خبریں/تبصرے

رنجیت سنگھ کا مجسمہ توڑا جا سکتا ہے تاریخ سے حذف نہیں کیا جا سکتا

ڈاکٹر مظہر عباس

عقیدے کے غلبہ اور اور بے دریغ استعمال کی وجہ سے پاکستان میں روز اؤل سے ریاست کی تعمیر اور قومی تعمیر دونوں میں نظریہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ متضاد نظریاتی رجحانات نے ہماری تاریخ اور علمی تحریروں کے صفحات سے بہت سے باصلاحیت اور قابل افراد کو خارج کر دیا ہے۔

مزید یہ کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے خلاف عدم برداشت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پچھلے سال 17 اگست 2021ء کو ایک ناخوشگوار واقعے میں تحریکِ لبیک پاکستان (ایک کالعدم تنظیم) کے کارکن رضوان رانجھا نے شاہی قلعہ لاہور میں نصب مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کی۔ حملہ آور نے یہ الزام لگا کر اپنے اقدام کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مہاراجہ کی حکمرانی مسلم مخالف تھی۔

رضوان کے حملے سے پہلے بھی جون 2019ء میں پنجاب کے سابق حکمران کی 180 ویں برسی کے موقع پر اس کی نقاب کشائی کے بعد سے اس مجسمے کو پہلے ہی دو بار توڑا پھوڑا گیا تھا۔ پہلا حملہ اس کے افتتاح کے ایک ماہ کے اندر ہوا جب تحریکِ لبیک پاکستان کے دو ارکان نے لکڑی کی سلاخوں کا استعمال کرتے ہوئے مہاراجہ کے مجسمے کا ایک بازو توڑ دیا اور دوسرے کو نقصان پہنچایا۔ مجسمہ کو توڑتے وقت انھوں نے مہاراجہ کے خلاف نعرے لگائے۔ دسمبر 2020 ء میں اس پر دوسری بار حملہ کیا گیا جب ایک شخص نے اس کا بازو توڑ دیا۔ بتایا گیا ہے کہ مجرم نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مہاراجہ کا مجسمہ لاہور کے قلعے میں نہیں لگانا چاہیے تھا کیوں کہ اس نے اپنے دورِ حکومت میں مسلمانوں پر مظالم کئے تھے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 38 سالہ حکمرانی (1801 1839-ء) سے پہلے، اپنی تاریخ کے بیشتر حصے میں غزنویوں سے لے کر دہلی کے سلطانوں اور مغلوں تک، پنجاب غیر ملکیوں کے زیرِ تسلط رہا 1707ء میں شہنشاہ اورنگزیب کی موت کے بعد بندہ سنگھ بہادر نے 1709ء اور 1710ء میں پنجاب کے مشرقی حصوں پر قبضہ کر لیا۔ تاہم، اسے 1716ء میں شکست ہوئی اور پھانسی دے دی گئی۔ 1716ء سے لے کر 1759ء تک سکھوں، مغلوں اور افغانوں کے درمیان ایک طویل جدوجہد جاری رہی۔ آخر کار افغانوں کی پسپائی نے سکھوں کو لاہور پر قبضہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے بعد جسا سنگھ نے خود کو سکھوں کی خودمختاری کا سربراہ مقرر کر دیا۔ دونوں افغان بادشاہوں، احمد شاہ ابدالی اور شاہ زمان، کو سکھوں کو بے دخل کرنے کے لیے کئی حملے کرنا پڑے۔ 1773ء میں ابدالی کی موت کے بعد پنجاب میں افغان طاقت میں کمی آئی۔ جس نے سکھوں کے عروج کا راستہ فراہم کیا۔

پنجاب میں حقیقی سکھ راج کا آغاز اس وقت ہوا جب رنجیت سنگھ نے 1799ء میں لاہور پر قبضہ کیا اور زمان شاہ نے انہیں شہر کا گورنر مقرر کر دیا۔ افغان بادشاہ کی بالادستی کو مسترد کرتے ہوئے گورنر نے 1801ء میں خود کو پنجاب کا مہاراجہ قرار دیا اور 1839ء میں اپنی موت تک تختِ لاہور پر براجمان رہے۔ اس طرح وہ پنجاب کے پہلے مقامی حکمران بن گئے۔ انھوں نے اپنی سلطنت کو مغرب میں دریائے سندھ تک، مشرق میں دریائے ستلج تک، شمال میں کشمیر تک، اور جنوب میں تھر تک پھیلا دیا۔ اس طرح انھیں پہلی بار پنجاب کو متحد کرنے کا سہرا جاتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے روایتی فاتحوں کے وطن افغانستان میں حملے کی لہر کا رخ موڑ کر پنجاب کے شیر کا خطاب حاصل کیا۔

ان کی سلطنت اور حکمرانی کی توسیع ان کی کثیر المذہبی پنجابی فوج سے منسوب ہے جو سکھوں، مسلمانوں، اور ہندوؤں پر مشتمل تھی۔ ان کی فوج کے بہت سے کمانڈر جیسے شیخ الٰہی بخش، غوث خان، امام شاہ، مظہر علی، سلطان محمود خان، محمد خان ظفر، نذیر الدین الٰہی، اور فقیر عزیز الدین مسلمان تھے۔ اسی طرح ان کے وزرا کا تعلق مختلف مذہبی برادریوں سے تھا۔ مثال کے طور پر، فقیر عزیز الدین (مسلمان) نے ان کے وزیر خارجہ کے طور پر کام کیا۔

ان کی فوج، کمانڈروں اور کابینہ کے وزرا کی متنوع ساخت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایک سیکولر حکمران تھے۔ اپنے سیکولر رجحان کی بدولت انھوں نے ہندوؤں کے لیے مندر، مسلمانوں کے لیے مساجد اور سکھوں کے لیے گردوارے بنائے۔ مثال کے طور پر، انھوں نے لاہور میں اپنی محبوب مسلمان بیوی موراں سرکار کے لیے مائی موراں مسجد بنوائی۔ انھوں نے مسلمانوں یا ہندوؤں کی عبادت گاہوں کو کبھی مسمارنہیں کیا۔ تاہم انھوں نے مساجد کو دوسرے مقاصد کے لیے ضرور استعمال کیا۔ مثال کے طور پر انھوں نے لاہور کی بادشاہی مسجد کو گھوڑوں کے اصطبل میں اور سنہری مسجد کو سکھ گردوارے میں تبدیل کر دیا تھا۔ تاہم انہوں نے صوفی فقیر کے نام سے مشہور ستار شاہ بخاری کی درخواست پر مؤخر الذکر کو دوبارہ ایک مسجد میں بحال کر دیا تھا۔

لہٰذا کسی کے پاس کوئی جواز نہیں بنتا کہ وہ لاہور کے قلعے میں آویزاں ان کے مجسمے پر حملہ کرے اور اس کی توڑ پھوڑ کرے۔ ان کے مجسمے پہ ہونے والے حملے کے جواب میں ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ایک طرف کچھ لوگوں نے حملہ آوروں کی حمایت کی اور جعلی تاریخ اور مخالف عقیدے کی بنیاد پر اپنے اعمال کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ جب کہ دوسری جانب بعض پاکستانی حکام جیسے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، فواد حسین چوہدری، اور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور، شہباز گل، سمیت متعدد افراد نے واقعے کی مذمت کی ہے۔

اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے فواد حسین چوہدری نے ٹویٹ کیا تھا، "#شرم کی بات ہے کہ ناخواندہوں کا یہ گروپ دنیا میں پاکستان کے امیج کے لیے خطرناک ہے۔” ڈاکٹر گل نے حملہ آور کی فوری گرفتاری کا مطالبہ بھی کیاتھا۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب کے پہلے مقامی حکمران تھے۔ ان کی حکمرانی ہماری تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ ہم آنکھیں بند کر کے اس باب کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں لیکن ہم اسے حذف نہیں کر سکتے۔ اگرچہ یہ ایک مشکل طلب ہے لیکن ہمیں حقیقت کو قبول کرنا ہوگا: مہاراجہ رنجیت سنگھ، جنہوں نے انگریزوں اور افغانوں سمیت بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، کو ان کے عقیدے کی وجہ سے مسترد کرنے کے بجائے ہمیں انہیں اپنے مقامی حکمران کے طور پر دیکھنا چاہئے۔