Day: اگست 1، 2021

علی مدیح ہاشمی ماہر نفسیات اور فیض فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے معتمد ہیں۔


آج ن م راشد کی 111 ویں سالگرہ ہے

راشد کو ’نقادوں‘ کی حیرت زدہ چیخوں کی کیا پرواہ ہو سکتی تھی۔ سب سے بڑھ کر انہوں نے فنکار کے تخلیقی کام کو ’آزادی کی شرائط کے تحت‘ دیکھا۔ مختلف حلقوں کی خواہشات کے تابع ادب تخلیق کرنا انہیں بہت ناگوار تھا، چاہے اس خواہش کا اظہار ریاستی کرداروں کی طرف سے ہو یا نظریاتی پنڈتوں کی جانب سے، یہ ان کے نزدیک بہت بڑی ناانصافی تھی۔ اسی طرح جب انہوں نے اپنی موت کے بعد خود کو جلانے کا کہا تو ایسا ہی تھا جیسے انہوں نے…ایک معجزہ برپا کیا…کیوں کہ جب انسان آزادی کیلئے ساری زندگی زنجیریں توڑتا رہا ہو، تو پھر اس سلسلہ کی آخری کڑی کیوں باقی رہے؟