پاکستان

سیٹھی نہ راجا: چیئرمین پی سی بی کا جمہوری انتخاب ہونا چاہئے

فاروق سلہریا

گذشتہ دنوں نجم سیٹھی ایک مرتبہ پھر پاکستانی کرکٹ کے زار بنا دئیے گئے۔ ادہر، ایک شاندار تنخواہ اور سٹیٹس والی نوکری سے محروم ہونے والے رمیز راجا اب تک سراپا احتجاج ہیں۔

نجم سیٹھی کے چیئرمین بنائے جانے پر بعض صحافی دوستوں نے یہ بحث بھی کی کہ کیا ایک ’صحافی‘ کو سرکاری عہدے قبول کرنے چاہئے؟

معروف صحافی عمر چیمہ کا خیال تھا کہ اگر تو صحافی کچھ ڈیلیور کر سکتے ہیں تو ایسا کرنے میں حرج نہیں۔ عمر چیمہ جو عموماً بہت مدلل گفتگو کرتے ہیں، نے اس بات کو البتہ زیر بحث نہیں لایا کہ صحافیوں کو عہدے دئیے ہی بطور رشوت جاتے ہیں۔ اگر تو کوئی صحافی رضاکارانہ طور پر کوئی ’قومی خدمت‘ سر انجام دینا چاہتا ہے تو ٹھیک ہے، لیکن جب تنخواہ اور سٹیٹس کی شکل میں ہذا من فضل ربیٰ بھی شامل ہو تو پھر معاملہ رشوت اور بدعنوانی کا بن جاتا ہے۔ ممکن ہے نجم سیٹھی تنخواہ نہ لے رہے ہوں، مگر اس عہدے کے ساتھ اتنا سٹیٹس شامل ہے کہ وہی کافی ہے رشوت کے طور پر۔

کرکٹ یا ایسے کسی شعبے میں، جہاں متعلقہ شعبے کی گہری واقفیت بھی ضروری ہو تو معاملہ بالکل رشوت والا بن جاتا ہے۔

اگر کسی ریٹائر جرنیل کا یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننا یا واپڈا کا چیئرمین بننا غلط ہے تو نجم سیٹھی کے حوالے کرکٹ بورڈ کا کیا جانا بھی اتنا ہی غلط ہے…کیونکہ نجم سیٹھی کا کرکٹ سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا قوم یوتھ اور عمران خان کا شائستگی کے ساتھ۔ جس شخص نے کبھی تھرڈ کلاس کرکٹ بھی نہ کھیلی ہو اس کو یہ عہدہ سونپا جانا قابل مذمت ہے۔

ہمارا موقف ہے: کرکٹ جو پاکستان میں افیون بن چکا ہے، اس کے مرکزی بورڈ کا چیئرمین جمہوری انداز سے منتخب کیا جائے۔ اس انتخاب میں ضلعی کرکٹ کمیٹیاں، جو متعلقہ کرکٹ کلبوں کے ووٹ کی بنیاد پر خود بھی منتخب ہوں، وہ مل کر صوبائی بورڈ منتخب کریں، یہ صوبائی بورڈ مرکزی بورڈ کا چیئرمین منتخب کریں۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ضلعی کمیٹیاں براۂ راست چیئرمین پی سی بی کو منتخب کریں۔ جس طرح وکیل یا صحافی اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں، اسی طرح کرکٹ کلب بھی چیئرمین پی سی بی سمیت تمام عہدیداروں کا انتخاب کریں۔

اس کے علاوہ، یہ عہدہ باری باری چاروں صوبوں کو دیا جائے۔

اس کے علاوہ، کرکٹ ٹیم میں نہ صرف چاروں صوبوں بلکہ تمام لسانی و جغرافیائی قوموں اور خطوں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ کرکٹ لاہور کراچی کے چند کلبوں کی اجارہ داری نہیں ہونا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ اب کسی حد تک ’مضافات‘ سے بھی لوگ کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے ہیں لیکن بلوچ، سندھی یا سرائیکی کھلاڑی ہنوز ایک استثنا ہیں۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔