نقطہ نظر

نیو لبرلزم نے دنیا میں دائیں بازو کے آمرانہ رجحانات کو فروغ دیا ہے: عائشہ جلال

قیصرعباس

یہ لگ بھگ 1985ء کی بات ہے۔ برصغیر کے بٹوارے، ہندومسلم سیاست اور برطانوی پالیسیوں پر ایک نئی کتاب نے روائتی تھیوری کو کچھ اس طرح چیلنج کیا کہ اس کی بازگشت مشرقی اور مغربی درسگاہوں اور سیاسی حلقوں میں برصغیر کی تاریخ اور سیاست کے حوالے سے صاف سنائی دینے لگی تھی۔ کتاب کے اس بنیادی تصورنے کہ قیامِ پاکستان کسی سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ نہیں بلکہ اس وقت کی انتظامی و سماجی حقیقتوں اورسیاسی مصلحتوں کا منطقی نتیجہ تھا، برطانیہ، پاکستان اور ہندوستان میں ایک بار پھر برصغیر کے بٹوار ے کوعلمی بحث کا حصہ بنا دیاتھا۔ اس تصنیف کا عنوان تھا ”دی سول اسپوکسمین:جناح، مسلم لیگ اینڈ دی ڈیمانڈ فور پاکستان“ اور مصنفہ تھیں عائشہ جلال۔

میں اس وقت یونیورسٹی آف وسکانسن میڈیسن میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کررہا تھا۔ اتفاق سے اسی دوران یہی پاکستانی نثراد دانشوریونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کی پروفیسر بن کر آئیں تو کئی بار ان کو سننے کا موقع بھی ملا۔ وہ اس وقت کیمرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کرکے امریکہ آئی تھیں۔ دلچسب بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کی شہرت تو ایک ترقی پسند تعلیمی ادارے کی تھی اورویتنام کی جنگ کے خلاف یہاں کے طلبہ قومی تحریک کا ایک اہم حصہ رہے تھے لیکن وہ جس شعبے میں پڑھاتی تھیں اس کی شہرت سیاسیات کے رجعت پسندانہ نظریات کے حوالے سے تھی۔ میرے اپنے شعبے ”ذرائع ابلاغ“ کابھی یہی حال تھا۔

گزشتہ 34 سالوں کے دوران عائشہ جلال کی تقریباً چھ سات اور کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور برصغیر کی تاریخ اور سیاسیات میں وہ اب ایک مستند مورخ اور محقق کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کی ایک تصنیف سیاست اور ادب پر تھی جس میں انہوں نے اردو کے مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے افسانوں میں برصغیرکی تقسیم کے موضوع کا احاطہ کیا ہے، جو ان کے عزیز بھی تھے۔ وہ آج کل امریکہ کی ٹفٹس یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں میری رچرڈسن پروفیسر آف ہسٹری اور سینٹر فور ساؤتھ ایشین اینڈ انڈین اوشین سٹڈیز کی ڈائیریکٹر بھی ہیں۔ اسی پس منظر کے حوالے سے جب میں نے ان سے پوچھاکہ محمد علی جناح سے سعادت حسن منٹو تک جنوبی ایشیا کی تاریخ کے رنگارنگ اورنئے گوشوں پر تحقیق کے بعد آجکل کس نئے تحقیقی پراجیکٹ پر کام کررہی ہیں تو ان کا کہنا تھا:

”میں انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے اوائل میں ان مسلم افکارپر تحقیق کررہی ہوں جن کاتعلق انفرادی عقیدے اوراجتماعی رویوں سے تھا۔ ا س دور کے مسلمانوں کے ان روشن خیال لیکن متضادنظریوں کے ذریعے برطانوی حکمرانوں سے ان کے تعلقات کی نوعیت کی نشاندہی ہوتی ہے۔“

روزنامہ جدوجہد سے اس خصوصی انٹرویومیں عائشہ جلال نے برصغیر کی تاریخ، سماجی رویوں اور سیاست کے گوناگوں مسائل پر لگی لپٹی رکھے بغیراپنے مخصوص بے باکانہ انداز میں ا ظہار خیال کیاہے۔

برصغیر میں ہندو اور مسلمان سمیت تمام نسلی، لسانی اور مذہبی اکائیاں صدیوں سے پرامن طورپر رہتی آئی ہیں۔ لیکن آزادی کے بعد دونوں ممالک میں مذہبی بنیادوں پر تفریق ایک پرتشدد رخ اختیار کرچکی ہے۔ ایک تاریخ دان کی حیثیت سے آپ اس صورت حال کا کیسے تجزیہ کرتی ہیں؟

نیولبرلزم کا یہ منتر کہ اخلاقی جواز اورسماجی انصا ف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے معاشرے کو صرف فرد کے مالی منافع کی نظر سے ہی دیکھا جاسکتاہے، نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا کے کئی اور حصوں میں دائیں بازو کے آمرانہ نظریات کے فروغ کا ذمہ دار ہے۔ اس سوچ نے ان مفروضوں کو بھی جلا بخشی ہے کہ چونکہ ا قلیتوں سے ملک کو سخت خطرات لاحق ہیں، اکژیت کو یکجا ہوکر اپنے مفادات کی حفاظت کرنی ہوگی۔ بھارت میں ان ہی رجحانات کی بنیاد پر اور گانگریس کے پس منظرسے جانے کے بعد سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے مسلمان مخالف بیانیوں کو ہندو حلقوں میں خاصی پذیرائی ملی۔ یہی پس منظر ہے جس سے بھارت کے موجودہ سیاسی تانوں بانوں کا خمیر اٹھا یا گیاہے۔

کیا آپ کے خیال میں مذہبی و نسلی ہم آہنگی اور سماجی امن کا کوئی عملی ماڈل یا تصور موجودہے؟

اس کا دارومداراس بات پرہے کہ صاحب اختیار اور طاقتور حلقوں کے سیاسی مقاصدکیا ہیں۔ جہاں تک روحانی اور مذہبی تعلیمات کا تعلق ہے، مجھے تو مذہبی ہم آہنگی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ دراصل یہ مذہبی مسئلہ ہے ہی نہیں، یہ سب ان سیاسی ریشہ دوانیوں کا کمال ہے جنہیں مذہبی تفریق کی بنیاد پر گھڑاگیا ہے۔ مذہبی ہم آہنگی جب ہی ممکن ہے جب اختلافات کو مکالمے میں تبدیل کرنے کی خواہش موجود ہو اور معاشرے میں افہام و تفہیم کے ذریعے سماجی امن قائم کرنے کی عملی کوششیں کی جائیں۔

رومیلا تھاپر سمیت، کچھ تاریخ دان سمجھتے ہیں کہ انڈیا میں بابری مسجد کا عدالتی فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جس کی بنیاد تاریخی حقیقتوں پر نہیں ہے۔ کیا یہ خیال درست ہے کہ اس فیصلے سے نئے زخم کھلنے کے امکانات ہیں؟کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ایودھیا کا فیصلہ اور کشمیر میں انڈیا کے حالیہ اقدامات ملک میں سیکولرزم کے خاتمے کی طرف ایک بڑا اقدام ہیں؟

یہ درست ہے کہ ایودھیاکے عدالتی فیصلے نے انڈیا میں سیکولرزم پر نئے سوال کھڑے کردیے ہیں اور اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں بھارت کی سیاست پراس فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان لوگوں کی جدوجہد کہاں تک کامیاب ہوسکے گی جو انڈیا میں سیکولرزم کو ایک فعال نظریے کے طورپر دیکھنا چاہتے ہیں۔

ایک طرف انڈیاکشمیر کے مسئلے کو دہشت گردی اور بیرونی مداخلت سمجھتا ہے اور دوسری طرف پاکستان اسے انسانی حقوق کے حوالے سے دیکھتا ہے جہاں کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے اور سکیورٹی فوج کی ایک بڑی تعداد کے ذر یعے کشمیریوں کے بنیادی حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔ آپ اس صورت حال کا کس طرح تجزیہ کرتی ہیں؟

اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ آپ رائے عامہ کاتجزیہ کررہے ہیں یا اسے سرکاری پالیسی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ سرکاری پالیسی کی حیثیت سے دیکھا جائے تو دہلی کے لئے یہ ایک سکیورٹی کا مسئلہ ہی ہے جس کا اظہار حکومت اپنے بیانیے میں کرتی رہتی ہے۔ بھارت اپنی پروپیگنڈہ مشین کے ذریعے دنیاکو یہ باور کرانے کی کوشش میں ہے کہ کشمیر میں خود ارادیت کے مطالبے سے دراصل پاکستان کے اپنے مفادات وابستہ ہیں۔ اس طرح بھارت جموں کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ادھرعالمی سطح پر جموں کشمیر میں انسانی حقوق کے مسئلے کو اجاگر کرکے پاکستان اس تاثر کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے کہ وہ بھی اس مسئلے کاایک اہم فریق ہے۔

پاکستان کی جانب سے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پراجاگر کرنے کی حالیہ کوششیں اتنی کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔ عالمی اداروں اور طاقتور ملکوں کا یہی کہنا ہے کہ مسئلے کو باہمی مذاکرات سے حل کیاجائے۔ کیا آپ کے خیال میں کشمیر کے مسئلے کا یہی مناسب طریقہ کار ہے؟

انڈیا کی طرف سے دو طرفہ بات چیت کے طریقہ کار پر اصرار کا مقصد یہ ہے کہ اس مسئلے کو بین لاقوامی مسئلہ نہ بنایا جائے اور اس میں کشمیر ی شہریوں کو بھی ایک فریق کی حیثیت سے شامل نہ کیا جائے۔ ایسا لگتاہے کہ چین یا امر یکہ سمیت کسی تیسرے فریق کے بغیر پاکستان اور بھارت کے لئے کشمیر کے مسئلے کے کسی بھی حل کی جانب بڑھنا بہت مشکل ہوگا۔

آزادی اظہار پر پابندیاں اب انڈیا اور پاکستان میں روزانہ کا معمول بن چکی ہیں۔ پاکستان کے تناظر میں جہاں آمرانہ نظام خاصامضبوط ہوچکاہے، ہم اس کی وجوہات سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن بھارت میں جہاں جمہوری روایات اب خاصی مستحکم ہیں، اس صورت حال کی کیا توجیہات ہو سکتی ہیں؟

انڈیا میں آزادی اظہار پر پابندیوں کی وجہ دراصل کارپوریٹ میڈیا کا دائیں بازو کی ہندو حکومت کے ساتھ اس الحاق سے ہے جس کے ذریعے سرکاری بیانیے کو آگے بڑھایا جاتا ہے اور سیاسی فضاکی رپورٹنگ کو کنٹرول میں رکھا جاتاہے۔ اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ بی جے پی کی حکومت، جس کا مقصد ہندوستان کو ایک مرکزی ہندو ریاست بنانا ہے، ہر مخالف نقطہ نظر کو وطن دشمن قراردے کر کنارے لگادیتی ہے۔ کشمیر میں بھی اسی حکمت عملی پر انتہائی جابرانہ طریقے سے عمل کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں آج لشکرشاہی پوری طاقت کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور بین الاقوامی امور کی باگ ڈورسنبھال چکی ہے۔ اس تناظر میں ملک میں جمہوری نظام کا کیا مستقبل ہے؟

دنیا کے کئی ملکوں میں جمہوریت پسند قوتیں آمرانہ طرزحکومت سے آ ج پورے زور وشور سے برسر پیکارہیں۔ پاکستان میں بھی یہ جنگ جاری ہے، اگرچہ یہ کشمکش پہلے کی نسبت کم اور مختلف سطح پرہے۔ مستقبل میں اس کی صورت تبدیل بھی ہوسکتی ہے جس کا دارومدار آمرانہ رویوں کی مزاحمت اوران حلقوں پر ہے جو ڈکٹیٹرشپ کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔