلم سنسر بورڈ میں آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کی نمائندگی بھی ہوتی ہے۔ ان نمائندوں سے پہلے سول ارکان سنسر شپ بورڈ ہی اس فلم پر پابندی کی سفارش کر دیتے۔

۸۔ فوج کا جینئیس ہمیشہ یس سر بولتا ہے: تادم تحریر (15 اگست جو ہندوستان کا یوم آزادی بھی ہے) تازہ ترین خبر یہ ہے کہ عامر خان پر دلی میں مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ الزام یہ ہے کہ ’لال سنگھ چڈھا‘ میں بھارتی فوج کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ ایک غیر ہندوستانی ناظر کے طور پر مجھے یہ فلم دیکھتے ہوئے لگا تھا کہ فلم میں ہندوستان کی فوج کو گلوریفائی کیا گیا ہے۔ ہندتوا اور زعفرانی میڈیا کو اعتراض یہ ہے کہ ویت نام جنگ میں فاریسٹ گمپ کا کردار اس خفیہ پروگرام کی نمائندگی کرتا تھا جس کے تحت ڈس آرڈر کا شکار افراد کو جنگ میں بھیجا گیا جبکہ بھارتی فوج میں بہترین دماغ اور صلاحیتوں والے افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ وائے افسوس! آرٹ نازیوں، آیت اللہ خمینیوں اور ہندتوائیوں کے مکھی برابر دماغ میں فٹ نہیں ہو پاتا۔ پکاسو کی شہرہ آفاق پینٹنگ گونیکا دیکھنے کے لئے آئے ایک فاشسٹ سپاہی نے جب پکاسو سے پوچھا کہ کیا یہ پینٹنگ تم نے بنائی ہے تو فاشسٹ جنگی تباہیوں پر بنائی گئی اپنی اس نادر پینٹنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کامریڈ پکاسو نے جواب دیا:”نہیں…تم نے“۔ فاریسٹ گمپ یا لال سنگھ چڈھا اسکرین کا وہ گونیکا ہے جو بی جے پی کے بلوائیوں کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ فاریسٹ گمپ یا لال سنگھ کم عقل یا پاگل نہیں۔ اصل یہی تو سوال ہے کہ کم عقل کون ہے؟ وہ بے رحم حکمران طبقہ جو لوگوں کو جنگوں میں جھونک دیتا ہے، نفرتیں سکھاتا ہے، سرحدیں کھینچتا ہے یا فاریسٹ گمپ اور لال سنگھ چڈھا جو انسانیت کا درس دیتے ہیں اور جن کا پیغام یونیورسل ہے۔ اسی پس منظر میں فوج کے کردار پر بحث کی گئی ہے اور طنزیہ انداز میں بتایا گیا ہے کہ فوج میں جینئیس وہ نہیں ہوتا جو سکول کالج میں سر کھپانے کے بعد جینئیس بنتا ہے، یہاں تو یس سر بولنا ہی سب سے بڑی ذہانت ہے۔

۹۔ مذہبی جنونیت ملیریا ہے: فلم کی جان مذہبی جنونیت کی ’Representation‘ ہے۔ جب بھی شہر میں مذہبی دنگے ہوتے ہیں، لال سنگھ کی ممی (مونا سنگھ) اس کا گھر سے نکلنا بند کر دیتی ہے۔ لال سنگھ پوچھتا ہے کہ ممی باہر کیوں نہیں جا سکتا؟ ممی کا ہر دفعہ جواب ہوتا ہے: پت باہر ملیریا پھیل گیا اے…

۰۱۔ عامر خان کی اداکاری: فلم دیکھے بغیر کئے گئے تبصروں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ عامر خان کا کردار ’پی کے‘ والے کردار سے مماثلت رکھتا ہے۔ مضحکہ خیز۔ فلم میں عامر خان کے ایک طرح سے دو کردار ہیں۔ ایک فلیش بیک میں۔ ایک بطور نریٹر (Narrator)۔ پہلے کردار بارے آپ فلم دیکھنے کے بعد جو مرضی رائے قائم کریں۔ سب کا جمہوری حق ہے مگر دوسرے کردار میں عامر خان نے بے ساختہ اداکاری سے فلم کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ کسی ماہر اداکار کی طرح اپنی بے ساختہ اداکاری سے کبھی وہ ناظرین کو ہنسنے پر مجبور کر دیتا ہے تو کبھی رونے پر۔ ذاتی طور پر مجھے اس کے پہلے کردار میں بھی پی کے والی کوئی جھلک دکھائی نہیں دی۔ عامر خان کے علاوہ بھی سب اداکاروں نے شاندار اداکاری کی۔ تکنیکی اور عکس بندی کے اعتبار سے بھی فلم متاثر کن ہے۔ موسیقی البتہ اتنی جاندار نہیں۔

11۔ 75 ویں سالگرہ پر ’لال سنگھ چڈھا‘ کا آئینہ: شرمناک بات ہے کہ اس فلم پر تنازعہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب ہندوستان پاکستان اپنی اپنی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہے ہیں۔ پاکستان میں اس بات پر خوشی منائی جا رہی ہے کہ سلمان رشدی پر حملہ ہوا ہے جبکہ تحریک لبیک کے ڈر سے سرمد کھوسٹ کی فلم ریلیز نہیں ہو پا رہی۔ ادہر ہندو طالبان بضد ہیں کہ عامر خان غدار ہے اس لئے’لال سنگھ چڈھا‘ کا بائیکاٹ کیا جائے۔ سرحد کے آر پار پاگل پن کی یہ محض تازہ مثالیں ہیں۔ جس طرح ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ کے ذریعے منٹو نے یہ پوچھا تھا کہ پاگل کون ہے، وہ جو لاہور کے پاگل خانے میں قید ہیں یا جنہوں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان کو دے کر بشن سنگھ انڈیا کے حوالے کر دیا ہے؟ اسی طرح، لال سنگھ چڈھا بھی کچھ سوال پوچھ رہا ہے اور معصومیت سے آئینہ لئے کھڑا ہے جس میں ہندو طالبان اپنا چہرا دیکھ کر شور مچا رہے ہیں۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔