خبریں/تبصرے

ایوو مورالس نے میکسیکو میں سیاسی پناہ لے لی!

فاروق سلہریا

فوج اور غالباً امریکہ کی ملی بھگت سے ہونے والی رائٹ ونگ بغاوت کے بعد بولیویا کے سوشلسٹ صدر ایوو مورالس منگل کے روز ایک میکسیکن طیارے پر ڈرامائی انداز میں میکسیکو پہنچ گئے۔

ان کے خلاف بغاوت کے فوری بعد میکسیکو کے صدر نے انہیں سیاسی پناہ کی پیش کش کی تھی۔ اس سے قبل لگ بھگ دو دن تک ایوو مورالس اپنے ہی ملک میں ٹریڈ یونین تحریک کی مددسے زیر زمین رہے۔ اس بات کا شدید خدشہ تھا کہ یا تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا یا ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔

ان کے با حفاظت میکسیکو پہنچ جانے سے  بولیویا میں دائیں بازو کی اس بغاوت کے خلاف جدوجہد کے لئے قیادت میسر رہے گی اور ایوو مورالس ایک علامت کے طور پر موجود رہیں گے۔

اس سے قبل، اتوار کے روز بولیویا کی فوج اور پولیس نے بولیویا کے سوشلسٹ صدر ایوو مورالس کے علاوہ ان کے نائب صدر اور دیگر ایسے منتخب عہدیداروں سے استعفے لے لئے ہیں جو آئین کے مطابق ان کی جگہ صدر بن سکتے تھے۔

استعفیٰ دینے سے قبل صدر مورالس نے نئے انتخابات کا اعلان کیا تھا تا کہ دائیں بازو والی حزب ِمخالف کی جانب سے جاری پر تشدد ہنگاموں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

20 اکتوبر کے انتخابات میں صدر مورالس نے واضح برتری حاصل کر لی تھی۔ ان کے انتخاب کے خلاف حزبِ اختلاف نے دھاندلی کے الزامات لگا کر پر تشدد مظاہرے اور کاروائیاں شروع کر دیں۔ مورالس کے حامیوں پر اور ان کے گھروں پر بھی حملے کئے گئے۔

انتخابات سے قبل ہی یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ حزبِ اختلاف انتخابات ہارنے کی صورت میں وہی کچھ کرے گی جو اس سے قبل وینزویلا میں ہو چکا ہے (یا 1977ء میں پاکستان میں ہو چکا ہے) مگر وینزویلا میں فوج نے حکومت کا ساتھ دیا ہے کیونکہ فوج صدر مادورو کے ساتھ ہے۔ وینزویلا کی طرح بولیویا میں بھی حزبِ اختلاف کو پوری امریکی حمایت حاصل ہے۔

ادھر، دنیا بھر کے ترقی پسند رہنماؤں نے صدر مورالس سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔ ارجنٹینا کے نومنتخب صدر، ایکواڈور، میکسیکو، کیوبا اور وینزویلا نے اس بغاوت کی شدید مذمت کی ہے۔ جیرمی کوربن اور نوم چامسکی نے بھی اس بغاوت کی مخالفت کی ہے۔

ایوو مورالس تحریک برائے سوشلزم (ایم اے ایس) کے رہنماہیں اور بیس اکتوبر کے انتخابات میں چوتھی مرتبہ بولیویا کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔