وزیر اعظم صاحب! ہم آپ سے متفق ہیں کہ فرنچ لوگ بہت برے، توہین مذاہب کا ارتکاب کرنے والے اور سیکولرازم کے مارے ہوئے ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ کتنے ہی مسلمان، بالخصوص پاکستان کے شہری، فرانسیسی ویزہ لینے قطاروں میں لگے ہوئے ہیں جبکہ لاکھوں مسلمان فرانس میں رہ رہے ہیں۔ کوئی فرانس یا یورپی یونین چھوڑنے پر تیار نہیں۔
دنیا
اتحادی فوجوں کا انخلا اور افغانستان میں نئی صف بندیاں: ایک مکالمہ
گزشتہ 40 عشروں سے افغانستان دنیاکی دو بڑی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ اور پھر خونی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ اس کا آغاز 1979ء میں اس وقت ہوا جب سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں۔ ایک عرصے تک خون خرابے کے بعد، جس میں افغانیوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی، ملک اقتصادی اور سماجی طور پر تباہی کے کنارے پہنچ گیا اور پھر سوویت یونین کوملک سے نکلنا پڑا۔
آکسیجن اور ویکسین کو ترستی ایٹمی طاقتیں بمقابلہ سوشلسٹ کیوبا
اپنے ایک اور انٹرویو میں فیدل کاسترو نے ایٹم بم بنانے کی بابت کہا تھا کہ سرد جنگ کے دوران کیوبا کے لئے ایٹم بم بنانا کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ سوویت روس کی مدد سے یہ کام با آسانی کیا جا سکتا تھا مگر بقول کاسترو ہم یہ بم ماریں گے کسے؟ امریکی مزدوروں کو جو ہمارے بھائی ہیں؟
دشمنی سے دوستی کا سفر
کچھ مدت سے انٹیلی جنس لیڈرشپ کی اعلیٰ سطح پر پس پردہ رابطے قائم ہوئے۔
انڈیا میں کرونا وائرس سے ریکارڈ ہلاکتیں: ویکسین دوسرے ملکوں کو برآمد کی جا رہی ہے!
دہلی سمیت ملک کی بیشتر ریاستوں میں آکسیجن گیس کی فراہمی لوگوں کے علاج کے لئے ناکافی ہے اور ہسپتالوں نے جگہ نہ ہونے کی بنا پر لوگوں کو داخل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ملک کی دو دواساز کمپنیوں نے ہسپتالوں اور لوگوں کے لئے کرونا وائرس کی ویکسین کی بھاری قیمتیں مقرر کر دی ہیں اور اب ویکسین کی عام قیمت چھ سو روپے فی انجکشن یا اس سے زیادہ ہو گئی ہے۔
احمقوں والی سامراج مخالفت سے کیسے بچیں؟
ترقی پسند سامراج مخالفین کو تمام سامراجی ریاستوں کی مخالفت کرنی چاہیے، نہ کہ کچھ کی حمایت اور کچھ کی مخالفت۔
بھارت سے مذاکرات کے لئے آرٹیکل 370 کی بحالی اب پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا
پاکستانی ذرائع نے پاک بھارت مذاکرات کی تصدیق کی ہے لیکن انہیں ’سٹرکچرڈ بیک چینل‘ مذاکرات کی بجائے ’ان سٹرکچرڈ رابطوں‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا جنگی ماحول میں بھی جاری رہتا ہے۔
مشرق وسطیٰ: امریکی خارجہ پالیسی میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا نیا منترہ؟
امریکہ کی نئی خارجہ پالیسی کی ان ترجیحات کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ عالمی سیاست سرد جنگ کے ایک نئے دور کی طرف بڑھ رہی ہے۔
افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد خطے میں امن کے امکانات کیا ہوں گے؟
افغانستان کے بدقسمت عوام جو کئی عشروں سے بین الاقوامی طاقتوں کی رسی کشی کا نشانہ بن رہے ہیں اور کب تک قربانیاں دیتے رہیں گے؟ اس سوال کاجواب خود ان کے پاس بھی نہیں ہے!
امریکہ میں اسلحہ رکھنے کا آئینی حق اور تشدد: سیاسی بیانئے صحیح ہیں یا زمینی حقائق؟
امریکہ میں جدید اسلحے کے استعمال کے ذریعے تشدد کے واقعات ایک تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ یہی وہ دور بھی ہے جہاں اقتصادی بدحالی، غربت اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ کے اس نظام میں نشانہ یا تو غریب عوام یا پھر اقلتیں بن رہی ہیں۔ اس صورت حال میں لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اسلحے کی صنعتوں کے منافع بخش کاروبار کے تحفظ کے لئے جمہوریت کے اصل حصہ داروں کی زندگیوں کو کب تک داؤں پر لگایا جاتا رہے گا؟