خبریں/تبصرے

ٹوئٹر میں سعودی گھس بیٹھ

عدنان فاروق

سان فرانسسکو کی ڈسٹرکٹ عدالت میں ایک مقدمہ سنا جا رہا ہے جس میں سعودی عرب پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے ٹوئٹر کے دو ملازم خریدے تا کہ حکومتی ناقدین کے بارے میں معلومات حاصل کر سکے۔

تفصیلات کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان سے قریبی تعلق رکھنے والے احمد المطیری نے ٹوئٹر کے دو ملازمین، علی الزبارا اور احمد ابو عمو، کو ریکروٹ کیا تا کہ سعودی حکومت پر ٹوئٹر پہ تنقید کرنے والے صارفین کے انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس کے علاوہ ایسے ٹوئٹر اکاونٹس سے جڑی ای میل اکاونٹس کی تفصیلات بھی حاصل کی جا سکیں۔

یاد رہے سعودی عرب کی تیس ملین آبادی کا ایک تہائی حصہ ٹوئٹر کا استعمال کرتا ہے۔ لوگ اپنی شناخت چھپانے کے لئے مختلف ناموں سے اکاونٹ بنا لیتے ہیں اور حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو دو سال قبل محمد بن سلمان کے اس وقت کے مشیر سعود القہطانی نے دھمکی تھی کہ کوئی اپنی آن لائن شناخت حکومت سے چھپا نہیں سکتا، حکومت ایسے منحرفین کی بلیک لسٹ تیار کر رہی ہے۔ گویا لوگوں کو ڈرایا گیا تھا کہ وہ تنقید سے باز رہیں اور اگر حکومت کی جیب میں پیٹرو ڈالر ہوں تو وہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

اس تازہ سکینڈل نے واٹس ایپ، ٹوئٹر اور فیس بک جیسے پلیٹ فارموں پر جمہوری حلقوں کی تنقید کو مزید تقویت دی ہے۔

ابھی پاکستان کے حوالے سے یہ خبر آئی تھی کہ حکومت کینیڈا سے ایک ایسا سافٹ وئیر بنوا رہی ہے جس کی مدد سے واٹس ایپ کو مانیٹر کیا جا سکے گا۔

ماضی میں فیس بک کئی اسکینڈلز میں بد نام ہو چکی ہے۔ فیس بک نے نہ صرف ٹرمپ کو الیکشن جیتنے میں مدد دی بلکہ فیس بک سے چین وہیگر مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے مہم چلاتا رہا ہے۔

دوسرے الفاظ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی قانون کی طرح طاقتور کی لونڈی ہیں۔

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔