پاکستان

تحریک انصاف اور چاہت فتح علی خان: دونوں کتنے ملتے جلتے ہیں

فاروق سلہریا

14 اگست والے دن سوشل میڈیا پر دو ٹرینڈ وائرل تھے۔ ایک تو تھا پاکستان تحریک انصاف کا لاہور میں جلسہ۔ اس جلسے کی تیاری کے لئے ہم نے دیکھا کہ لاہور میں جگہ جگہ پاکستان کا قومی پرچم اتار کر پی ٹی آئی کا جھنڈا لگایا گیا۔ شائد اہل پاکستان کو یاد ہو کہ میر پور میں پاکستان کا جھنڈا اتار کر جموں کشمیر کا جھنڈا لگانے پر ایک سیاسی کارکن کئی سال سے جیل میں ہے۔ خیر۔

دوسرا مقبول ٹرینڈ تھا چاہت فتح علی خان کی تازہ ویڈیو جس میں وہ ’یہ جو جھنڈا ہے اس میں ڈندا ہے‘ گانے، کہنے، گنگنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ دونوں ٹرینڈ دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ چاہت فتح علی خان اور پاکستان تحریک انصاف دونوں کتنے ملتے جلتے ہیں۔

دونوں وائرل ہیں:

یہ دونوں مظاہر مراعات یافتہ لوگوں کی بے ہودگی کا اظہار ہیں مگر دونوں وائرل ہیں۔ پاکستان میں فن موسیقی دم توڑ رہا ہے۔ ایسے ایسے ہیرے مٹی چاٹ رہے ہیں کہ انسان خون کے آنسو پی کر رہ جاتا ہے۔ ادہر لندن میں مقیم چاہت فتح علی خان کی مقبولیت کا واحد راز یہ ہے کہ انہوں نے فن موسیقی کے ساتھ وہی کچھ کیا جو جنرل یحییٰ نے مشرقی پاکستان کے ساتھ کیا لیکن چونکہ وہ پاکستانی گلوکاروں اور موسیقاروں کی طرح مفلس نہیں، مراعات یافتہ ہیں۔ اس لئے موسیقی کے ساتھ جو مرضی کریں، فرق نہیں پڑتا…بس وائرل ہونا چاہئے۔ یہی حال پاکستان تحریک انصاف کا ہے۔ قیادت ارب پتی ہے۔ سپورٹر یا مغربی ممالک میں رہ رہے ہیں یا پاکستان کی اچھی ہاؤسنگ سوسا ئٹیوں میں۔ روٹی، روزگار، ماحولیات، ٹریڈ یونین، سیکولرزم، سوشلزم اور ملکی صنعت کی ترقی سے نہ صرف ان کو کوئی دلچسپی نہیں بلکہ یہ ان سب کے خلاف ہیں۔ اس لئے ان کو یہ بے ہودگی سیاست لگتی ہے جب عمران خان کہے کہ ’مریم نواز میرا اتنا ذکر مت کیا کرو کہیں کیپٹن صفدر برا نہ منانا شروع کر دے‘ یا جب سمیع ابراہیم کہے کہ ’نواز شریف کو ایماندار ثابت کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا بلاول کو مرد ثابت کرنا‘ تو انہیں لگتا ہے پاکستانی سیاست میں نظریاتی انقلاب آ گیا ہے۔

دونوں ثقافت دشمن ہیں:

چاہت فتح علی خان نے موسیقی ایسے نفیس ترین فن کو ’Trivialize‘ کر دیا ہے۔ گیت اور بے ہودگی کا فرق ختم کر دیا ہے۔ یہی کچھ پاکستان تحریک انصاف نے کیا ہے۔ جس طرح چاہت فتح علی نے فنی ثقافت کو ’Trivialize‘ کیا ہے عین اسی طرح پی ٹی آئی نے سیاسی ثقافت کو گالی گلوچ بنا کر خود کو سیاست کا چاہت فتح علی ثابت کیا ہے۔ ایک آرٹ دشمن ہے تو دوسرا سیاست دشمن۔ ایک نے آرٹ کے نام پر آرٹ کا تیا پانچہ کیا ہے تو دوسرے نے سیاست کے نام پر سیاست کا۔

دونوں مڈل کلاس اور ڈائسپورا کا اظہار ہیں:

دونوں کا پاکستان کی لوکائی، محنت کش انسان، انسان دوست تبدیلی اور بہتری اور جمالیات سے کوئی تعلق نہیں۔ دونوں کے ذریعے مڈل کلاس کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر بے ہودگی کے ساتھ ٹھٹھہ لگاتی ہے اور پھر نماز پڑھنے مسجد چلی جاتی ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔