سماجی مسائل

پانچ مرلے سے بڑے گھروں کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے

فاروق سلہریا

لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں ہوں یا سکھیکی (ضلع سرگودھا)اور ظفر وال(ضلع ناروال) جیسے دور افتادہ قصبے ہوں، شہری آبادیاں اپنے آس پاس کے دیہات کو ہڑپ کرتی جا رہی ہیں۔ شاعر نے کہا تھا:

حسن ِ وجدان کی تذلیل ہوا کرتے ہیں
گاؤں جب شہر میں تبدیل ہوا کرتے ہیں

مگر بات محض جمالیات تک محدود نہیں۔ آبادی کا دباؤ ہے۔ منصوبہ بندی کا مکمل فقدان ہے۔ شہر بے ڈھنگے انداز میں پھیل رہے ہیں۔ ادھر، تیسری دنیا کے اکثر دیگر ممالک کی طرح یہاں کے سرمایہ دار طبقے نے صنعت تو لگانی نہیں، اس لئے لوٹ مار اور سرمائے میں اضافے کا سب سے بڑا ذریعہ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار ہے۔ ملک ریاض اور اس کی بحریہ اس طبقے کی ایک نمائندہ علامت ہیں۔ اپنے شہر کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے کاروباری معاملات اٹھا کر دیکھ لیجئے، اکثر رئیل اسٹیٹ میں ملوث ہوں گے۔

کسی شہر میں لنک روڈ بننی ہو یا رِنگ روڈ، رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کرنے والے سیاستدان ایسے منصوبوں میں بہت متحرک نظر آئیں گے۔

اوپر بیان کی گئی باتیں ملک کی اصل حکمران اشرافیہ بارے بھی کہی جا سکتی ہیں۔

مندرجہ بالا ساری تمہید کا مقصد کچھ معاشی، ماحولیاتی اور سماجی پہلوؤں کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔

غائب ہوتے ہوئے دیہاتوں کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ سبز لہلہاتے کھیت اس لئے غائب ہو رہے ہیں تا کہ ہماری مڈل کلاس اور اشرافیہ ایک کنال کے بنگلے میں رہ سکے۔ ادھر، کسان جن کی زمین وقتی طور پر مہنگی ہو جاتی ہے، چند لاکھ تو کما لیتے ہیں مگر دیرپا روزگار سے محروم ہو کر یا تو کسی شہر کی کچی بستی میں جا بستے ہیں یا گیٹڈ کالونیوں میں بننے والی کوٹھیوں میں بیوی بچوں سمیت مالی اور باورچی بن جاتے ہیں۔

ایک نتیجہ یہ بھی نکل رہاہے کہ جب امیر لوگ کنال دو کنال کا گھر بناتے ہیں تو تین چار خاندان گھر بنانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ادھر، غذائی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔ امیر لوگ تو درآمد شرہ گندم خرید لیں گے، جن کسانوں کی زمینوں پر کوٹھیاں بن گئی ہیں، وہ کدھر جائیں گے؟

شہریوں کو چھت اورگھر کی فراہمی ریاست کا بنیادی فریضہ ہے مگر ریاست ہی ملک ریاض کے گھر کی لونڈی بن چکی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ شہری رئیل اسٹیٹ مافیا کو چیلنج کرے۔ یہ مطالبہ اٹھایا جائے کہ ہر خاندان کو آسان شرائط پر گھر کی فراہمی ایک بنیادی حق تسلیم کیا جائے۔ ہاؤسنگ اور ٹاؤن پلاننگ کی جائے۔ اس حوالے سے ایک بنیادی اور ہنگامی اقدام یہ ہو گا کہ پانچ مرلے سے بڑے گھر کی تعمیر پر پابندی لگائی جائے۔ زرعی زمینوں کو رئیل اسٹیٹ مافیا سے بچایا جائے۔ ماضی میں دس مرلے سے بڑے بنائے گئے گھروں پر لگژری ٹیکس لگایا جائے جسے متوسط طبقے اور محنت کش طبقے کے سر پر چھت فراہم کرنے کے لئے استعمال میں لایا جائے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔